نائب امیر جماعتِ اسلامی، سیاسی قومی اُمور کمیٹی کے صدر لیاقت بلوچ نے کہا کہ گزشتہ روز وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے جو اقتصادی سروے 26-2025ء پیش کیا ہے وہ خود حکومت کے لئے چارج شیٹ اور بیڈ گورننس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ حکومت مسلسل چوتھے سال معاشی شرح نمو سمیت زیادہ تر معاشی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ فی کس آمدنی، زراعت، صنعت، برآمدات کی ترقی کے اہداف حاصل نہ ہوسکے۔ مہنگائی 7.50 کے مقابلے میں مئی کے مہینے میں 11.66 فیصد کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی۔ زرعی شعبے کی ترقی طے شدہ ہدف 4.5 کے مقابلے میں 2.89 فیصد، صنعتی شعبہ 4.30 فیصد کے ٹارگیٹڈ گروتھ کے برعکس 3.51 پر ، البتہ خدمات کے شعبے میں ترقی طے شدہ ہدف 4 فیصد سے کچھ زیادہ یعنی 4.09 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ ترسیلات زر گزشتہ 11 ماہ میں 33.9 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئیں جوکہ جون کے آخر تک 41 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔ اشیاء کی برآمدات 35.3 ارب ڈالر کے ہدف کے مقابلے میں گزشتہ 11 ماہ کے دوران 28 ارب ڈالر تک محدود رہیں، جبکہ درآمدات 65.2 ارب ڈالر ہدف کے مقابلے میں 63 ارب ڈالر رہیں۔ آج اکنامک سروے پیش کیا جائے گا جس میں مزید صورتِ حال واضح ہوگی۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ گزشتہ تمام بجٹوں کی طرح موجودہ بجٹ بھی آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن کے تحت تیار کیا گیا ہے جس سے عوام کے لئے ریلیف کی کوئی توقع نہیں۔ ہائبرڈ نظام کے تحت فارم 47 کی بنیاد پر قائم حکومت نے عوام کو مہنگائی، بے روزگاری کے سِوا کچھ نہیں دیا۔ موجودہ نظام ناکام ہوگیا ہے، عام آدمی، تنخواہ دار طبقہ اور مڈل کلاس پِس کر رہ گیا ہے۔ عام آدمی اور تنخواہ دار طبقہ پر ٹیکسز کا سارا بوجھ ڈالنے کی بجائے مراعات یافتہ طبقہ سے ٹیکس وصولی یقینی بنائی جائے۔ نئے بجٹ میں غربت کے خاتمہ، روزگار کی فراہمی کے لئے واضح روڈ میپ دیا جائے۔ زراعت و صنعت کی ترقی کے لئے حکومت گزشتہ اور اُس سے پیوستہ کئی سالوں کے اہداف حاصل نہیں کرپائی تو موجودہ بجٹ میں طے کردہ اہداف کیسے حاصل کرے گی؟ حکومت نے گزشتہ ساڑھے چار سالوں میں عوام کو مہنگائی، بےروزگاری، بدامنی، بجلی، گیس، تیل کی ناقابلِ برداشت قیمتوں، ہوشربا ٹیکسز کے سِوا دیا ہی کیا ہے، اِس لئے موجودہ بجٹ کے نتیجے میں بھی عوام کو ریلیف ملنے کی کوئی اُمید نہیں۔ حکومت کا سارا فوکس عوام کے بنیادی مسائل پر توجہ دینے کی بجائے اُن کی جیبوں سے نِت نئے ٹیکسز کے ذریعے پیسے نکالنے پر مرکوز ہے۔ کراچی جیسا میگا سٹی اور معاشی ہب پینے کے صاف پینے جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہے، کئی عشرے گزرنے کے باوجود کراچی کو پانی کی فراہمی کا میگا منصوبہ کے فور وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی عدم توجہی کے باعث التواء کا شکار ہے، تعمیراتی شعبہ زبوں حالی کا شکار، غیرملکی سرمایہ کاری ناپید ہے۔ کراچی سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں 20، 20 گھنٹے تک بجلی لوڈشیڈنگ نے عوام کا جینا محال کردیا ہے۔ بجلی، گیس آتے نہیں البتہ بھاری بھرکم بل تواتر کیساتھ آرہے ہیں۔ بھاشا ڈیم، داسو ڈیم، مہمند ڈیم سے بڑے بجلی اور پانی ذخیرہ کرنے کے منصوبوں کی تکمیل خواب بن کر رہ گئی ہے۔ بھارتی آبی دہشت گردی اور صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم پر تنازعہ کے باعث پنجاب اورو سندھ میں فصلوں کے لئے درکار پانی میسر نہیں۔ صوبہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان مسلسل دہشت گردی کی آگ میں جل رہے ہیں۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ وفاق نے اب اپنی ناکام معاشی پالیسی کا ملبہ صوبوں پر ڈالنے کے لئے دفاعی بجٹ اور سکیورٹی معاملات کے لئے صوبوں سے 1200 ارب روپے کا مطالبہ کیا ہے، دفاعی اخراجات وفاق کی ذمہ داری ہے، صوبوں سے رقم کا مطالبہ کرکے نیا جگاڑ ایجاد کرنے کی بجائے وفاق اپنے غیرترقیاتی شاہانہ اخراجات میں کمی لائے، بیوروکریسی کے اللوں تللوں پر کٹ لگائے، قرضوں پر انحصار کی بجائے زراعت، صنعت کی ترقی پر مبنی معاشی ماڈل اپنائے۔ قرضوں اور ٹیکسز پر انحصار سے آج تک کوئی ملک ترقی نہیں کرسکا۔ معاشی ترقی کے لئے چین، روس، جاپان اور خطے کے دیگر ترقی پذیر ممالک کے معاشی ماڈلز کو اپناکر ملک کو تعمیر و ترقی کی راہ پر گامزن کیا جاسکتا ہے۔ معیشت کی ترقی ملک میں امن کے قیام سے جُڑی ہے۔ ملک میں پائیدار امن کے قیام کے لئے قومی قیادت سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت اور اتفاقِ رائے سے نیا قومی ایکشن پلان اور سیاسی بحران کا خاتمہ کیا جائے۔
10 ہزار اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کا سٹوڈنٹ ویزے پر برطانیہ جاکر پناہ طلب کرنا حکومت کے لئے لمحہ فکریہ اور ملک کے مسلسل بگڑتے تعلیمی نظام اور معاشی بحران کی عکاس ہے، جس سے کمزور ترین درجوں میں شمار کئے جانے والے پاکستانی پاسپورٹ کی مزید تنزلی ہوئی ہے۔
لیاقت بلوچ نے مظفر آباد میں تکنیکی خرابی کے باعث حادثے کا شکار ہونے والے پاک فوج کے ہیلی کاپٹر حادثہ پر دلی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے تمام شہداء کے لئے دُعا اور غمزدہ خاندانوں سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی مِس ہینڈلنگ سے آزادکشمیر میں حالات ایک بار پھر کشیدہ ہوگئے ہیں۔ کشمیری عوام لائن آف کنٹرول پر پاکستان کی پہلی دفاعی لائن ہیں۔ پاکستان سے محبت کشمیری عوام کے دل کی آواز ہے۔ کشمیری عوام سید علی گیلانی کے نعرے “ہم پاکستانی ہیںِ پاکستان ہمارا ہے” کو دِلوں پر سجاکر جیتے ہیں۔ حکومت عوامی ایکشن کمیٹی کے بقیہ مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرے اور باہمی اتفاقِ رائے سے مسائل کو حل کرے۔ کشمیری سیاسی قیادت اگے بڑھ کر فریقین کو مذاکرات میں سنجیدگی اور مسائل کے حل پر آمادہ کرے۔
لیاقت بلوچ نے جنگ بندی اور مذاکراتی عمل کے باوجود امریکہ کی جانب سے ایران پر تازہ حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ کی حواس باختگی اور بےصبری محض ایران نہیں بلکہ خطے میں موجود اُس کے اتحادی عرب ممالک اور خود امریکی عوام کے لئے تباہ کُن ہے۔ ایران پر امریکی اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں آبنائے ہُرمز سے ہر قسم کی تجارت معطل ہے اور اس جنگ کے نتیجے میں امریکی عوام بدترین مہنگائی کا شکار ہیں، اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں 50 فیصد تک اضافہ ہوچکا ہے۔ امریکی عوام اور خود صدر ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کے ارکان بھی صدر ٹرمپ کی پالیسیوں سے نالاں ہیں اور ابھی حال ہی میں امریکی ایوان نمائندگان نے جنگ سے متعلق صدر کے اختیارات میں کمی کی قرارداد منظور کی ہے، جس کی حمایت میں ریپبلکن ارکان نے بھی ووٹ دیا ہے۔ صدر ٹرمپ غییرمنطقی مطالبات کی بجائے حقیقت پسندانہ موقف اپنائیں، ایران کے منجمد اثاثے بحال کریں، آبنائے ہُرمز کی ناکہ بندی ختم کریں اور ایران کے پُرامن ایٹمی پروگرام پر پابندی نیز افزودہ یورینیم کی ضبطگی جیسے غیرمنطقی مطالبات چھوڑ دیں۔ اسرائیل غیراعلانیہ طور پر ایٹمی ہتھیار بناکر خطے کے تمام ممالک سمیت پوری دُنیا کے امن کے لئے خطرہ بنا ہوا ہے۔ امریکہ اپنے بغل بچہ اسرائیل سے کیوں نہیں کہتا کہ وہ ایٹمی ہتھیار تلف کرکے بین الاقوامی قانون کی پاسداری یقینی بنائے؟ وقت آگیا ہے کہ نیتن یاہو اور اُس کی جنگی کابینہ کو فلسطینیوں کے خلاف سنگین جنگی جرائم کے تحت سزا دی جائے اور عالمی برادری مشرقِ وسطیٰ میں آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا وعدہ پورا کرے۔#
