سیاسی بحران قومی سلامتی کے لئے انتہائی خطرناک

نائب امیر جماعتِ اسلامی، سیکرٹری جنرل مِلی یکجہتی کونسل لیاقت بلوچ نے جمعیت طلبہ عربیہ پاکستان کے سالانہ اجتماع سے کلیدی خطاب کیا، جماعتِ اسلامی کے رہنما جہانگیر ایثار کی نمازِ جنازہ میں شرکاء سے تعزیتی گفتگو کی اور الخدمت فاؤنڈیشن لاہور کے صدر انجینئر حماد رشید کے بیٹے کی ولیمہ تقریب میں شرکت کی اور معززین، صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی بحران قومی سلامتی کے لئے انتہائی خطرناک ہوگیا ہے، سیاست کو بحرانوں سے نکالنے کے لئے قومی سیاسی ڈائیلاگ ہی ناگزیر اور پائیدار حل ہے۔ اسٹیبلشمنٹ آئین سے بالاتر ہر اقدام کررہی ہے اور مجبور و بےکس اقتدار کے رَسیا سیاسی گروہ آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔ سیاسی ا ستحکام سے ہی معاشی، سفارتی استحکام آئے گا۔ پاکستان کا مسلسل امریکی بلاک میں گِرتے چلے جانا خطہ میں پاکستان کو تنہا کررہا ہے۔ پاکستان، ایران، افغانستان اور چین کے مضبوط، بااعتماد اور پائیدار تعلقات ناگزیر ہیں۔ امریکہ نے ہمیشہ فلسطین کے مسئلہ پر معاہدوں کو پامال کیا اور اُس کی ترجیحِ اوّل اسرائیل کا تحفظ اور صیہونیت کی غلامی ہے۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ وزیراعظم میاں شہباز شریف ہواؤں، فضاؤں سے زمین پر آئیں اور ملک کے سیاسی بحران کا پائیدار حل تلاش کریں۔ سفارتی محاذ پر پاکستان یکطرفہ پیش رفت کررہا ہے۔ خطہ میں ایران، افغانستان، چین سے تعلقات سردمہری کا شکار ہورہے ہیں اور انڈیا مقبوضہ جموں و کشمیر میں ظلم، جبر اور قتلِ عام تیز کررہا ہے۔ مجموعی طور پر معاشی استحکام لانے اور امن کے قیام کے لئے قومی سیاسی جمہوری قیادت کو قومی کردار ادا کرنا ہوگا۔ 2024ء انتخابات کے جعلی نتائج کے ساتھ ہائبرڈ نظام قومی سلامتی کے لئے ابتری اور تباہی کا باعث بنا رہے گا۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ حکومت معاشی بہتری کے بِلاجواز گُن گارہی ہے، برآمدات تیزی سے گِررہی ہیں، درآمدات کا بوجھ ناقابلِ برداشت حد تک بڑھ گیا ہے، زراعت میں گندم، کپاس، گنا، آلو، چاول کا کاشت کار/ہاری تباہ ہورہا ہے؛ بجلی، گیس، سرکلرڈیٹ بڑھتا ہی جارہا ہے؛ ٹیکسوں کے ظالمانہ ٹیرف اور سرکاری محکموں کی کرپٹ دھماچوکڑی معاشی پہیہ کو جام کرچکی ہے؛ اسٹاک ایکسچینج جھوٹ، مصنوعی اور سَٹے کے مافیاز کے قبضہ میں ہے۔ وزیراعظم ملک کو درپیش حقیقی بحرانون کا ادراک کریں اور اقدام کریں۔ لیاقت بلوچ نے سوال کے جواب میں کہا کہ چیئرمین پی سی بی محسن نقوی بنگلہ دیش اور سری لنکا کرکٹ بورڈ سے بھی رابطہ کریں اور مشترکہ حکمتِ عملی بنائی جائے۔ ٹی ٹوِنٹی ورلڈ کپ میں شرکت انڈیا کو مزید مُنہ زور اور بنگلہ دیش کو تنہا کرے گی۔ خطہ میں بنگلہ دیش کو تنہا کرے گی، خطہ میں بنگلہ دیش کا اعتماد پاکستان کے لئے ترجیح ہونا چاہئے۔#