سعودی عرب اسلام کا ایک مضبوط قلعہ

کچہری
میاں منیر احمد
شاہ فیصل شہید سے لے کر شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان تک‘ ہر سعودی حکمران نے پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھا‘ اور پاکستان نے بھی سعودی عرب کو اسلام کا ایک مضبوط قلعہ سمجھا‘ عالمی سیاسی حالات اور تنازعات کی گرم ہوا دونوں ملکوں کے برادرانہ تعلقات کا خیمہ نہیں اکھاڑ سکی‘حرمین شریفین سے اہل پاکستان کا رشتہ اور تعلق انمول ہے‘ جسے مٹایا نہیں جاسکتا‘ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں سعودی عرب کی ایک منفرد اہمیت ہے یہ اس لئے بھی ہے قیام پاکستان سے اب تک خادم حرمین شریفین جو بھی رہے‘ ان سب نے پاکستان کو مضبوط بنانے اور مشکل وقت میں ساتھ دینے میں کبھی بخل سے کام نہیں لیا‘ پاکستان میں سعودیہ کے ہر سفیر نے دوطرفہ تعلقات مضبوط بنانے میں اپنا کردارادا کیا ہے سعودی سفیر الشیخ نواف بن سعید المالکی اس لحاظ سے بھی منفرد ہیں انہیں پاکستان میں ایک طویل عرصہ تک سفارتی خدمات کا موقع ملا اور انہوں نے دونوں ممالک اور دونوں ممالک کے عوام کو یک جان دو قالب بنا دیا‘ انہیں سفارتی ذمہ داریوں کے لیے کسی نئی اسائنمنٹ پر جانا ہے‘ لہذا وہ پاکستان سے نہائت دل چھولینے والی یادیں چھوڑ کر جارہے ہیں‘شیخ نواف بن سعید المالکی نے ایسے وقت میں پاکستان میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں جب خطے کی سیاست تیزی سے بدل رہی تھی مشرقِ وسطیٰ میں نئے چیلنجز تھے اور نئی صف بندی‘ اور خطے میں سلامتی کے مسائل سر اٹھا رہے تھے یہ سب ایسے عوامل تھے، جنہوں نے سفارت کاری کو مزید حساس اور پیچیدہ بنا دیا تھا ان کی سفارتی حکمت عملی نے نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات کو مستحکم رکھا،بلکہ انہیں مزید وسعت بھی دی،ان کے دور میں پاک سعودی اقتصادی تعاون میں نمایاں پیش رفت دیکھنے میں آئی ان کے دور میں سعودی عرب نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے مختلف منصوبوں میں گہری دلچسپی لی گوادر میں آئل ریفائنری کے منصوبے، معدنی وسائل کے شعبے میں تعاون اور توانائی کے مختلف منصوبوں میں پیش رفت ہوئی بلکہ یہ ایک سٹرٹیجک شراکت داری کہی جاسکتی ہے۔ الشیخ نواف بن سعید المالکی نے پاکستانی قیادت کے ساتھ قریبی روابط استوار کیے اور سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے کے لئے مستقل کوششیں کیں۔ پاکستان کو درپیش معاشی مشکلات کے دوران سعودی عرب نے ہمیشہ برادرانہ کردار ادا کیا۔ مالی معاونت، تیل کی مؤخر ادائیگی کی سہولت اور اسٹیٹ بینک میں ڈپازٹس یہ سب اقدامات اس اعتماد کی علامت ہیں‘دفاعی اور سلامتی کے شعبے میں بھی دونوں ممالک کے تعلقات مثالی رہے ہیں۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان عسکری تعاون کی ایک طویل تاریخ ہے۔ مشترکہ مشقیں، تربیتی پروگرام اور دفاعی مشاورت اس شراکت داری کی بنیاد ہیں۔ ان کے دور میں اس تعاون کو منظم بنایا گیا پاکستان سعودی عرب کے دفاعی معاہدے کے پس پردہ بھی ان ہی کی کوششیں کارفرما تھیں۔ شیخ نواف سعید المالکی نے پاکستانی عوام کے ساتھ قریبی تعلق قائم رکھا اور مختلف تقریبات، مذہبی و ثقافتی پروگراموں میں بھرپور شرکت کی۔ تعلیم، ثقافت اور میڈیا کے شعبوں میں بھی ان کے دور میں روابط میں اضافہ ہوا۔ طلبہ کے لئے وظائف، ثقافتی وفود کا تبادلہ، اور مشترکہ تقریبات نے دونوں ممالک کے عوام کو مزید قریب کیا ان کی سفارتی خدمات کا ایک اہم پہلو یہ بھی تھا کہ انہوں نے پاکستان کے مختلف صوبوں اور شہروں کا دورہ کیا۔یہ روایت اس بات کی علامت ہے کہ وہ پاکستان کو صرف دارالحکومت تک محدود نہیں دیکھتے تھے بلکہ پورے ملک کو اپنی سفارتی ذمہ داری کا حصہ سمجھتے تھے۔انہوں نے کاروباری برادری، مذہبی شخصیات،سیاسی قائدین اور سماجی رہنماؤں کے ساتھ رابطے قائم کیے اور ایک جامع سفارتی مکالمہ قائم کیا عالمی سطح پر بھی پاکستان اور سعودی عرب نے یکساں مؤقف اختیار کیا۔ اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے پلیٹ فارم پر مسئلہ کشمیر ہو یا فلسطین کا معاملہ، دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی حمایت کی اس تسلسل میں شیخ نواف سعید المالکی کا کردار نمایاں رہا۔ آج پاک سعودی تعلقات ایک مضبوط درخت کی مانند ہیں جس کی جڑیں عقیدے اور اخوت میں پیوست ہیں اور جس کی شاخیں معاشی، دفاعی اور ثقافتی تعاون کی صورت میں پھیلتی جا رہی ہیں۔ سعید المالکی نے اس درخت کی آبیاری میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔آج جب وہ پاکستان سے رخصت ہوئے ہیں تو یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد، تعاون اور دوستی کی فضاء کو مزید مستحکم کیا۔ ان کی سفارتی بصیرت، متوازن طرزِ عمل اور فعال کردار کو پاکستان میں ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا جو نقوش وہ اپنے کردار سے چھوڑ کر جارہے ہیں وہ تاریخ کا حصہ بن گئے ہیں