پریس ریلیز(23-05-2026): نائب امیر جماعت اسلامی، سیاسی قومی اُمور کمیٹی کے صدر لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ مہنگائی، بےروزگاری ، توانائی بحران، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر ناجائز ٹیکسوں کے نفاذ اور حکومتی ناکام معاشی پالیسیوں کے خِلاف حافظ نعیم الرحمن کی کال پر ملک گیر احتجاج نے عوام کے شدید ردعمل کا اظہار کردیا ہے جوکہ نااہل، ناکام حکومت کے خلاف عدم اعتماد کا اعلان ہے۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ مہنگائی، بےروزگاری ، بدترین لوڈشیڈنگ اور پیٹرول ڈیزل کی ناقابلِ برداشت قیمتوں سے پیداواری لاگت بڑھتی جارہی ہے، قومی معیشت کا پھیہ جام ہے، عوام کی قوّتِ خرید عملاً ختم ہوگئی ہے۔عید قرباں پر عوام ونڈ شاپنگ کررہے ہیں، بچوں کو طفل تسلیاں دے رہے ہیں اور حکومتوں، مُقتدِر طبقوں کے خِلاف شدید نفرت اور بغاوت بڑھ رہی ہے۔ معرکہ حق کی کامیابی اور عالمی سفارتی ثالثی کردار قابل فخر ہے لیکن معاشی، سیاسی بحالی محاذ پر حکومت، سول ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی ناکامی عدم استحکام کی بڑی وجہ ہے۔
لیاقت بلوچ نے احتجاجی مظاہرے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ توانائی بحران، آئی پی پیز کا اندھا کنواں، ڈیموں کی تعمیر میں مسلسل تاخیر، نیلم جہلم ہائیڈل پروجیکٹ میں کرپشن اور بجلی پیداوار کی مسلسل بندش، بجلی کی تقسیم کا بحران قومی معیشت کے لئے جان لیوا بن گیا ہے۔ کرپشن کا کینسر قومی وجود کے لئے خطرات کی آخری حد تک پہنچ گیا ہے۔ ہر سرکاری محکمہ لوٹ مار اور ہر معاشی سرگرمی کو بند رکھنے کے درپے ہے۔ بےروزگاری باغی نوجوانوں کے لشکر تشکیل دے رہی ہے، لاوہ پک رہا ہے جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔ 26 ویں اور 27 ویں ترمیم کے ذریعے عدلیہ، پارلیمنٹ، جمہوریت اور انسانی حقوق پر شکنجہ تو سخت کردیا گیا لیکن ملک میں عدم استحکام، دہشت گردی اور عوام کی ناراضگی کنٹرول سے باہر ہورہی ہے۔ 28 ویں ترمیم کیا ہے؟ کسی کو کچھ نہیں معلوم لیکن افواہوں کا سیلاب ملک کا تانا بانا مزید کمزور کررہا ہے۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ عالمی استعماری نظام زوال پذیر ہے، نئی عالمی صف بندی نوشتہ دیوار ہے۔ پاکستان میں بھی اب یہ بوسیدہ، ناکارہ نظام نہیں چل سکتا۔ جماعتِ اسلامی کی “بدل دو نظام” جدّوجہد بروقت اور قومی عوامی آواز ہے۔ ووٹ دینے والے اور ووٹ لینے والے دونوں کو اب اپنا مائنڈ سیٹ بدلنا ہوگا۔ جماعت اسلامی کی ممبر سازی مہم 25 کروڑ عوام کو منظم کرنے کے لئے ہے۔ عوام گراس روٹ لیول پر اپنے حقوق کے تحفظ کے لئے منظم ہونگے تو بابرکت اسلامی انقلاب آئے گا۔ حکومت کی معاشی محاذ پر ناکامی اور عوام دشمن معاشی پالیسیوں کے خلاف جدوجہد تیز ہوگی، عوام کو پھیہ جام، شٹرڈاؤن ہڑتالوں کے لئے حکمران مجبور کرچکے ہیں۔ جماعت اسلامی عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی، عوام لاوارث نہیں ہیں۔#
