اسلام آباد: امیر جماعت اسلامی اسلام آباد نصراللہ رندھاوا نے روات بازار میں آتشزدگی سے متاثرہ سٹال ہولڈرز کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے حکومت اور انتظامیہ کی غفلت و بے حسی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روات بازار میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں 200 سے زائد دکانیں مکمل طور پر جل کر خاکستر ہوگئیں جبکہ 200 سے زائد خاندان معاشی بحران کا شکار ہوگئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ متاثرہ تاجروں نے عید کے پیش نظر قرض لے کر سامان رکھا ہوا تھا مگر ایک ہی واقعے نے ان کی سالہا سال کی محنت تباہ کردی۔ نصراللہ رندھاوا نے کہا کہ تاجروں کے مطابق فائر بریگیڈ ایک گھنٹے کی تاخیر سے موقع پر پہنچی، جس کے باعث نقصان میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اتنے بڑے سانحے کے باوجود انتظامیہ، ڈپٹی کمشنر اور منتخب نمائندے متاثرین کے پاس کیوں نہیں پہنچے۔
انہوں نے کہا کہ اگر کسی پوش علاقے میں آگ لگتی تو حکومتی مشینری فوری حرکت میں آجاتی، مگر غریب تاجروں کو بے سہارا چھوڑ دیا گیا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ اس سے قبل پشاور موڑ بازار میں بھی کئی مرتبہ آتشزدگی کے واقعات پیش آئے لیکن آج تک کسی ذمہ دار کا تعین نہیں کیا گیا۔
امیر جماعت اسلامی اسلام آباد نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر متاثرین کے لیے خصوصی امدادی اور بحالی پیکج کا اعلان کرے، روات میں مستقل فائر بریگیڈ اسٹیشن قائم کیا جائے اور اسلام آباد کے تمام بازاروں میں جدید فائر سیفٹی نظام نافذ کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد سے سالانہ 1200 ارب روپے ٹیکس وصول کیا جاتا ہے، اس لیے وفاقی دارالحکومت کے شہری بنیادی سہولیات سے محروم نہیں رہنے چاہییں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے مسائل کی ایک بڑی وجہ بلدیاتی نمائندوں کا نہ ہونا ہے، لہٰذا فوری بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں۔
نصراللہ رندھاوا نے اس موقع پر اعلان کیا کہ الخدمت فاؤنڈیشن اور جماعت اسلامی متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اور عید سے قبل ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔ متاثرہ سٹال ہولڈرز نے بھی حکومت سے فوری مالی مدد کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ایک ایک سٹال پر 20 لاکھ روپے سے زائد کا نقصان ہوا ہے۔
