ساون میں پڑے جھولے، تم ہمیں بھول گئے، ہم تم کو نہیں بھولے
باعثِ افتخار: انجینیئر افتخار چوہدری
ساون برصغیر کا محض ایک موسم نہیں، بلکہ ایک کیفیت، ایک احساس اور ایک تہذیبی ورثہ ہے۔ جب کالے بادل آسمان پر چھا جاتے ہیں، پہلی بارش کی بوند خشک مٹی کو چھوتی ہے اور فضا میں سوندھی خوشبو پھیلتی ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے قدرت نے زندگی کو ایک بار پھر نئی سانس عطا کر دی ہو۔ ساون انسان کے اندر چھپی ہوئی یادوں کو جگا دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اردو ادب میں ساون ہمیشہ محبت، وفا، امید اور انتظار کی علامت رہا ہے۔
اگر آپ روزنامہ نوائے وقت کے پرانے قاری رہے ہیں تو آپ کو وہ خوب صورت مضامین ضرور یاد ہوں گے جن میں ساون، بارش اور خوشبو کو اس انداز سے بیان کیا جاتا تھا کہ محسوس ہوتا تھا بادل بھی انسانوں کی طرح باتیں کر رہے ہیں، اور ننھی کلی شگوفہ بننے سے پہلے ہوا سے سرگوشیاں کر رہی ہے۔ یہی تحریریں ہمارے اندر موسموں کو محسوس کرنے کا سلیقہ پیدا کرتی تھیں۔
ہر سال ساون آتا ہے تو میرے ذہن کے دریچے بھی کھل جاتے ہیں۔ بارش کی ہر بوند اپنے ساتھ کوئی نہ کوئی یاد لے کر آتی ہے۔ کچھ یادیں ذاتی ہوتی ہیں، کچھ قومی، اور کچھ ایسی ہوتی ہیں جو ایک پوری نسل کے شعور کا حصہ بن جاتی ہیں۔
مجھے آج بھی ساون کی وہ بارش یاد ہے جب یومِ آزادی قریب تھا۔ آسمان سے موسلا دھار بارش برس رہی تھی، مگر ایک قافلہ بھیگتے ہوئے بھی اپنے سفر پر رواں تھا۔ ہاتھوں میں سبز ہلالی پرچم تھے، ہونٹوں پر پاکستان زندہ باد کے نعرے تھے اور دلوں میں ایک بہتر مستقبل کی امید تھی۔ اس قافلے کی نظامت کرنے کا اعزاز مجھے حاصل تھا۔ بارش ہمارے کپڑوں کو بھگو رہی تھی، مگر ہمارے حوصلوں کو نہیں۔
اس روز بہت سے لوگوں نے ہمارا مذاق بھی اڑایا۔ ایک شخص نے طنزیہ انداز میں کہا، “یہ چند نوجوان ہیں، موسم بدلے گا تو یہ بھی بدل جائیں گے۔” اس وقت شاید اسے معلوم نہیں تھا کہ تاریخ ہمیشہ چند لوگوں کے یقین سے لکھی جاتی ہے، ہجوم سے نہیں۔
وقت گزرتا گیا۔ وہی نوجوان عمر کی مختلف منزلیں طے کرتے گئے۔ کچھ کے بال سفید ہوگئے، کچھ دنیا سے رخصت ہوگئے، مگر ان کے خواب زندہ رہے۔ پھر ایک وقت آیا جب انہی نوجوانوں کی جدوجہد نے پاکستان کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کی بنیاد رکھی۔ یہ تبدیلی کسی ایک شخص کی نہیں بلکہ ان ہزاروں کارکنوں کے یقین، صبر اور مسلسل جدوجہد کی علامت تھی جو برسوں تک ہر موسم میں اپنے نظریے کے ساتھ کھڑے رہے۔
ساون کی بارشیں آج بھی مجھے وہی دن یاد دلاتی ہیں۔ ایسے لمحوں میں دل سے بے اختیار ایک مصرعہ نکلتا ہے:
“ساون میں پڑے جھولے، تم ہمیں بھول گئے، ہم تم کو نہیں بھولے۔”
یہ مصرعہ میرے لیے صرف شاعری نہیں بلکہ وفاداری، یاد اور امید کی علامت ہے۔ وقت بدل جاتا ہے، اقتدار بدل جاتے ہیں، حالات بدل جاتے ہیں، مگر کچھ خواب اور کچھ کردار انسان کے دل سے کبھی نہیں نکلتے۔
ساون صرف یادوں کا موسم نہیں بلکہ عمل کا بھی موسم ہے۔ یہی وہ وقت ہے جب زمین نئی زندگی قبول کرتی ہے، جب ایک ننھا سا پودا چند ماہ بعد تناور درخت بننے کی بنیاد رکھتا ہے۔ شاید اسی لیے ہمارے دین نے بھی درخت لگانے کو عظیم نیکی قرار دیا ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اگر کسی کے لگائے ہوئے درخت سے انسان، پرندہ یا جانور فائدہ اٹھائے تو وہ اس کے لیے صدقہ ہے۔
آج پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے سنگین خطرات سے دوچار ہے۔ کہیں شدید گرمی، کہیں بے موسم بارشیں، کہیں پانی کی قلت اور کہیں جنگلات کی تیزی سے کٹائی۔ ایسے حالات میں درخت لگانا محض ماحولیات کا موضوع نہیں بلکہ قومی بقا کا سوال بن چکا ہے۔
چند برس پہلے اس وطن میں شجرکاری کی ایک ایسی تحریک اٹھی جس نے لاکھوں نوجوانوں کو ماحول کے تحفظ کی طرف متوجہ کیا۔ اختلافات اپنی جگہ، لیکن اس تحریک نے یہ شعور ضرور پیدا کیا کہ ترقی صرف سڑکیں اور عمارتیں بنانے کا نام نہیں بلکہ درخت اگانے، پانی بچانے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک محفوظ ماحول چھوڑنے کا نام بھی ہے۔ قومیں انہی کاموں کو یاد رکھتی ہیں جو ان کے مستقبل سے جڑے ہوں۔
ہمیں اس بحث میں نہیں پڑنا چاہیے کہ یہ منصوبہ کس نے شروع کیا یا کس نے مکمل کیا۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اس سوچ کو آگے بڑھایا؟ اگر جواب نفی میں ہے تو ہمیں اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔
اگر پاکستان کے ہر شہری نے صرف چار درخت لگا کر ان کی حفاظت کا عہد کر لیا تو چند برسوں میں ہمارے شہروں کی فضا بدل سکتی ہے۔ لیکن درخت لگانے سے بھی زیادہ ضروری ان کی حفاظت ہے، کیونکہ پودا لگا دینا آسان ہے، اسے تناور درخت بنانا اصل امتحان ہے۔
میں ہمیشہ یہ سمجھتا ہوں کہ یومِ آزادی کا سب سے خوبصورت جشن وہ ہوگا جب ہر پاکستانی اپنے گھر، اپنے گاؤں، اپنے سکول، اپنی مسجد یا اپنے شہر میں ایک پودا ضرور لگائے۔ اگر ہمارے قومی پرچم کے ساتھ ایک پودا بھی ہماری پہچان بن جائے تو آنے والی نسلیں ہمیں دعاؤں میں یاد کریں گی۔
پاکستان کی دھرتی نیم، شیشم، شہتوت، دیسی کیکر، برگد اور پیپل جیسے درختوں کی امین ہے۔ یہ درخت صرف سایہ نہیں دیتے بلکہ ہماری تہذیب، ہماری ثقافت اور ہماری بقا کی علامت بھی ہیں۔
آج ساون کی بارش کھڑکی پر دستک دیتی ہے تو یوں لگتا ہے جیسے قدرت خود ہم سے مخاطب ہو کر کہہ رہی ہو کہ اگر تم نے آج ایک بیج بو دیا تو کل یہی بیج تمہاری نسلوں کے لیے رحمت بن جائے گا۔ قدرت کا قانون بھی یہی ہے کہ جو قومیں زمین سے محبت کرتی ہیں، زمین بھی انہیں اپنی نعمتوں سے نوازتی ہے۔
آئیے اس ساون میں ہم صرف بارش سے لطف اندوز نہ ہوں بلکہ اپنے حصے کا چراغ بھی روشن کریں۔ ایک درخت لگائیں، ایک بچے کو ماحول سے محبت سکھائیں، ایک امید کو زندہ کریں اور ایک بہتر پاکستان کی بنیاد رکھنے میں اپنا کردار ادا کریں۔
آخر میں پھر وہی مصرعہ دل کی گہرائیوں سے ابھرتا ہے:
“ساون میں پڑے جھولے، تم ہمیں بھول گئے، ہم تم کو نہیں بھولے۔”
شاید یہی ساون ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ خواب کبھی مرتے نہیں، نظریے کبھی ختم نہیں ہوتے اور نیک نیت سے بویا گیا ہر بیج ایک نہ ایک دن ضرور تناور درخت بنتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمارے وطنِ عزیز پاکستان کو ہمیشہ امن، خوشحالی، انصاف اور اتحاد کی نعمتوں سے مالامال رکھے، ہماری زمین کو سرسبز و شاداب بنائے، ہمارے دریاؤں میں برکت عطا فرمائے، ہمارے جنگلات میں اضافہ فرمائے اور ہمیں اپنی دھرتی سے سچی محبت کرنے کی توفیق دے۔
پاکستان زندہ باد، سبز پاکستان پائندہ باد۔
