نَہ پائے رَفتَن ، نَہ جائے ماندَن،موجودہ صورتحال کیا ہے؟

تجزیہ و تحقیق محمد اجمل خان سینئر جرنلسٹ

عالمی اور علاقائی سیاست کی مختلف صورت حال کا تجزیہ کریں تو حالات اور زمینی حقائق کچھ اس طرح نظر آتے ہیں کہ نَہ پائے رَفتَن ، نَہ جائے ماندَن

کیا 13 نومبر 2026 کو دنیا ختم ہو جائے گی؟

دنیا کے ختم ہونے یا کسی خاص تاریخ پر قیامت آنے کا دعویٰ مکمل طور پر بے بنیاد ہے۔علم نجوم یا افواہوں کی بنیاد پر دی جانے والی ایسی تمام تاریخیں ماضی میں بھی غلط ثابت ہوئی ہیں اور سائنس و دین دونوں کی رو سے قیامت کا وقت کسی انسان کو معلوم نہیں۔ لہٰذا اس قسم کے شوشوں کی کوئی حقیقت نہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران، اسرائیل اور ایٹم بم کے حوالے سے دعویٰ:ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ عرصے میں دعویٰ کیا ہے کہ ان کی پالیسیوں کی وجہ سے ایران جوہری ہتھیار بنانے میں ناکام رہا، ورنہ اسرائیل اور خطے کے دیگر ممالک کو شدید خطرات لاحق ہو جاتے۔

صورتِ حال: امریکی انتظامیہ اور ایران کے درمیان کشیدگی اور مذاکرات کی کوششیں جاری ہیں۔

حقیقت: ٹرمپ کی جانب سے یہ بیانات انتخابی اور سیاسی بیانیے کا حصہ ہوتے ہیں جس کا مقصد خود کو ایک مضبوط بین الاقوامی مصالح کار ثابت کرنا ہوتا ہے۔

پاکستان میں سیاسی صورتِ حال اور عمران خان

پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتِ حال میں افواہوں اور سیاسی بیانیوں کی گرم بازاری رہتی ہے

عمران خان: سابق وزیراعظم عمران خان اڈیالہ جیل میں قید ہیں اور قانونی چارہ جوئی کا سامنا کر رہے ہیں۔ جس پر متضاد دعوے پچھلے چار سال سے زیر گردش ہیں تاہم سچائی گمراہ کن پروپیگنڈے کا شکار ہے عمران خان کی سلامتی سے متعلق تمام خدشات اور افواہیں سیاسی محاذ آرائی کا حصہ ہیں۔زمینی حقائق بھی مختلف نظر آتے ہیں

اسٹیبلشمنٹ: ملک میں یہ تاثر کہ “ٹرمپ کا اقتدار کمزور ہونے پر اسٹیبلشمنٹ توبہ کر کے بیرکوں میں چلی جائے گی” ایک سیاسی تجزیہ یا بیانیہ تو ہو سکتا ہے لیکن پاکستان کی داخلی سیاست اور حکومت کا کردار زمینی حقائق کے بر خلاف ہے ملکی قوانین و انتظام داخلی قوتوں کے ماتحت ہوتا ہے، انہیں کسی غیر ملکی الیکشن کے نتیجے میں یکسر تبدیل نہیں کیا جاتا۔

اسرائیل: بنیامین نیتن یاہو اور حکومت سازی کا بحران

اسرائیل کے پارلیمانی نظام میں عدم استحکام کی وجہ سے نیتن یاہو کو مشکلات کا سامنا رہا ہے:

اگر وہ حکومت نہ بنا سکے

متبادل اتحاد: اپوزیشن جماعتیں مل کر حکومت بنانے کی کوشش کریں گی۔

دوبارہ انتخابات: اگر کوئی بھی فریق اسمبلی (کنیست) میں اکثریت ثابت نہ کر سکا تو آئین کے مطابق دوبارہ انتخابات کرائے جائیں گے۔

دیگر حربے: نیتن یاہو اقتدار میں رہنے کے لیے عدالتوں کے ساتھ محاذ آرائی، اپوزیشن اراکین کو توڑنے یا سیکیورٹی چیلنجز کا سہارا لینے کی کوشش کر سکتے ہیں تاکہ قومی ہنگامی صورتِ حال کا جواز بنا سکیں۔

ایران کی قیادت اور افغانستان-چین اتحاد کی حد

ایران کی حکمتِ عملی:

ایران اس وقت اقتصادی پابندیوں اور خطے میں بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیشِ نظر دفاعی پالیسی اپنائے ہوئے ہے۔ وہ امریکہ کے ساتھ محاذ آرائی اور مذاکرات کے درمیان توازن برقرار رکھتے ہوئے اپنی علاقائی سفارت کاری اور جوہری پروگرام کو بطریقِ احسن سنبھالنے کی کوشش کر رہا ہے۔

افغانستان اور چین کا اتحاد:

چین اور افغانستان کے طالبان حکومت کے درمیان کوئی باضابطہ “عسکری اتحاد” نہیں ہے، بلکہ ان کا تعلق تجارتی اور سیکیورٹی تعاون تک محدود ہے:

اقتصادی مفادات: چین افغانستان کے معدنی وسائل اور ‘بیلٹ اینڈ روڈ’ (BRI) منصوبے میں دلچسپی رکھتا ہے۔

سیکیورٹی خدشات: چین کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ افغان سرزمین چینی مخالف شدت پسند گروہوں کے لیے استعمال نہ ہو۔

حدود: چین نے افغان طالبان حکومت سے تعلقات تو استوار کیے ہیں لیکن وہ خطے کے دیگر ممالک (بشمول پاکستان) کے ساتھ اپنے تعلقات کو متاثر کیے بغیر محتاط انداز میں آگے بڑھ رہا ہے۔

4 نومبر 1960 کا امریکی جریدہ ‘سائنس’ اور 13 نومبر 2026 کی پیش گوئی کا آبادی بڑھنے والا نکتہ درست ہے اور یہی اس دنیا کے خاتمے کی افواہ کی بنیاد ہے۔ جو سچ نہیں ہے

تحقیق کا پس منظر: 1960 میں سائنسی جریدے Science میں Heinz von Foerster، Patricia M. Mora، اور Lawrence W. Amiot کی ایک تحقیقی رپورٹ شائع ہوئی تھی جس کا عنوان “Doomsday: Friday, 13 November, A.D. 2026” تھا۔

حقیقت کیا تھی؟ یہ مضمون دینی یا نجومی پیش گوئی نہیں تھا اور نہ ہی اس میں دنیا کے طبعی طور پر تباہ ہونے کا ذکر تھا۔ یہ ایک آبادیاتی ریاضیاقی ماڈل (Mathematical/Demographic Model) تھا۔

سائنسدانوں کا مقصد: محققین نے یہ دکھانے کی کوشش کی تھی کہ اگر دنیا کی آبادی میں اضافے کی رفتار (Population Growth Rate) 1960 کی دہائی کے تناسب سے ہی بڑھتی رہی، تو 13 نومبر 2026 کو دنیا کی آبادی لامحدود (Infinite) حد تک پہنچ جائے گی اور خوراک و وسائل کے خاتمے کی وجہ سے انسانی نظام بیٹھ جائے گا۔

آج کی صورتِ حال: بعد کی دہائیوں میں آبادی کی شرحِ افزائش دنیا بھر میں کم ہو گئی، جس سے یہ ماڈل غلط ثابت ہو گیا۔ اب 2026 میں اس پرانے مقالے کا ذکر محض سنسنی پھیلا کر سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے، اس کی کوئی حقیقی بنیاد نہیں ہے۔

پاکستان کی معدنیات کون لے جا رہا ہے؟

پاکستان کا معدنی ذخیرہ (سونا، تانبا، لیتھیم، کوئلہ، اور نایاب عناصر) کھربوں ڈالر کا ہے، لیکن اس کی دریافت، نکالنے اور فروخت کا عمل کافی پیچیدہ ہے:

غیر ملکی کمپنیاں: بلوچستان میں ریکوڈک (Reko Diq) منصوبے پر کینیڈین کمپنی Barrick Gold کام کر رہی ہے (جس میں 50٪ حصص کینیڈین کمپنی کے پاس اور 50٪ وفاق و حکومتِ بلوچستان کے پاس ہیں)۔ چنائی اور معدنیات کے دیگر منصوبوں میں چینی کمپنیاں بھی کام کر رہی ہیں۔

علاقائی و غیر ملکی سرمایہ کاری: ریکوڈک اور دیگر معدنی منصوبوں میں سعودی عرب اور خلیجی ممالک کے اداروں کی جانب سے بھی سرمایہ کاری کی پیشکش اور حصص خریدنے کے عمل پر بات چیت جاری ہے۔

اندرونی مسائل: پاکستان کے اپنے پاس جدید ٹیکنالوجی، ریفائنریز اور بھاری سرمایہ نہ ہونے کے باعث خام مال سستے داموں بیرونِ ملک چلاجاتا ہے یا معاہدوں میں غیر ملکی کمپنیوں کو بڑا حصہ دینا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ مقامی سطح پر شفافیت کی کمی اور بدعنوانی کی وجہ سے اس کا براہِ راست فائدہ عوام تک نہیں پہنچ پاتا۔

پاکستان میں ‘طاقت کا کھیل’ کب ختم ہو گا؟

پاکستان کی 79 سالہ تاریخ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اقتدار اور طاقت کا توازن (Power Dynamics) کسی ایک سیاسی تبدیلی سے یکسر ختم نہیں ہوتا۔

طویل المدتی تناظر: تاریخ اور سیاسی سائنس کے مطابق طاقت کا یہ کھیل فوری طور پر ختم ہوتا دکھائی نہیں دیتا، بلکہ یہ عمل آئندہ چند دہائیوں تک مختلف شکلوں میں جاری رہ سکتا ہے۔

اصلی وجہ: جب تک آئینی اداراتی توازن (Constitutional Balance)، عدلیہ کی مکمل آزادی، اور پارلیمنٹ کی حاکمیت کو عملی طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا، پاور سٹرکچر برقرار رہتا ہے۔

تغییر کی شرائط: یہ کھیل صرف اس صورت میں کمزور ہو سکتا ہے جب:

سیاسی جماعتیں اپنے ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر ایک میثاقِ جمہوریت یا معاشی معاہدے پر متفق ہوں۔

ملک میں معاشی خودانحصاری آئے تاکہ بیرونی یا اندرونی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ پر انحصار کم ہو۔

قانونی حکمرانی (Rule of Law) کے سامنے تمام طاقتور طبقات جوابدہ ہوں۔
دل ڈرتا ہے ، زبان میں لغزش ہے ، ہاتھ کانپتے ہیں ، طاقتور اب زیادہ سے زیادہ یہ کرسکتا ہے کہ عمران خان کو ختم کردے۔ طاقتور نے بہت سے ایسے کام کیے جنکی توقع نہ تھی ، امید نہ تھی۔ اس ایک کے علاوہ وہ کونسی انہونی ہے جو رہتی ہے؟

یہ کہنا بھی مشکل ، یہ سوچنا اور تصور کرنا بھی مشکل۔ پچھلے کئی سالوں سے ہم جیسے کئی ہزاروں کی دنیا اس ایک آدمی کے گرد گھومتی ہیں۔ تصویریں اسکی ، ذکر اس کا ، مشکلات اسکے نام کی امیدیں اس کے نام کی۔ ہم میں سے کتنے ہیں جو اسکے نام پر جیتے ہیں اس کے نام پر مرتے ہیں۔

لیکن اگر یہ طاقتور کر بھی گزرے پھر کیا ہوجائے گا ؟ کیا طاقتور کو پڑنے والے جوتوں میں کمی آجائے گی؟ کیا طاقتور اچانک سے معاشی انقلاب برپا کردے گا؟ کیا ملک میں دولت برسنے لگے گی؟ ہر مسئلے کی جڑ طاقتور ہے ، ہر جگہ بدامنی طاقتور پھیلا رہی ہے ، ذلت اور نفرت کا شکار طاقتور ہے۔ …
کیا طاقتورسیاست پر سچ بولتا ہے؟
کیا طاقتور مینڈیٹ چوری پر سچ بولتا ہے؟
کیاطاقتور عمران خان بارے سچ بولتا ہے؟
کیا طاقتور بلوچستان بارے سچ بولتا ہے؟
تو طاقتور کشمیر سے متعلق سچ کیسے بول رہا ہے: امریکی سینٹرل کمانڈ نے کچھ گھنٹے پہلے “ایکس” پر ایک اشتہار دیا ہے کہ جو کوئی ایران کے نیوکلیئر پروگرام اور سائنسدانوں کے بارے میں اطلاعات دے گا اسے امریکہ منتقل کیا جائے گا اور 20 ملین ڈالرز تک انعام دیا جائے گا۔

ایک سپرپاور کی یہ حرکات شرمناک اور خوفناک ہے۔ شرمناک اس کی بےبسی کی وجہ سے اور خطرناک لوگوں کی زندگیاں غیر ذمہ دارانہ حرکت کی وجہ سے۔

اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ ایران کے نیوکلیئر پروگرام کے بارے میں امریکہ اور اسرائیل کو ابھی کچھ زیادہ معلوم نہيں ہے۔ یہ فقط سائنسدانوں کو ڈھونڈ کر مارنے کے چکر میں ہیں۔ کھلوانا بھارت سے پانی تھا، کشمیریوں پر فائر کھول دیا۔واہ ڑے جہاز سیاست زندہ باد