احمد عمران باجو ہ کی عوام کے ساتھ گفتگو
اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں 26 اگست کو عید میلادالنبی کی صبح گائنی وارڈ کی نرسری میں اچانک لگنے والی آگ نے 14 نومولود بچوں کی جان لے کر پورے ملک کو سوگوار کر دیا۔ اس وارڈ میں مجموعی 15 نومولود بچوں کو رکھا گیا تھا اور میڈیا رپورٹس کے مطابق سانحہ کے وقت ان بچوں کی نگہداشت کے لیئے ایک نرس کے سوا ہسپتال کا کوئی عملہ وارڈ میں موجود نہیں تھا جبکہ نرس صرف ایک بچے کو وارڈ سے بحفاظت باہر لا پائی اور باقی تمام 14 نومولود بچے آگ میں جل کر واپس اپنے خالقِ حقیقی کے پاس جا پہنچے۔ وقوعہ کے وقت بچوں کی ماؤں سمیت لواحقین میں سے بھی کوئی فرد وارڈ میں نہیں تھا کیونکہ لواحقین میں سے کسی کو بھی وارڈ کے اندر جانے کی اجازت نہیں تھی چنانچہ نومولود بچوں کی مائیں وارڈ کے اندر سے آگ کے شعلے اٹھتے دیکھ کر بے بسی سے ادھر اُدھر بھاگتی، اپنے بچوں کو بچانے کے جتن کرتی اور دھاڑیں مار مار کر روتی رہیں۔ اس حادثے کہ اطلاع ملتے ہی حکومتی مشینری حرکت میں آئی، وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی سیکرٹری صحت کو معطل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے انہیں میٹنگ میں بیٹھنے سے روک دیا۔ وزیراعظم نے اس سانحہ کی تحقیقات کے لیٰے ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے جسے تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئے ہے۔ اس سانحہ نے 7 جون 2012 کو سروسز ہسپتال لاہور میں ہسپتال کے گائینی وارڈ میں اسی طرح لگنے والی آگ سے سات نومولود بچوں کے جاں بحق اور 9 بچوں کے زخمی ہونے کے سانحہ کی یاد تازہ کر دی۔ اب اسی طرز کے پمز ہسپتال میں رونما ہونے والے سانحہ نے سرکاری ہسپتالوں کی کارکردگی اور ان کے انتظامی معاملات پر کئی سوالات کھڑے کر دئے ہیں کیونکہ یہ محض ایک حادثہ قرار دے کر نظرانداز کر دینے والا واقعہ نہیں۔ ان معصوم بچوں کا آگ کی نذر ہونا وفاقی دارالحکومت کے ایک بڑے سرکاری ہسپتال کے انتظامی سسٹم، فائر سیفٹی، نگرانی اور جواب دہی پر سنگین سوالات اٹھا رہا ہے۔ جہاں مائیں اپنے نومولود بچوں کو علاج اور زندگی کی امید کے ساتھ چھوڑتی ہیں وہاں 14 چراغوں کا یوں گُل ہوجانا قومی ضمیر کو بھی جھنجھوڑ رہا ہے۔
