چاپلوسی کا زہر اور معاشروں کا زوال

باعث افتخار۔ انجینئر افتخار چودھری

“وہ معاشرے جہاں چاپلوسی اور اشارہ کنایہ، میرٹ اور سچائی پر غالب آ جائیں، وقت کے ساتھ کمزور پڑ جاتے ہیں کیونکہ وہ خود احتسابی کی صلاحیت کھو دیتے ہیں۔” یہ محض ایک جملہ نہیں بلکہ ایک گہرا فکری نکتہ ہے، جو انجینیئر ارشد داد جیسے صاحبِ فکر انسان کی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ وہ نہ صرف پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل رہے بلکہ ایک سنجیدہ دانشور کے طور پر بھی جانے جاتے ہیں، جو معاشرتی رویوں اور قومی زوال کے اسباب پر کھل کر بات کرتے ہیں۔
اگر ہم اپنے معاشرے کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیں تو یہ بات کسی حد تک درست محسوس ہوتی ہے کہ ہم نے سچائی، دیانت اور میرٹ کو پسِ پشت ڈال کر خوشامد، چاپلوسی اور اشاروں کنایوں کی سیاست کو فروغ دیا ہے۔ یہ رجحان صرف سیاست تک محدود نہیں بلکہ ہمارے دفاتر، تعلیمی اداروں، کاروباری حلقوں اور حتیٰ کہ سماجی تعلقات میں بھی سرایت کر چکا ہے۔
چاپلوسی دراصل ایک ایسا خاموش زہر ہے جو کسی بھی نظام کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔ جب کسی ادارے میں فیصلہ سازی کا معیار قابلیت کے بجائے خوشامد بن جائے تو وہاں نااہل لوگ آگے آتے ہیں اور اہل افراد پیچھے رہ جاتے ہیں۔ نتیجتاً ادارے کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے اور اعتماد کا فقدان پیدا ہو جاتا ہے۔ یہی حال ایک ریاست کا بھی ہوتا ہے۔ جب قیادت کے گرد ایسے لوگ جمع ہو جائیں جو صرف تعریفیں کریں اور خامیوں کی نشاندہی سے گریز کریں، تو غلط فیصلے بڑھتے جاتے ہیں اور اصلاح کا راستہ بند ہو جاتا ہے۔
پاکستان کی تاریخ اس حقیقت کی کئی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ مختلف ادوار میں ایسے افراد کو اہم ذمہ داریاں سونپی گئیں جو میرٹ پر پورا نہیں اترتے تھے بلکہ صرف اس لیے آگے آئے کیونکہ وہ بااثر لوگوں کو خوش رکھنے کا ہنر جانتے تھے۔ اس کے برعکس جو لوگ سچ بولتے تھے یا اصلاح کی بات کرتے تھے، انہیں اکثر نظر انداز کیا گیا یا سسٹم سے باہر کر دیا گیا۔ یہ طرزِ عمل ایک ایسے دائرے کو جنم دیتا ہے جہاں کمزوری، نااہلی اور کرپشن خود کو مضبوط کرتی جاتی ہیں۔
اشارہ کنایہ بھی ایک دلچسپ مگر خطرناک رویہ ہے۔ جب بات کھل کر کرنے کے بجائے گھما پھرا کر کی جائے، جب اختلافِ رائے کو واضح انداز میں پیش کرنے کے بجائے دبے لفظوں میں چھپایا جائے، تو نہ صرف پیغام اپنی اصل شکل کھو دیتا ہے بلکہ مسائل بھی جوں کے توں رہتے ہیں۔ ایک صحت مند معاشرہ وہ ہوتا ہے جہاں تنقید کو برداشت کیا جائے، اختلاف کو دشمنی نہ سمجھا جائے اور کھل کر سچ بولنے کی حوصلہ افزائی کی جائے۔
بدقسمتی سے ہمارے ہاں سچ بولنا اکثر خطرے سے خالی نہیں ہوتا۔ لوگ اپنی ملازمت، عزت یا تعلقات بچانے کے لیے خاموشی اختیار کر لیتے ہیں یا پھر سچ کو نرم الفاظ میں لپیٹ کر پیش کرتے ہیں۔ یہ رویہ وقتی طور پر فائدہ مند لگ سکتا ہے، مگر طویل مدت میں یہ پورے نظام کو مفلوج کر دیتا ہے۔ کیونکہ جب غلطیوں کی نشاندہی ہی نہ ہو تو اصلاح کیسے ممکن ہو گی؟
انجینیئر ارشد داد کا یہ نقطہ اسی جانب اشارہ کرتا ہے کہ خود احتسابی کسی بھی معاشرے کی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ خود احتسابی کا مطلب صرف یہ نہیں کہ ادارے یا حکومتیں اپنا جائزہ لیں، بلکہ ہر فرد اپنی ذمہ داری کو سمجھے۔ جب ایک استاد دیانتداری سے پڑھائے، ایک ڈاکٹر ایمانداری سے علاج کرے، ایک سرکاری افسر انصاف کے ساتھ فیصلے کرے اور ایک سیاستدان عوامی مفاد کو ترجیح دے، تب جا کر ایک مضبوط معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔
لیکن جب انفرادی سطح پر بھی ہم نے شارٹ کٹس کو اپنا لیا ہو، جب ہم خود بھی سفارش ڈھونڈتے ہوں، جب ہم بھی سچ کے بجائے فائدے کو ترجیح دیتے ہوں، تو پھر اجتماعی سطح پر تبدیلی کی توقع رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ معاشرے کی اصلاح اوپر سے نیچے نہیں بلکہ نیچے سے اوپر ہوتی ہے۔ اگر عوام خود میرٹ اور سچائی کا ساتھ دیں تو قیادت بھی اسی سمت میں مجبور ہو جاتی ہے۔
یہاں ایک اور پہلو بھی قابلِ غور ہے، اور وہ ہے تعلیمی نظام کا کردار۔ ہمارے تعلیمی ادارے اگر طلبہ میں تنقیدی سوچ، سچ بولنے کی ہمت اور میرٹ پر یقین پیدا کریں تو آنے والی نسلیں مختلف ہوں گی۔ مگر اگر تعلیم بھی صرف نمبروں، ڈگریوں اور ظاہری کامیابی تک محدود رہے تو پھر ہم ایسے ہی افراد پیدا کرتے رہیں گے جو حقیقت کے بجائے دکھاوے کو اہمیت دیتے ہیں۔
میڈیا اور سوشل میڈیا بھی اس رجحان کو بڑھانے یا کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر میڈیا صرف سنسنی خیزی اور تعریفوں تک محدود رہے گا تو عوام کو حقیقت کا ادراک نہیں ہو گا۔ لیکن اگر وہ سچ کو ذمہ داری سے پیش کرے، غلطیوں کی نشاندہی کرے اور مثبت تنقید کو فروغ دے تو یہ معاشرے کی اصلاح میں ایک مضبوط ستون بن سکتا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر دور میں سچ بولنے والے موجود رہے ہیں، مگر ان کی تعداد کم رہی ہے۔ یہی لوگ معاشروں کی اصل طاقت ہوتے ہیں۔ وہ مشکل حالات میں بھی حق کا ساتھ دیتے ہیں، چاپلوسی سے دور رہتے ہیں اور اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کرتے۔ ایسے افراد ہی دراصل امید کی کرن ہوتے ہیں۔
پاکستان جیسے ملک کے لیے، جو بے شمار وسائل اور صلاحیتوں کا حامل ہے، سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ وہ اپنے اندر موجود اس کمزوری کو پہچانے۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ صرف بیرونی عوامل یا سازشیں ہماری مشکلات کی وجہ نہیں، بلکہ ہمارے اپنے رویے بھی اس میں شامل ہیں۔ جب تک ہم چاپلوسی کو رد نہیں کریں گے، سچ کو قبول نہیں کریں گے اور میرٹ کو ترجیح نہیں دیں گے، تب تک ترقی کا خواب ادھورا رہے گا۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہو گا کہ انجینیئر ارشد داد کا یہ جملہ محض تنقید نہیں بلکہ ایک دعوتِ فکر ہے۔ یہ ہمیں آئینہ دکھاتا ہے اور یہ سوال اٹھاتا ہے کہ ہم کس سمت جا رہے ہیں۔ کیا ہم ایک ایسا معاشرہ بننا چاہتے ہیں جہاں سچ کی قدر ہو، یا ایسا جہاں صرف خوشامد کرنے والے کامیاب ہوں؟
فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔ اگر ہم نے اب بھی خود احتسابی کا راستہ نہ اپنایا تو وقت کے ساتھ کمزوری ہمارا مقدر بن جائے گی۔ لیکن اگر ہم نے سچائی، دیانت اور میرٹ کو اپنا شعار بنا لیا تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم ایک مضبوط، باوقار اور ترقی یافتہ معاشرہ نہ بن سکیں۔