تحریر: انجینئر افتخار چودھری
کچھ کالم قلم سے نہیں لکھے جاتے، وہ آنسوؤں سے لکھے جاتے ہیں۔ کچھ تحریریں الفاظ سے نہیں بنتیں، وہ ٹوٹتی سانسوں، لرزتی آوازوں اور بجھتی امیدوں سے جنم لیتی ہیں۔ یہ کالم بھی ایسا ہی ہے۔ یہ کسی سیاسی جماعت کے حق یا مخالفت میں نہیں، یہ کسی لیڈر کے دفاع یا کسی مخالف کی تضحیک کے لیے نہیں۔ یہ صرف اور صرف ایک انسان کی زندگی کے بارے میں ہے۔
یہ سیاست نہیں،
یہ اقتدار نہیں،
یہ انا نہیں،
یہ صرف ایک جان کا سوال ہے۔
میں نے آج ایک نوجوان کو روتے دیکھا۔ وہ کسی جلسے میں نہیں تھا، کسی تھانے میں نہیں تھا، کسی ٹاک شو میں نہیں تھا۔ وہ موت کے سامنے بیٹھا رو رہا تھا۔ وہ تحریکِ انصاف کا کارکن تھا۔ وہی تحریک جس کا نام لینا ایک وقت میں پنڈی جیسے شہر میں آسان نہیں تھا۔ وہی عمران خان، جس کے ساتھ کھڑا ہونا کبھی فائدہ نہیں بلکہ خطرہ سمجھا جاتا تھا۔
اس نوجوان کا نام قاضی اویس ہے۔ وہ کوئی اجنبی نہیں، وہ ہمارے دوست اسد عباس، ایم پی اے کے گھر کے ساتھ ہی رہتا ہے۔ یعنی یہ کہانی کسی دور دراز بستی کی نہیں، یہ المیہ ہماری آنکھوں کے سامنے پل رہا ہے۔ یہ وہ نوجوان ہے جسے ہم جانتے ہیں، جس کے چہرے سے ہم واقف ہیں، جس کی زندگی اب گنتی کے دنوں میں سمٹتی جا رہی ہے۔
قاضی اویس اس وقت کھڑا رہا جب ساتھ دینے والے کم اور ڈرانے والے زیادہ تھے۔ اس نے نہ وزارت مانگی، نہ ٹکٹ، نہ کوئی ذاتی فائدہ۔ اس نے صرف ایک نظریے کا ساتھ دیا۔ آج اسی نظریے کا یہ کارکن اپنے بستر پر پڑا زندگی کی بھیک نہیں، زندگی کا حق مانگ رہا ہے۔
اس کے گردے فیل ہو چکے ہیں۔ ہائی بلڈ پریشر نے اس کے جسم کو اندر سے توڑ دیا ہے۔ وہ میرے سامنے بیٹھا تھا، آنکھوں میں خوف، آواز میں کپکپاہٹ اور لفظوں میں بےبسی۔ اس نے مجھے دیکھا اور کہا:
“انجینیئر صاحب! خدارا کے پی کے کی حکومت سے درخواست کریں کہ میرا علاج بھی فری کرا دیں۔ میں مرنا نہیں چاہتا۔”
یہ کوئی سیاسی مطالبہ نہیں تھا۔
یہ کسی مراعات کی فہرست نہیں تھی۔
یہ زندہ رہنے کی درخواست تھی۔
یہ مان لینا چاہیے کہ جس ملک میں طاقتور علاج کے لیے جہاز پکڑ لے اور غریب دعا پر گزارا کرے، وہاں نظام نہیں، ظلم چلتا ہے۔
میں یہ کالم خاص طور پر سہیل آفریدی اور شفی جان کے نام لکھ رہا ہوں۔ میں ان سے بحث نہیں کر رہا، میں ان سے الزام نہیں لگا رہا، میں ان سے ہاتھ جوڑ کر اپیل کر رہا ہوں:
خدارا قاضی اویس کو بچا لیجیے۔
یہ وہی نوجوان ہے جس نے عمران خان کا ساتھ اس وقت دیا جب پنڈی میں کوئی اس کا نام لینے والا نہیں تھا۔ جب نظریہ تنہائی کا دوسرا نام تھا اور مفاد دوسری سمت کھڑا تھا۔ اگر آج قاضی اویس مر گیا تو یہ صرف ایک فرد کی موت نہیں ہوگی، یہ وفاداری کی موت ہوگی۔
میں اپنی تحریکِ انصاف کے تمام کارکنوں، عہدیداروں اور ذمہ دار لوگوں سے اپیل کرتا ہوں۔ خدا کے لیے، اس وقت صدقہ بعد میں دیجیے، پہلے ایک انسان کو بچا لیجیے۔ نظریات کتابوں میں محفوظ ہو سکتے ہیں، مگر انسان قبر میں چلا جائے تو واپس نہیں آتا۔
کارکن نعرے کے وقت یاد آتا ہے،
مگر بیماری کے وقت بوجھ بن جاتا ہے—
یہی سب سے بڑا دھوکہ ہے۔
اور اب میں اس سوچ سے بھی سوال کرنا چاہتا ہوں جو یہ دعویٰ کرتی ہے کہ سب کچھ ٹھیک ہے، کہ نظام بہترین ہے، کہ علاج کی کوئی کمی نہیں۔ اگر واقعی سب کچھ اتنا ہی شاندار ہوتا تو پھر سوال یہ ہے کہ ملک کے طاقتور اور بااثر لوگ علاج کے لیے بیرونِ ملک کیوں جاتے ہیں؟
اگر یہاں واقعی علاج ہوتا تو فیصلے فائلوں میں نہیں، پاسپورٹوں میں کیوں ہوتے؟
یہ مان لیا جائے کہ غریب کے لیے اس ملک میں بیماری جرم ہے، اور اس جرم کی سزا خاموش موت ہے۔
تو غریب پوچھتا ہے ہے کہ مجھ سے صحت کارڈ کیوں چھین لیا گیا کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ کارڈ نواز شریف نے شروع کیا تھا چلیے یہ مان لیتے ہیں تو پھر نواز شریف کی بیٹی کے دور میں سے بند کیوں کر دیا گیا ہے اس لیے کہ یہ عمران خان ہے شروع کیا تھا
جس دن غریب کے ہاتھ سے علاج چھینا گیا، وہ دن کوئی انتظامی فیصلہ نہیں تھا، وہ دن انسانی المیے کا اعلان تھا۔ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ مریض بددعائیں دے رہے تھے، ڈاکٹر بےبس تھے، عملہ شرمندہ تھا، اور ہر چہرے پر ایک ہی سوال تھا:
“اب ہم کہاں جائیں؟”
وہ لوگ کسی سیاسی جماعت کو نہیں کوس رہے تھے، وہ بےحسی کو کوس رہے تھے۔
یہ کہنا کہ “پیسے دے دیے گئے” ایسے ہی ہے جیسے ڈوبتے انسان کو تصویرِ کشتی پکڑا دی جائے۔ جب علاج مہینوں اور سالوں پر محیط ہو، جب دوائیاں زندگی بھر کا خرچ بن جائیں، تو چند لاکھ روپے کس زخم پر مرہم بن سکتے ہیں؟
جب علاج خیرات بن جائے تو سمجھ لیجیے کہ ریاست مر چکی ہے۔
قاضی اویس کسی دشمن کی اولاد نہیں۔ یہ اسی نظریے کا سپاہی ہے جس کے نام پر ووٹ مانگے گئے، نعرے لگائے گئے اور قربانیوں کے قصے سنائے گئے۔ اگر آج یہی نوجوان مر گیا تو یاد رکھیے، یہ قدرت کا فیصلہ نہیں ہوگا، یہ ہماری بےحسی کا نتیجہ ہوگا۔
یہ کالم کسی کی ذاتی بےعزتی کے لیے نہیں، مگر یہ سوال ضرور ہے کہ جو نظام اپنے کارکن کو بچا نہ سکے، وہ انقلاب کے نعرے کا اخلاقی حق کھو دیتا ہے۔
یہ سوال دشمن نہیں اٹھا رہا،
یہ سوال قبروں سے اٹھ رہا ہے۔
میں پھر دہراتا ہوں:
یہ سیاست نہیں،
یہ اقتدار نہیں،
یہ انا نہیں،
یہ صرف ایک جان کا سوال ہے۔
اگر آج بھی قاضی اویس کو بچایا نہ گیا تو کل کوئی جلسہ، کوئی بیان، کوئی ٹاک شو یہ سوال نہیں روک سکے گا کہ:
“جب تمہارے اپنے مر رہے تھے، تب تم کہاں تھے؟”
اور یاد رکھیے، تاریخ گالیوں کو نہیں،
موقع پر خاموش رہنے والوں کو یاد رکھتی ہے۔
خدارا،
قاضی اویس کو بچا لیجیے۔
یہ کالم ایک اپیل ہے۔
یہ کالم ایک گواہی ہے۔
یہ کالم ایک انسان کی زندگی کی آخری دستک ہے۔
