اسلام آباد——-
جماعت اسلامی پاکستان کی طرف سے آزاد جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں تشکیل دی گئی کشمیر کمیٹی نے “امن جرگہ” تشکیل دے دیا ہے، امن جرگہ وزیراعظم، صدر مملکت، پاکستانی ریاستی مقتدر شخصیات سے رابطے اور ملاقاتیں کرے گا، جرگہ آزاد جموں و کشمیر کی حکومت، سیاسی جماعتوں ،دینی قیادت اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے بھی ملاقاتیں / رابطے کرے گا۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان کی طرف سے نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ کی سربراہی میں تشکیل دی گئی کشمیر کمیٹی کا اجلاس جماعت اسلامی اسلام آباد کے دفتر میلوڈی اسلام آباد میں ہوا۔ اجلاس کی صدارت لیاقت بلوچ نے کی، اجلاس میں امیر جماعت اسلامی آزاد جموں وکشمیر ڈاکٹر محمد مشتاق خان، نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان
میاں محمد اسلم، جماعت اسلامی آزاد کشمیر کے سابق امراء عبدالرشید ترابی، ڈاکٹر خالد محمود خان، سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی آزاد کشمیر جہانگیر خان، نائب امراء کشمیر نورالباری، محمد صغیر قمر ، امیر جماعت اسلامی اسلام آباد نصراللہ رندھاوا، جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی ،صدر تنظیم تاجران پاکستان کاشف چوہدری، سید سلیم گردیزی، قاضی شاہد حمید، تنویر احمد خان، راجہ ذاکر خان، سردار محمد جاوید اور شاہد اجمل چوہدری نے شرکت کی۔ اجلاس میں آزاد کشمیر کی حالیہ کشیدہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، اس موقع پر لیاقت بلوچ نے کہا کہ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے آزاد کشمیر کے امیر ڈاکٹر محمد مشتاق خان کی طرف سے دی گئی بریفنگ کی روشنی میں یہ کمیٹی تشکیل دی تھی، آج کمیٹی کا پہلا اجلاس ہوا ہے جس میں امن جرگہ تشکیل دیا گیا ہے ، یہ جرگہ وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف، صدرآصف علی زرداری، مقتدر و بااختیار شخصیات اور آزاد جموں و کشمیر کی حکومت، سیاسی جماعتوں اور دینی قیادت سے رابطے اور ملاقاتیں کرے گا تاکہ حالیہ تنازعےکا پرامن حل نکالا جاسکے، لیاقت بلوچ کی سربراہی میں تشکیل دیئے گئے امن جرگے میں
امیر جماعت اسلامی آزاد جموں وکشمیر ڈاکٹر محمد مشتاق خان، نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان
میاں محمد اسلم، جماعت اسلامی آزاد کشمیر کے سابق امراء عبدالرشید ترابی، ڈاکٹر خالد محمود خان، سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی آزاد کشمیر جہانگیر خان، امیر جماعت اسلامی اسلام آباد نصراللہ رندھاوا، صدر تنظیم تاجران پاکستان کاشف چوہدری ،سیکرٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی،سابق صدرآزاد کشمیر سردار مسعود خان، سابق وزیر فرزانہ یعقوب ، جاوید مقبول بٹ، خواجہ سلیم بسمل، سلیم گردیزی، صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن آزاد کشمیر راجہ آفتاب، صدر آزاد کشمیر چیمبر آف کامرس عمر شہزاد جرال ، سابق چیف جسٹس (ر) سید منظور گیلانی ، سابق جسٹس سردار عبدالحمید ، سینیئر صحافی زاہد تبسم، عارف بہار، بریگیڈیئر (ر)الطاف، نائلہ الطاف کیانی، سردار فاروق تبسم، مولانا سیدعطااللہ شاہ اور مولانا امتیاز صدیقی صدر ملی یکجہتی کونسل آزاد کشمیر شامل ہیں۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ اگرچہ آزاد کشمیر میں انتخابات کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا لیکن عوامی مسائل کی بھی بے پناہ اہمیت ہے، امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ رابطے اور مشاورت کی، اور جرگہ تشکیل دینے کا اعلان کیا جس کا آزادکشمیر کے عوام نے خیر مقدم کیا اور عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے بھی اس پر مثبت ردعمل دیتے ہوئے جماعت اسلامی کی ثالثی کی کوششوں کوسراہا۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ حکومتی و ریاستی اداروں کی طرف سے مثبت ردعمل نہیں دیا جارہا۔ جماعت اسلامی نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے مسلسل رابطے اور ملاقاتیں کیں، جب جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی ہے تو حکومت کو چاہیئے کہ وہ فوری طور پر بات چیت کا آغاز کرے۔ آزاد کشمیر کے دانشوروں، سول سوسائٹی بھی اس بات کی مکمل تائید کرتی ہے کہ مذاکرات ہی اس تنازعے کا واحد حل ہیں، لیاقت بلوچ نے کہا کہ مقتدر قوتوں کو بھی اپنی سوچ کو بدلنا چاہیئے ۔
ڈیڈ لاک کی وجہ سے قضیہ کشمیر کو نقصان پہنچ رہا ہے، ہماری اپیل ہے کہ مذاکرات اور امن کا راستہ اپنایا جائے اور تحریک آزادی کشمیر کی قربانیوں کا تقاضا ہے کہ کوئی بھی فریق انا اور ہٹ دھرمی نہ دکھائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ احتجاج کو پرامن رکھنا احتجاج کرنے والوں کی ذمہ داری ہے اور ریاست بھی ایسا ماحول نہ بنائے جس سے احتجاج پر تشدد بنے۔ دونوں جانب سے طاقت کا استعمال اور انسانی جانوں کا ضیاع انتہائی قابل افسوس ہے، پرامن مذاکرات ہی اس مسئلے کا پائیدار حل تلاش کرسکتے ہیں، حکومت اور ریاستی ادارے بااختیار ہیں وہ اس مسئلے کا خود حل تلاش کریں جبکہ پاکستان اور آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت بشمول اپوزیشن اپنے آپ کو اس مسئلے سے لاتعلق نہ کریں اور امن وانسانی جانوں کو بچانے کے لیے آگے بڑھیں، حکومت جن مطالبات کو پہلے تسلیم کرچکی ہے انہی پر بات چیت کا آغاز کرے، انہوں نے کہا کہ انتخابات عوام کا حق اور آزاد کشمیر کے جمہوری کردار کے لیے اہم ہیں ، بروقت شفاف اور غیرجانبدارانہ انتخابات کراکے آزاد کشمیر کے عوام کا مینڈیٹ تسلیم کیا جائے۔
