نائب امیر جماعتِ اسلامی، سیاسی قومی اُمور کمیٹی کے صدر لیاقت بلوچ نے علماء اکیڈمی کے حج تربیتی پروگرام، الخدمت کے زیراہتمام 26 جوڑوں کی اجتماعی شادیوں کے بڑے پروگرام اور اِمامیہ آرگنائزیشن پاکستان کے تکریمِ شہداء اور اتحادِ اُمّت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام ہی دُنیا کے تمام سیاسی، معاشی بحرانوں کا حل ہے۔ مغربی سرمایہ دارانہ تہذیب اور نظام زمین بوس ہورہا ہے، غزہ اور ایران کے شہداء نے پوری دُنیا میں ظالم اور ظلم کے خلاف بیداری کی عظیم پُرجوش لہر پیدا کردی ہے۔ صدر ٹرمپ کے انسانیت دشمن اقدام اور ہیجانی کیفیت میں بدزبانی امریکی قوم، امریکی منتخب جمہوری اداروں کے لئے بڑی رُسوائی کا باعث ہے۔ پوری دُنیا میں امریکی سفارت خانوں کے سفارت کار اپنے صدر کے جنگی جنون کا جواب دینے میں بےبسی کا شکار ہیں۔ امریکی صدر کا پاگل پن پوری دُنیا کے لئے خطرہ بن گیا ہے۔ بورڈ آف پیس میں شامل مسلم ممالک کے سربراہان فوری طور پر اعلیٰ سطحی سربراہی کانفرنس بلاکر امریکی صدر کو مشرقِ وسطیٰ کا امن تباہ کرنے سے روکیں یا دوسری صورت میں فراڈ بورڈ آف پیس سے الگ ہوجائیں۔ چین اور روس کا موجودہ صورتِ حال میں خاموش تماشائی بنے رہنا زیادہ نقصان کا باعث ہوگا۔ دُنیا کو جنگوں اور اقتصادی تباہی سے بچانے کے لئے دونوں اہم ممالک اپنا فعال کردار ادا کریں۔
لیاقت بلوچ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حجِ بیت اللہ کا عظیم الشان عالمی دینی فقید المثال اجتماع اتحادِ اُمّت کا عظیم الشان نادر موقع ہوتا ہے۔ تمام اسلامی ممالک کے سربراہان حج کے عظیم بابرکت موقع کو عالمِ اسلام کے اتحاد اور اسلام دشمن قوتوں کے سدّباب کے لئے تعمیری لائحہ عمل بنائیں۔ پاکستان سے حرمین الشریفین کے سفر پر جانے والے عازمینِ حج اخلاص، دینی جذبہ کے ساتھ پاکستان کے بہترین سفیر بن کر جائیں اور تمام سعودی قوانین اور حج انتظامات سے متعلق ضابطوں کی مکمل پابندی یقینی بنائیں۔ اللہ تعالیٰ حج کے عظیم اجتماع کو پوری اُمت کے لئے کامیابی اور عزت و وقار کا ذریعہ بنادے۔
لیاقت بلوچ نے سوالات کے جواب میں کہا کہ ایران نے امریکہ اور اسرائیل کی فرعونیت، غرور و تکبر کو خاک میں مِلادیا ہے۔ ٹرمپ صدارت سے بھی الگ ہونگے اور اپنے پاگل پن، جنگی جرائم کی وجہ سے باقی ماندہ زندگی سخت حفاظتی قید میں گزاریں گے۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ عالمی سطح، سفارتی محاذ پر پاکستان کو عزت و وقار ملے تو یہ پوری قوم کا اعزاز ہے۔ حکمران ملک کے اندر سیاسی جمہوری استحکام کے لئے عوام کے ضمیر کی آواز سُنیں، عالمی معاشی بحرانوں سے نمٹنے کے لئے حکومت زراعت اور صنعت کو تحفظ دے، حکومت کے موجودہ اقدامات ٹھوس بنیادوں پر نہیں۔ زراعت و صنعت کا تحفظ اور ترقی قومی معیشت کو مستحکم بنیادوں پر استوار کرنے کا باعث بنیں گے، معاشی سرگرمی بڑھنے سے غربت اور بے روزگاری کا خاتمہ ہوگا۔#
