راجہ نادر پرویز‘ رن کچھ کے ہیرو

کچہری
میاں منیر احمد

میجر راجہ نادر پرویز خان‘ بھی اس فانی دنیا سے رخصت ہوگئے‘11 نومبر 1942 کو اس دنیا میں اور جنوری 2026 کو دنیا چھوڑ گئے‘ عجب آزاد مرد تھے‘ جری اور بہادر‘ تاریخ کی گواہی ہمیشہ ان کے حق مں رہے گی کہ وہ مشرقی پاکستان بچانے‘ ہندوستان اور اس کی تیار کردہ مکتی باہنی کو تباہ و برباد کرنے والی صفوں میں تھے‘ مجیب حکومت نے انہیں جنگی قدی قرار دیا‘ اور حسینہ واجد ہر قیمت پر یہ جہاں بھی مل جائیں‘ انہیں گرفتار کرکے پھانسی دینے کے لیے بے تاب رہی‘اب وہ خود غدار بن کر بھاگنے پر مجبور ہوئی ہیں‘ راجہ نادر پرویز کو 1965 کی جنگ میں ان کی خدمات پر ستارہ جرات سے نوازا گیا‘ اور ملک بچانے کے لیے1971 میں مشرقی پاکستان بھیجا گیا‘ جہاں انہیں وطن کے دفاع کے لیے مکتی باہنی جیسی غدار تحریک سے واسطہ پڑا‘ راجہ نادر پرویز نے 1963 میں پاکستان ملٹری اکیڈمی، کاکول سے گریجویشن کیا اور 1974 تک فوج میں خدمات انجام دیں‘ وطن کے دفاع کے لیے پہلی جنگ بطور فوجی1965 میں اور انہیں ستارہ جرائت دیا گیا‘ 1971 کی جنگ میں ہندوستان کے خلاف لڑے‘ انہیں مشرقی پاکستان میں تعینات کیا گیا تھا اور وہ 6 پنجاب رجمنٹ کے دستوں کے کمپنی کمانڈر تھے ان کی ٹیم پاکستان نیوی کے جہاز پی این ایس راجشاہی میں سوار ہو کر مشرقی پاکستان پہنچی تھی اور جہاز سے اتر کر ایک مخصوص علاقے میں پوزیشن سنبھال لی تھی‘ راجا نادر پرویز کو پاکستان میرینز بٹالین میں ہتھیاروں کے ماہر کے طور پر شامل کیا گیا تھا‘ اسی دوران انہیں پی این ایس راجشاہی پر حملے کی اطلاع ملی، فوری طور پر قریبی علاقے میں موجود ایک MI-8 ہیلی کاپٹر کوبھیجا اورراجشاہی کے زخمی کمانڈنگ آفیسر کو نکالا‘ 1971 کی جنگ میں مشرقی پاکستان کے جنوبی حصوں میں 6 پنجاب رجمنٹ کے میجر کے طور پر تعینات تھے اس دوران پٹوکھلی، برگنا اور پیروج پور میں انہیں مکتی باہنی سے واسطہ پڑا‘ پٹوکھلی ضلع کے مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کے طور پر خدمات انجام دیں‘ وطن کا دفاع کرتے ہوئے ان کی کمپنی نے دسمبر میں پٹواکھلی پر قبضہ کیا، اور ان کے رجمنٹ کا ایک بڑا دستہ ہندوستان کا راستہ روکنے کے لیے جیسور کے محاذ پر تعینات ہوا‘ یہ وہ وقت تھا کہ جب مکتی باہنی نے قصبے کو گھیرے میں لے رکھا تھا‘ اور یہ خود بھی وہیں محصور ہوگئے وہ 7 دسمبر کو آبی گزرگاہوں سے گزر کر پٹوکھلی سے کھلی آزاد فضا میں آنے کے لیے کامیاب ہوگئے‘ بعد میں سقوط ڈھاکہ ہوا تو جنگی قیدی بن گئے‘ انہیں جنگی قیدی کے طور پر فتح گڑھ‘کیمپ نمبر 45 میں رکھا گیا‘ سات ماہ بعد، وہ چار دیگر افسران کے ساتھ کیمپ سے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوئے اور بھوٹان اور نیپال کے راستے پاکستان پہنچ گئے‘ مجیب حکومت نے انہیں 195 ایک سو پچانوے دیگر فوجی افسروں کے ساتھ جنگی مجرم قرار دیا تھا‘ سیاسی کیرئیر1985 میں شروع کیا‘ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے‘ اس کے بعد مسلم لیگ جونیجو میں آئے اور بعد میں مسلم لیگ نواز میں شامل ہوگئے اس کے بعد وہ مسلسل قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوتے رہے اور 2002–2007 کی اسمبلی میں آخری بار منتخب ہوئے‘ وزیر داخلہ‘ وزیر پانی و بجلی اور وزیر مواصلات بھی رہے‘2013 کو فیصل آباد میں مسلم لیگ(ن) کی پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم پر مقامی مسلم لیگ سے اختلافات ہوئے اور مسلم لیگ چھوڑ کر تحریک انصاف میں شامل ہوگئے‘ راجا نادر پرویز کے ایک کزن طارق پرویز‘ کوئٹہ کے کور کمانڈر تھے‘ اس وقت میں کارگل وار کے باعث ایک خاص کشیدہ ماحول رہا تھا‘ اسی ماحول میں انہوں نے1999 میں اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کی اور اسی پاداش میں جنرل پرویز مشرف نے ڈسپلنری کارروائی کرتے ہوئے انہیں ملازمت سے برطرف کردیا تھا‘ اب وہ ایک خاموش زندگی گزار رہے ہیں‘ بہر حال راجا نادر پرویز بلاشبہ ایک بہادر فوجی افسر تھے‘ اللہ ان کی مغفرت کرے‘ آمین‘ انسان جب دنیا میں آتا ہے ایک خاموش پیغام بھی اپنے ساتھ لاتا‘ وہ خاموش پیغہام یہ ہوتا کہ موت بھی آہستہ آہستہ اس جانب بڑھ رہی ہوتی ہے‘ اس کی زندگی کے دروازے پر دستک دیتی رہتی ہے‘ اور کہتی ہے کہ انسان اپنی زندگی کے گلوں اور پتوں کے بدلتے ہوئے رنگوں کو پہچانے‘ زندگی موسم نہیں کہ بدلتا رہتا ہے‘ بلکہ یہ ایک قانون فطرت ہے ہر انسان نے اپنے انجام کی طرف بڑھنا ہی ہوتا ہے‘ کہاں سے سفر شروع ہوتا ہے اور کہاں جا کر ختم ہوتا ہے‘ بس یہی زندگی ہے‘ زندگی ایک ہدائت بھی ہے‘ اشارہ بھی ہے اور ایک تنیہ بھی‘ نہ انسان کی زندگی اس کی اپنی مرضی اور اجازت سے شروع ہوتی ہے اور نہ موت اس کی مرضی یا اجازت سے آنے کی پابند ہے یہی قدرت کا پیغام اور نشانیاں ہیں‘ نہ موت عمر دیکھتی ہے اور نہ موسم‘ نہ تنے دیکھتی ہے نہ شاخیں اور نہ کونپلیں‘ مسلسل زندگی صرف اللہ کی صفت ہے‘ وہی حی القیوم ہے‘ جو نہ سوتا ہے نہ اسے نیند آتی ہے‘ نہ اس پر خزاں آنی ہے‘ بس ایک انسان ہی جو اپنا گھنسلہ چھوڑ دیتے ہیں‘ اس کی زندگی کے جنگل خاموش ہوجاتے ہیں‘ اور یہ آہ وبکاہ بھی نہیں کرسکتا‘ یہی قدرت ہے اور فطرت کا پیغام‘ انسان کی ہجرت یہی ہے کہ رب کی طرف سے دنیا میں آئے اور پھر دنیا سے رب کی طرف لوٹ گئے‘ جو بھی اس دنیا میں آیا اس نے اسی اصول پر زندہ رہنا ہے اسی اصول کے تابع رہنا ہے‘ یہی حقیقت ہے اور یہی منزل ہے‘