لاہور کسی کی جاگیر نہیں

تحریر انجینئر افتخار چودھری

یہ بات اب ریکارڈ پر ہے کہ سہیل آفریدی نے لاہور اور پنجاب کا محض تین روزہ دورہ کیا۔ نہ کوئی طاقت کا مظاہرہ تھا، نہ کوئی سرکاری حکم، نہ کوئی ادارہ اس کے پیچھے کھڑا تھا۔ مگر اس مختصر دورے پر جس طرح چیخ و پکار مچی، جس انداز میں سوال اٹھائے گئے، اور جس لہجے میں تنقید کی گئی—وہ خود ایک سوال بن گیا۔ سوال یہ کہ آخر ایک منتخب نمائندے کا دوسرے صوبے میں جانا اتنا ناقابلِ برداشت کیوں ٹھہرا؟
خاص طور پر وہ شخص جو آزاد کشمیر کی کرسی پر براجمان ہے، امیر مقام، جس کی گفتگو میں نہ شائستگی تھی، نہ سیاسی وقار، اور نہ ہی کسی آئینی شعور کی جھلک۔ اس پر مستزاد یہ کہ اس کے خاندان کے دیگر افراد بھی “بڑے میاں تو بڑے میاں، چھوٹے میاں سبحان اللہ” کے مصداق اسی لب و لہجے میں سہیل آفریدی پر تنقید کرتے رہے۔ کم از کم ان لوگوں کو تو یہ احساس ہونا چاہیے تھا کہ وہ خود کس منصب پر بیٹھے ہیں، اور زبان کس کے سامنے استعمال کر رہے ہیں۔
یہ سب کچھ اس وقت ہو رہا تھا جب سہیل آفریدی محض عوام سے مل رہا تھا، کارکنوں سے بات کر رہا تھا، اور پنجاب کے بارے میں کوئی منفی جملہ تو درکنار، کوئی تلخ اشارہ تک نہیں دے رہا تھا۔ اس کے برعکس، اس نے وہ بات کہی جو ایک مہذب جمہوری معاشرے میں کہی جانی چاہیے تھی: کہ پنجاب ہو یا کوئی اور صوبہ، وہاں سے آنے والا ہر مہمان عزت اور احترام کا حق دار ہے۔ اس نے اپنی کابینہ اور بیوروکریسی کو یہی ہدایت دی۔ یہ بیان نہیں تھا، یہ ریاستی اخلاق کی تعریف تھی۔
اب ذرا ترازو کا دوسرا پلڑا بھی دیکھیے۔ جن لوگوں کو سہیل آفریدی کا لاہور آنا کھٹک رہا تھا، وہی آج خاموش ہیں جب پنجاب کی وزیراعلیٰ بیرونِ ملک—دبئی—تشریف لے گئی ہیں۔ وجہ کوئی سرکاری اجلاس نہیں، کوئی بین الاقوامی فورم نہیں، بلکہ ذاتی نوعیت کی تقریبات ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ جانا غلط ہے یا نہیں، سوال یہ ہے کہ کس حیثیت میں، کس خرچے پر اور کس اختیار کے تحت؟ اگر یہ ذاتی معاملہ ہے تو پھر نجی طور پر ہونا چاہیے تھا—اور اگر سرکاری حیثیت ہے تو قوم کو اس کی صاف اور شفاف وضاحت ملنی چاہیے۔
یہاں تضاد اپنی انتہا کو پہنچ جاتا ہے۔ ایک طرف تین دن کا عوامی دورہ، جس پر طوفان کھڑا کر دیا گیا۔ دوسری طرف بیرونِ ملک قیام، جس پر مکمل خاموشی۔ یہی دوہرا معیار اصل مسئلہ ہے۔
اور پھر اصل سوال پنجاب کے حالات کا ہے۔ سال 2025 میں اگر ملک کے امن و امان کے اعداد و شمار دیکھے جائیں تو سب سے زیادہ تشویشناک صورتحال پنجاب میں رہی ہے۔ یہ بات اب اعداد و شمار سے ثابت ہے۔ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی ایک تلخ حقیقت ہے، وہاں دہائیوں سے جنگ مسلط ہے، اس پس منظر کو سمجھا جا سکتا ہے۔ مگر پنجاب میں، جہاں سی سی ڈی جیسے ادارے بنائے گئے، جہاں جدید نگرانی کے نظام متعارف کروائے گئے، وہاں قتل و غارت میں اضافہ ایک سنجیدہ سوال ہے۔
ادارے بنانا خود میں کوئی برائی نہیں، مگر اداروں کا سیاسی استعمال، طاقت کا غلط رخ، اور عوامی تحفظ کے بجائے نمائش—یہ سب وہ عوامل ہیں جن کے نتائج آنے والے وقت میں مزید خطرناک ہو سکتے ہیں۔ سی سی ٹی وی اور دیگر نگرانی کے نظام اگر عوام کے تحفظ کے بجائے خوف کی فضا کے لیے استعمال ہوں، تو یہ کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے نیک شگون نہیں ہوتا۔
اب اس سب کے بیچ ایک واضح فرق نظر آتا ہے۔ ایک طرف ایک عوامی نمائندہ ہے، جس کے ماتھے پر طاقت کا غرور نہیں، جو لوگوں میں جا کر کہتا ہے کہ احترام دیا جائے، چاہے مہمان کسی بھی صوبے سے ہو۔ دوسری طرف اختیار میں بیٹھے لوگ ہیں، جو سرکاری وسائل کو ذاتی سہولت سمجھتے ہیں، مگر عوام کے سامنے جواب دہی سے کتراتے ہیں۔
یہ تقابل کسی کی ذات کے خلاف نہیں، بلکہ دو طرزِ سیاست کے درمیان ہے۔ ایک وہ سیاست جو عوام سے جڑی ہے، اور ایک وہ جو اقتدار کے گرد گھومتی ہے۔ ایک وہ سیاست جو احترام بانٹتی ہے، اور ایک وہ جو سوال اٹھانے والوں پر برہم ہو جاتی ہے۔
یہاں ایک اور پہلو بھی واضح ہو جاتا ہے۔ کیپٹن (ر) صفدر، بیٹے کا باپ، جو برسوں سے سیاست میں رہا، ہمیشہ دوسروں کے وسائل اور سہولتوں پر انحصار کرتا رہا، اس خاندان کی سیاسی تاریخ کا حصہ رہا ہے۔ خود کفالت، سادگی اور جواب دہی اس سیاست کے نمایاں اوصاف کبھی نہیں رہے۔ تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ ریاستی وسائل کو ذاتی تقریبات کے لیے کیوں استعمال کیا جائے، جبکہ باپ موجود ہو سکتا تھا، باپ کو شامل کیا جا سکتا تھا؟
لاہور اور پنجاب کے عوام نے اس سارے معاملے میں اپنی روایت قائم رکھی۔ انہوں نے سہیل آفریدی کو عزت دی، محبت دی، اور یہ ثابت کیا کہ پنجاب کی پہچان بدتمیزی نہیں، وسعتِ قلب ہے۔ تنگ نظری اور تلخی کہیں اور سے آتی ہے، پنجاب کی مٹی سے نہیں۔
آخر میں سوال وہی رہ جاتا ہے: اگر ایک وزیراعلیٰ کا بیرونِ ملک قیام اور ذاتی دورہ اتنا بڑا مسئلہ نہیں بن رہا، تو پھر سہیل آفریدی کا تین دن کا عوامی دورہ کیوں تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے؟ اگر اصول ہیں تو سب کے لیے ہوں۔ اگر اخلاقیات ہیں تو اقتدار میں بیٹھے لوگوں کے لیے پہلے ہوں۔
سہیل آفریدی کے رویے اور عوام کے ردِعمل نے ایک بات پھر واضح کر دی ہے: اصل عزت پروٹوکول سے نہیں، کردار سے ملتی ہے۔ اور یہی کردار، خاموش مگر بھرپور انداز میں، آج طاقت کے مراکز کے سامنے ایک مہذب مگر گہرا سوال رکھ گیا ہے—کیا ہم اقتدار کو عوامی امانت سمجھ رہے ہیں، یا ذاتی سہولت؟