پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر ڈاکٹر رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ پاکستان مذاکرات کے لیے کوششیں کر رہا ہے اور چاہتا ہے کوئی ایکشن نہ ہو۔
اسلام آباد میں میڈیا بریفنگ کے دوران ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ساتھ اعلیٰ سطح پر مسلسل رابطہ موجود ہے، پاکستان نے کشیدگی میں کمی کےلیے مخلصانہ کردار ادا کیا۔
ڈاکٹر رضا امیری مقدم کا کہنا تھا کہ ایران نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا، کشیدگی میں اضافے سے خطے کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ ایران خطے میں کسی نئی کشیدگی کا خواہاں نہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے، امریکا کے مطالبات قابل قبول نہیں۔
’امریکی بات چیت کے دعوے زمینی حقائق کے برعکس ہیں‘
ایرانی سفیر نے امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مذاکرات کے دعووں کو زمینی حقائق کے برعکس قرار دے دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حالیہ بیانات سامنے آئے، ٹرمپ کے بیانات میں ایران سے مذاکرات کی آمادگی کے دعوے کیے گئے۔ ایران نے ان دعووں کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات سے متعلق امریکی بیانات کو اندرونی سیاسی مقاصد کےلیے استعمال کیا جا رہا ہے، امریکا عالمی برادری کے سامنے مذاکرات کا تاثر دینے کی کوشش کر رہا ہے، ایران نے واضح کیا کہ ایسے دعوے زمینی حقائق کے برعکس ہیں۔
’پرتشدد واقعات میں گرفتار افراد کا بیرونی ہدایات ملنے کا اعتراف‘
ایرانی سفیر ڈاکٹر رضا امیری مقدم نے کہا کہ 8 جنوری کو اچانک پرتشدد واقعات سامنے آئے، پُرامن احتجاج کے دوران پولیس کی موجودگی حفاظتی اقدام کے طور پر تھی، سیکیورٹی فورسز کو مظاہرین کے تحفظ کی ہدایت تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کے چند شہروں میں منظم ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کی گئی، پُرتشدد عناصر کی تعداد محدود تھی، مگر نقصان شدید ہوا۔ غیر ملکی میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز کے ذریعے اشتعال انگیزی کی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ 8 سے 11 جنوری کے درمیان ایران میں صورتحال انتہائی کشیدہ رہی، 9 سے 12 جنوری کے دوران عوامی سطح پر استحکام کی بحالی کےلیے اجتماعات ہوئے۔ 12جنوری کے بعد ایران میں حالات بتدریج کنٹرول میں آنا شروع ہوئے۔
ایرانی سفیر کا یہ بھی کہنا تھا کہ 13 جنوری کو امریکی صدر کی جانب سے سوشل میڈیا پر بیان سامنے آیا جس بیان میں سرکاری اداروں پر قبضے کی کھلی ترغیب دی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ تشدد کے نتیجے میں ایران میں شہری ہلاکتیں ہوئیں، ان واقعات میں کئی افراد زخمی ہوئے، متعدد گرفتار کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ تحقیقات میں دہشتگرد گروہوں کے روابط سامنے آئے، ملوث عناصر کا تعلق منافقین اور دیگر مسلح گروہوں سے ثابت ہوا، گرفتار افراد نے بیرونی ہدایات ملنے کا اعتراف کیا۔
ڈاکٹر رضا امیری مقدم کا کہنا تھا کہ تشدد کے لیے دو بنیادی اہداف مقرر کیے گئے تھے، پہلا ہدف پولیس اور سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانا تھا، دوسرا ہدف شہریوں میں خوف پھیلانا، خواتین و بچوں کو اُکسانا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ ملک میں امن و امان کی صورتحال اب مکمل طور پر کنٹرول میں ہے، تشدد کا مقصد امریکا کی مداخلت کےلیے جواز پیدا کرنا تھا۔ ایران کو ماضی میں دہشتگردی کا سامنا رہا مگر حالیہ جرائم غیر معمولی تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق مجموعی مالی نقصان بہت بڑا تھا، سرکاری اور فلاحی اداروں کی رپورٹس کے مطابق 317 افراد جاں بحق ہوئے، ایران میں تشدد کے واقعات میں 2 ہزار 427 افراد زخمی ہوئے۔ بڑی تعداد میں شرپسندوں کو گرفتار کیا گیا، تحقیقات کے دوران دہشتگرد نیٹ ورکس کے روابط بے نقاب ہوئے۔
