نائب امیر جماعت اسلامی، سابق پارلیمانی لیڈر لیاقت بلوچ نے قومی بجٹ 27-2026ء پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ میزانیوں کی طرح وفاقی حکومت کا موجودہ بجٹ بھی حکومت کی معاشی نااہلیوں، عوام دشمنی کے حربوں کی دستاویز ہے. اِس بجٹ کے نتیجے میں حسبِ دستور مہنگائی، بے روزگاری بڑھے گی، صنعت، زراعت، تجارت کا پہیہ چلانا ناممکن ہوگا. نام نہاد معاشی ماہرین کے پاس معاشی بحران کے خاتمہ کے لئے بنیادی اقدامات کا وژن ہی نہیں. روایتی بجٹ اتحادی حکومت کی باہم بلیک میلنگ کے رویوں کا میزانیہ عوام کی زندگی اجیرن بنادے گا. قرضوں کا خاتمہ، خودانحصاری، خودداری کی معیشت اور سُود کی لعنت کے خاتمہ کا کوئی روڈ میپ موجودہ بجٹ میں نہیں دیا گیا. دفاعی بجٹ میں کیا گیا اضافہ قومی سلامتی کا تقاضا ہے لیکن صوبوں کے ترقیاتی بجٹ سے 1225 ارب روپے کی کٹوتیاں جبکہ غیرترقیاتی اخراجات، حکومتی شاہ خرچیوں، مفت خوری اور عیاشیوں کو ختم نہ کرنا پالیسی سازوں اور حکومت کی ترجیح نہیں. سیاسی بحران کا خاتمہ کئے بغیر
معاشی استحکام کا حصول ناممکن ہے.
لیاقت بلوچ نے ایبٹ آباد (ہزارہ)، چکدرہ (مالاکنڈ) میں صوبائی سیاسی کمیٹیوں کے اجلاس کی صدارت کی. چہان گلیات (ایبٹ آباد) میں مظفرآباد ہیلی کاپٹر حادثہ میں شہید ہونے والے عقیل اعوان کی تعزیت اور جامع مسجد میں خطاب کیا. اِس موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ 12 جون کو پیش کردہ وفاقی بجٹ حسبِ روایت ایک عوام دشمن بجٹ ہے. الفاظ اور اعداد وشمار کے ہیرپھیر کے ذریعے عوام کو بےوقوف نہیں بنایا جاسکتا. عوام مہنگائی، بے روزگاری، بجلی، گیس، پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں، اشیائےخورد و نوش کی مسلسل گرانی سے پریشان ہیں. مئی میں مہنگائی کی شرح ساڑھے 11 فیصد سے متجاوز ہے، 50 فیصد لوگ خطِ غربت سے نیچے چلے گئے، پیداواری لاگت میں بےتحاشا اضافہ سے صنعتی پہیہ جام ہے، تعمیراتی میٹیریل کی مسلسل بڑھتی قیمتوں سے تعمیراتی شعبہ سے وابستہ 40 کے قریب کاروبار شدید متاثر ہیں، بھاری بھرکم ٹیکسوں کے باعث رئیل اسٹیٹ سیکٹر جمود کا شکار ہے. ہر لیٹر پٹرول پر 142 روپے سے زائد لیوی وصول کرکے حکومت عوام پر ظلم کررہی ہے، حکومت کی ساری توجہ میکرواکنامک لیول کے استحکام پر مرکوز ہے، معاشی استحکام، زراعت، صنعت، تجارت کی ترقی اور عام آدمی کی فلاح و بہبود کے لئے میکرو نہیں مائیکرو اکنامک لیول پر ریلیف اقدامات ناگزیر ہیں. حکومتی قرضے 82 ہزار ارب کی بلند ترین سطح تک پہنچ چکے اور اس سال 7 ہزار ارب سے زائد بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لئے حکومت مزید قرض لے گی جس سے عوام مزید مہنگائی کے دلدل میں دھنستے چلے جائیں گے. 18771 ارب کے وفاقی بجٹ میں سے 8054 ارب سُود کی ادائیگیوں میں خرچ ہوں گے. حکومت کو سُودی معیشت سے نجات حاصل کرنا ہوگی اور برآمدات پر مبنی معیشت کو فروغ دینا ہوگا. زرمبادلہ کے ذخائر کا استحکام سودی قرضوں کے مرہون منت ہے، ترسیلاتِ زر میں استحکام کا حکومتی کارکردگی سے کوئی لینا دینا نہیں، یہ تو وہ رقم ہے جو بیرونِ ملک 90 لاکھ پاکستانی اپنے اہل خانہ کی ضروریات پوری کرنے کے لئے ہر سال بھیجتے ہیں. خالی خولی دعوؤں اور اعداد وشمار کے ہیر پھیر کے ذریعے عوام کو بےوقوف بنانے کی بجائے حکومت حقیقی معاشی ترقی کی پالیسی اپنائے. سی پیک جیسا عظیم پاک چین دوستی کا شاہکار منصوبہ سُست روی کا شکار ہے، بھارتی آبی دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لئے بھاشا ڈیم، داسو ڈیم، مہمند ڈیم جیسے اہم اسٹریٹیجک منصوبے فنڈز کی عدم فراہمی کے باعث مسلسل التواء اور تاخیر کا شکار ہیں، تعلیم و صحت جیسے بنیادی شعبے حکومت کی ترجیح نہیں، بلوچستان اور خیبرپختونخوا بدامنی کی آگ میں جل رہے ہیں، اتحادی حکومت مسلسل چار سال سے عوام کو بےوقوف بنارہی ہے. ملکی استحکام کا واحد حل حقیقی عوامی سیاسی مینڈیٹ کے ذریعے نظام کی تبدیلی ہے، نظام کی تبدیلی کے لئے جماعت اسلامی عوام کی واحد اُمید ہے.#
