اسلام آباد
نائب امیر جماعتِ اسلامی، سکرٹری جنرل مِلی یکجہتی کونسل لیاقت بلوچ نے جمعیت علماء اسلام کے مرکزی عہدیداران کے وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مفتی محمودؒ نے 1970ء سے 1980ء کے دس سال کے عرصہ میں عالمِ دین، سیاسی رہنما، صوبائی وزارتِ اعلیٰ، اپوزیشن لیڈر اور قومی اتحاد کی نظامِ مصطفٰیؐ تحریک کی قیادت کی اور قومی سیاست میں اپنا بلند مقام پیدا کیا، 1974ء میں عقیدہِ ختمِ نبوتؐ کے تحفظ کےلئے پارلیمنٹ میں قادیانیوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دینے کےلئے مجداہدانہ کردار تاریخ میں امر ہوگیا۔ 1970ء کے انتخابات کے بعد قومی سیاست کو شیخ مجیب الرحمن، ذوالفقار علی بھٹو، مفتی محمود، شاہ احمد نورانی، نوابزادہ نصراللہ خان، پروفیسر غفور احمد، ولی خان، شیرباز مزاری جیسے قدآور سیاسی مدبّر میسّر آئے۔ شیخ مجیب الرحمن، ذوالفقار علی بھٹو اور یحیٰی خان کے اقتدار کے حصول کےلئے سازشی، لالچی اور غیرجمہوری کردار نے قومی سیاست کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔ مفتی محمودؒ نے اپنے دینی سیاسی افکار، جمہوری پارلیمانی مِلی خدمات، علم و تحقیق، خطابت اور قیادت سے اپنا وسیع حلقہ احباب اور اثر و رُسوخ پیدا کیا۔ تعصبات، نفرتوں، فاشزم اور سیاسی بحرانوں میں مفتی محمودؒ نے اکابر رہنماؤں کے ساتھ مِل کر ملک و مِلّت کےلئے آئین، جمہوریت اور پارلیمانی روایات کےلئے شاندار جدوجہد کی۔ قومی اتحاد کی انتخابی مہم اور نظامِ مصطفٰیؐ تحریک کی مدبرانہ قیادت سے مفتی محمودؒ مدبّر قومی رہنما بن کر اُبھرے۔ نوجوان نسل خصوصاً دینی مدارس کے طلبہ کو مسالک اور شدّت و انتہا پسندی سے بالاتر ہوکر اکابر علماء اور قومی قائدین کے نقشِ قدم پر چلنا چاہئے، مسلکی شدّت اور عدم برداشت نوجوانوں کےلئے زہرِقاتل ہے۔
لیاقت بلوچ نے اسلام آباد میں جماعتِ اسلامی کے قائدین، زونل ذمہ داران اور سیاسی انتخابی اُمور کے ذمہ داران سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں الیکشن کمیشن نے انتخابی شیڈول جاری کیا، پانچویں مرتبہ کاغذاتِ نامزدگی جمع ہورہے ہیں لیکن ماحول میں ایک بار پھر انتخابات سے فرار کےلئے حکومتی گماشتہ سازشیں کررہے ہیں۔ مسلم لگ ن کی قیادت عوام کا سامنا نہیں کرپارہی، اب پھر قانونی موشگافیوں اور پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹیوں کے ذریعے اسلام آباد کے عوام کے جمہوری حقوق کی بحالی کے راستہ میں رُکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے عمل کو ملتوی کرنا الیکشن کمیشن کے کردار پر شکوک و شبہات کو مزید گہرے کررہا ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان اب اسلام آباد اور پنجاب میں مقامی حکومتوں کے انتخابات کراکر آئینی ذمہ داری ادا کرے اور مسلم لیگ ن کی وفاقی اور پنجاب کی حکومتیں شہری حقوق کے حصول کے خلاف سازشیں بند کریں۔ خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد بھی مقامی حکومتوں کے انتخاب سے فرار نااہلی اور بدنیتی کو عیاں کرگیا ہے۔#
