لبنانی شاعرہ کا سوال اور پاکستان سے ایک جواب
باعث افتخار انجینئر افتخار چودھری
لبنان کی معاصر شاعرہ Suzanne Alaywan نے ایک بڑا خوبصورت مگر گہرا سوال اٹھایا ہے:
“جب ہم پانی اور مٹی سے بنے ہیں، تو ایسا کیوں ہے کہ جب ہم روتے ہیں تو ہم سے پھول نہیں کھلتے؟”
یہ سوال بظاہر شاعری کا ہے مگر اس کے اندر انسان کی پوری تاریخ، اس کی ناکامی، اس کی جدوجہد اور اس کی امید چھپی ہوئی ہے۔ اس سوال کا جواب صرف فلسفہ نہیں بلکہ انسانی تجربہ بھی ہے۔
سب سے پہلے اس شاعرہ کا مختصر تعارف ضروری ہے۔ سوزان علیوان 1974 میں بیروت، لبنان میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد عراقی اور والدہ لبنانی تھیں۔ انہوں نے قاہرہ کی امریکن یونیورسٹی سے صحافت اور ابلاغ عامہ کی تعلیم حاصل کی۔ وہ صرف شاعرہ ہی نہیں بلکہ ایک مصورہ بھی ہیں اور ان کی شاعری عربی ادب میں ایک الگ مقام رکھتی ہے۔ 1994 سے لے کر اب تک وہ متعدد شعری مجموعے شائع کر چکی ہیں جن میں “Café Bird” ، “Angels’ Hideout” ، “Temporary Sun” ، “Blind Lantern” اور “The Gazelle’s Throw” جیسے مجموعے شامل ہیں۔ ان کی شاعری میں انسان کے دکھ، جنگ، محبت اور تنہائی کے موضوعات نمایاں نظر آتے ہیں۔ ؟
یہ شاعرہ ابھی حیات ہیں اور آج بھی عرب دنیا میں ان کی شاعری پڑھی اور سنی جاتی ہے۔
لیکن ان کے سوال کا جواب شاید صرف شاعری سے نہیں دیا جا سکتا۔ اس سوال کا جواب تاریخ، مذہب اور انسانی کردار کے اندر چھپا ہوا ہے۔
قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین پر اپنا خلیفہ بنانے کا فیصلہ کیا تو فرشتوں نے عرض کیا کہ کیا آپ ایسی مخلوق کو خلیفہ بنائیں گے جو زمین میں فساد کرے گی اور خون بہائے گی؟
اسی لمحے ایک عظیم حقیقت ظاہر ہوئی۔ اللہ نے فرمایا کہ میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔
پھر انسان کو زمین پر بھیج دیا گیا۔
یہاں ایک اور کردار سامنے آیا، وہ تھا شیطان۔ اس نے اللہ سے کہا کہ مجھے مہلت دیجئے، میں انسان کو بہکاؤں گا۔ میں اسے غرور، طاقت اور ظلم کی طرف لے جاؤں گا۔
یہی وہ لمحہ تھا جب زمین کی تاریخ شروع ہوئی۔
انسان مٹی اور پانی سے بنا تھا، مگر اس کے اندر دو قوتیں رکھ دی گئیں۔ ایک روشنی کی اور ایک تاریکی کی۔
اسی لئے جب انسان روتا ہے تو اس کے آنسوؤں سے ہمیشہ پھول نہیں کھلتے۔ بعض اوقات انہی آنسوؤں سے نفرت، جنگ اور بربادی بھی پیدا ہو جاتی ہے۔
دنیا کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجئے۔
جب انسان کے اندر شیطان کی جیت ہوئی تو اس نے ظلم کی انتہا کر دی۔
اس کی ایک مثال Adolf Hitler ہے۔ اس شخص نے انسانی تاریخ کے سب سے بڑے المیوں میں سے ایک کو جنم دیا۔ لاکھوں انسان قتل ہوئے، بستیاں اجڑ گئیں، اور انسانیت شرمندہ ہو گئی۔
یہی وہ لمحے تھے جب دنیا نے دیکھا کہ انسان کے آنسو ہمیشہ پھول نہیں بنتے۔
لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔
انسان کے اندر ایک اور قوت بھی ہے — کوشش کی قوت۔
یہی وہ قوت ہے جو انسان کو مٹی سے اٹھا کر ستاروں تک لے جاتی ہے۔
اسی قوت کے بارے میں برصغیر کے عظیم مفکر Abul A’la Maududi سے ایک بار کسی نے سوال کیا کہ آپ تو انقلاب کی بات کرتے تھے، وہ انقلاب کہاں ہے؟
مولانا مودودی نے جواب دیا:
“میرے رب نے مجھے کامیابی کا نہیں، کوشش کا حکم دیا تھا۔”
یہی دراصل انسان کی اصل کہانی ہے۔
کوشش۔
انسان کی پوری تاریخ کوشش کی تاریخ ہے۔
جب کبھی انسان نے ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کی کوشش کی تو امید پیدا ہوئی۔ جب اس نے سچ بولنے کی کوشش کی تو روشنی پیدا ہوئی۔
اسی اصول کو آج کی سیاست میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
پاکستان کی سیاست میں Imran Khan نے بھی ایک خواب دیکھا تھا۔ وہ خواب ایک ایسے معاشرے کا تھا جہاں انصاف ہو، قانون سب کے لئے برابر ہو اور طاقتور بھی قانون کے سامنے جواب دہ ہو۔
لیکن تاریخ کا سفر ہمیشہ سیدھا نہیں ہوتا۔
کئی بار ایسے لوگ راستے میں آ جاتے ہیں جو طاقت اور مفاد کی سیاست کرتے ہیں۔
پاکستان کی حالیہ سیاست میں بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر انتخابی نظام اور ادارے واقعی آزاد ہوتے تو شاید اس خواب کو حقیقت بننے میں زیادہ دیر نہ لگتی۔
کئی ناقدین کا خیال ہے کہ اگر الیکشن کے نظام میں وہ کردار سامنے نہ آتے جن پر سوال اٹھائے جاتے ہیں — جیسے Sikandar Sultan Raja یا Qazi Faez Isa — تو سیاسی منظرنامہ شاید مختلف ہوتا۔
مگر تاریخ کا اصول یہی ہے کہ راستے بند نہیں ہوتے۔
انسان کوشش کرتا رہتا ہے۔
یہی انسان کی اصل طاقت ہے۔
لبنان کی شاعرہ نے پوچھا کہ اگر ہم مٹی اور پانی سے بنے ہیں تو ہمارے آنسوؤں سے پھول کیوں نہیں کھلتے؟
پاکستان سے اس سوال کا جواب شاید یہ ہے:
ہم نے پھول اگانے کی کوشش کی تھی۔
ہم نے اپنے آنسوؤں سے زمین کو سینچنے کی کوشش کی تھی۔
لیکن دنیا میں صرف مٹی اور پانی نہیں ہوتے، یہاں طاقت، مفاد، شیطان اور آزمائش ک بھی ہوتی ہے۔
پھول کبھی فوراً نہیں کھلتے۔
کبھی کبھی انہیں کھلنے میں نسلیں لگ جاتی ہیں۔
انسان کی سب سے بڑی کامیابی یہی ہے کہ وہ کوشش کرنا نہیں چھوڑتا۔
آج بھی اگر دنیا کے کسی کونے میں کوئی انسان ظلم کے خلاف کھڑا ہوتا ہے تو وہ دراصل اسی پھول کو اگانے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ انسان ابھی تک زندہ ہے۔
اگر انسان صرف شیطان کی بات مان لیتا تو شاید زمین بہت پہلے تباہ ہو چکی ہوتی۔
لیکن انسان کے اندر امید باقی ہے۔
اور جب تک امید باقی ہے، کوشش باقی ہے۔
اور جب تک کوشش باقی ہے، پھول اگنے کا امکان بھی باقی ہے۔
اسی لئے ہم اس لبنانی شاعرہ کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں:
ہم مٹی اور پانی سے ضرور بنے ہیں،
مگر ہمارے اندر ایک اور چیز بھی ہے — عزم۔
اور عزم ہی وہ طاقت ہے جو ایک دن آنسوؤں کو بھی پھول بنا دیتی ہے۔پاکستان میں عزم کی گردن پر بوٹ اور اس کے چیلوں کا بوجھ ہے اور انشاءاللہ وہ بوجھ ہٹنے والا ہے اور پاکستان میں پھول کھلنے والے ہیں
