ڈاکٹر راغب نعیمی کو اسلامی نظریاتی کونسل کا دوبارہ چیئرمین مقرر ہونے پر مبارکباد

نائب امیر جماعت اسلامی، سیکرٹری جنرل ملی یکجہتی کونسل لیاقت بلوچ نے علامہ ڈاکٹر راغب نعیمی کو اسلامی نظریاتی کونسل کا دوبارہ چیئرمین مقرر ہونے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل آئینی ادارہ ہے، ادارہ نے ملکی قوانین کو آئینِ پاکستان کے تقاضہ کے مطابق قرآن و سُنت کے دائرے میں لانے کے لیے گرانقدر خدمات انجام دی ہیں اور پارلیمنٹ کے ذریعے پیش کردہ کئی غیراسلامی، غیرآئینی قوانین کے حوالے سے سفارشات پر مبنی اپنی رپورٹس پارلیمنٹ کے روبرو پیش کی ہیں لیکن حکومتیں اور پارلیمنٹ اِن سفارشات کو پارلیمنٹ میں زیرِ بحث لاکر عملدرآمد کے لیے تیار نہیں. ہر حکمران جماعت کو آئین و پارلیمان کا وِرد کرنا تو آتا ہے لیکن قیامِ پاکستان کے مقاصد آئین کے رہنما اُصولوں پر عملدرآمد کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جاتی. خصوصاً اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات اور وفاقی شرعی عدالت کے فیصلوں پر عملدرآمد کو پرِکاہ کی بھی حیثیت نہیں دی جاتی. اسلامی اصولوں اور قرآن و سُنت کی بالادستی پر مبنی احکامات سے انحراف کی وجہ سے لادینیت، مادہ پرستی، مادرپدر آزادی، اِباحیت جیسے انسان دشمن اور معاشرتی بگاڑ پر مبنی خبائث عام اور پاکیزہ معاشرتی اصولوں پر مبنی اسلامی سماجی تہذیبی اقدار زوال پذیر ہیں. وزیراعظم میاں شہباز شریف ملک کے معاشی نظام کو سُود جیسی لعنت سے پاک کرنے کے وفاقی شرعی عدالت کے تاریخ ساز فیصلے کی روشنی میں ملکی معیشت اور بنکنگ سسٹم کو سُود سے پاک کرنے کا روڈ میپ دیں اور اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو پارلیمنٹ، صوبائی اسمبلیوں میں زیربحث لاکر پالیسی سازی میں اس اہم آئینی ادارے کی اہمیت کو تسلیم کریں.
لیاقت بلوچ نے وزیراعظم پاکستان کے اس دعوے کہ آئندہ کارکردگی کی بنیاد پر الیکشن جیتیں گے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومتوں کی کارکردگی یقیناً اہم ہوتی ہے لیکن سیاسی کردار، غیرجانبدارانہ انتخاب، عوام میں عزت، وقار و اعتماد پر مبنی مقام زیادہ اہم ہوتے ہیں. عملاً صورتِ حال یہ ہے کہ انتخاب، حکومت، پارلیمنٹ، صوبائی حکومتیں اور حکمرانی کی چہل پہل موجود ہیں لیکن 25 کروڑ عوام بداعتمادی، بےیقینی اور عدم اطمینان کا شکار ہیں. 2024ء کے انتخابات کے نتیجے میں فارم 47 کی بنیاد پر وجود میں آنے والی حکومتوں کی کوئی ساکھ نہیں. ہر آنے والا دِن عوام کے اندر مایوسی، نفرت اور شدت میں اضافہ کررہا ہے. سیاسی استحکام کے لیے حکومت، اپوزیشن اور اسٹیبلشمنٹ کو آئینی حدود کی پابندی کی طرف پلٹ کر آنا ہوگا.
لیاقت بلوچ نے پنجاب حکومت کی طرف سے شادی تقاریب میں ون ڈش کھانا اور شادی ہالوں میں وقت کی پابندی کی ہدایت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف لاہور میں نہیں پورے پنجاب میں نافذ کیا جائے، ایم ایم اے کے تحت جماعتِ اسلامی نے ہی پارلیمنٹ میں ون ڈِش بل پیش کیا جس کی حکومت سمیت تمام پارلیمانی پارٹیوں نے حمایت کی اور یہ بل پارلیمنٹ کی منظوری سے قانون بن گیا، لیکن بدقسمتی سے آج بھی اس قانون پر عملدرآمد میں کوتاہی برتی جارہی ہے. شادی تقاریب میں والدین، خاندان کے دیگر افراد اور بالخصوص نوجوان بھی قانون کی پابندی کو شعار بنائیں، تاکہ مہذب معاشرتی اقدار فروغ پائیں، بےجا رسوم و رواج کی حوصلہ شکنی ہو اور سب مل جل کر سماجی انصاف، باوقار و باعزت سماجی اقدار کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کریں