باعث افتخار انجینئر افتخار چودھری
“لوگ رزق کی تلاش محنت میں کرتے ہیں، حالانکہ وہ سخاوت میں پایا جاتا ہے” — حضرت علیؓ
دنیا میں کامیابی کے ہزاروں فلسفے بیان کئے جاتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے زیادہ محنت کرو، کوئی کہتا ہے زیادہ بچت کرو، کوئی کہتا ہے زیادہ سرمایہ جمع کرو۔ بڑی بڑی یونیورسٹیاں، موٹی موٹی کتابیں اور جدید معاشیات انسان کو صرف ایک ہی سبق دیتی ہیں کہ جتنا زیادہ اپنے لئے جمع کرو گے اتنے کامیاب ہو جاؤ گے۔ مگر بعض اوقات ایک سادہ سا گجر چرواہا وہ بات کہہ جاتا ہے جو دنیا کے بڑے بڑے فلسفی بھی نہ سمجھا سکیں۔
گجر قوم صدیوں سے پہاڑوں، چراگاہوں اور وادیوں کی قوم رہی ہے۔ گجر کا تعلق فطرت سے ہمیشہ بہت گہرا رہا۔ شاید اسی لئے گجر کے دل میں آج بھی وہ سادگی، وہ یقین اور وہ سخاوت زندہ ہے جو جدید دنیا میں کم ہوتی جا رہی ہے۔ گجر کی زندگی میں بناوٹ کم اور حقیقت زیادہ ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گجر کی زبان سے نکلی ہوئی سچی بات سیدھی دل میں اتر جاتی ہے۔
چند روز قبل ایک گجر چرواہے کا واقعہ پڑھنے کو ملا۔ ایک شخص نے ایک گجر سے پوچھا کہ تمہارے پاس کتنی بکریاں ہیں اور سالانہ کتنا کما لیتے ہو؟
گجر چرواہے نے بڑے سکون سے جواب دیا:
“میرے پاس بارہ اچھی نسل کی بکریاں ہیں جو مجھے سالانہ چھ لاکھ روپے دیتی ہیں۔”
مگر جب اس شخص نے گجر کے ریوڑ پر غور کیا تو وہاں تیرہ بکریاں موجود تھیں۔ اس نے حیران ہو کر گجر سے پوچھا کہ تم نے تیرھویں بکری کو گنتی میں کیوں شامل نہیں کیا؟
گجر چرواہے نے مسکرا کر ایسا جواب دیا جو دراصل پوری زندگی کا فلسفہ تھا۔ گجر نے کہا:
“اس تیرھویں بکری کے دو بچے ہوتے ہیں۔ ایک کی قربانی کرتا ہوں اور دوسرا کسی غریب اور مستحق کو دے دیتا ہوں۔ اس لئے میں اسے اپنے منافع میں شامل نہیں کرتا۔ یہی تیرھویں بکری باقی بارہ بکریوں کی محافظ ہے اور میرے لئے باعثِ خیر و برکت ہے۔”
یہ صرف ایک جملہ نہیں تھا، یہ گجر کا فلسفہ تھا۔ وہ فلسفہ جو صدیوں سے گجر کے دل میں زندہ ہے۔ گجر جانتا ہے کہ رزق صرف جمع کرنے سے نہیں بڑھتا بلکہ بانٹنے سے بڑھتا ہے۔ گجر کو معلوم ہے کہ اللہ کی راہ میں دیا گیا مال کبھی کم نہیں ہوتا۔
یہی وہ مقام ہے جہاں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا عظیم قول دل میں اتر جاتا ہے:
“لوگ رزق کی تلاش محنت میں کرتے ہیں، حالانکہ وہ سخاوت میں پایا جاتا ہے۔”
یقیناً محنت ضروری ہے۔ اسلام محنت سے نہیں روکتا بلکہ رزقِ حلال کمانے کو عبادت قرار دیتا ہے۔ مگر صرف محنت ہی سب کچھ نہیں۔ اگر صرف محنت سے رزق ملتا تو دنیا کا ہر مزدور امیر ہوتا اور ہر سرمایہ دار مطمئن۔ حقیقت یہ ہے کہ رزق صرف پیسے کا نام نہیں۔ رزق میں سکون بھی شامل ہے، عزت بھی، اولاد کی خوشیاں بھی، صحت بھی اور دل کا اطمینان بھی۔
گجر قوم کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں، گجر ہمیشہ سخاوت اور مہمان نوازی میں آگے رہا ہے۔ ایک غریب گجر بھی اگر پہاڑوں میں کسی مسافر کو دیکھ لے تو اسے دودھ، چائے یا کھانا پیش کئے بغیر نہیں جانے دیتا۔ گجر کے پاس شاید دولت کم ہو مگر دل ہمیشہ بڑا ہوتا ہے۔ یہی دل کی امیری اصل دولت ہے۔
مجھے آج اپنے دوست نور محمد جرال کی وہ بات شدت سے یاد آ رہی ہے۔ وہ کہہ رہا تھا کہ کاغان کی ایک بلند چوٹی پر ایک بوڑھا گجر قرآن پاک پڑھ رہا تھا۔ اس گجر کو نہ عربی زبان آتی تھی اور نہ اس نے کبھی باقاعدہ قرآن پڑھنا سیکھا تھا، مگر ہر سطر کے اوپر وہ ایک ہی جملہ دہرا رہا تھا:
“یا وی سچ ہے… یا وی سچ ہے…”
یہ جملہ سن کر انسان رک جاتا ہے۔ ایک سادہ گجر شاید الفاظ نہ سمجھتا ہو مگر حقیقت کو ضرور پہچان لیتا ہے۔ گجر کا دل صاف ہوتا ہے، اس کا یقین مضبوط ہوتا ہے اور اس کی فطرت دنیا کی چالاکیوں سے پاک ہوتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ گجر زندگی کے اصل راز کو جلد سمجھ لیتا ہے۔ گجر جانتا ہے کہ برکت صرف پیسے کا نام نہیں۔ گجر کے نزدیک برکت سکون کا نام ہے، عزت کا نام ہے، محبت کا نام ہے اور اللہ کی رضا کا نام ہے۔
آج انسان بڑی بڑی گاڑیاں خرید رہا ہے مگر سکون نہیں خرید پا رہا۔ آج انسان کے پاس دولت ہے مگر دل بے چین ہیں۔ جبکہ ایک گجر چرواہا چند بکریوں کے ساتھ پہاڑ پر بیٹھا مطمئن نظر آتا ہے۔ وجہ صرف یہ ہے کہ گجر ابھی تک فطرت کے قریب ہے۔ گجر ابھی تک بانٹنے کے فلسفے کو نہیں بھولا۔
گجر قوم کی اصل خوبصورتی یہی رہی ہے کہ گجر نے ہمیشہ اپنے رزق میں دوسروں کا حصہ رکھا۔ گجر جانتا تھا کہ اگر غریب کے حق کو الگ کر دیا جائے تو باقی رزق محفوظ رہتا ہے۔ اسی لئے گجر کے گھر میں چاہے وسائل کم ہوں مگر برکت زیادہ ہوتی ہے۔
آج جدید معاشرہ گجر کو صرف ایک چرواہے یا دیہاتی کے طور پر دیکھتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ گجر کی سادگی میں وہ حکمت چھپی ہوئی ہے جسے آج کی تعلیم یافتہ دنیا بھی سمجھنے سے قاصر ہے۔ گجر کا فلسفہ سیدھا اور سادہ ہے:
“اللہ کی راہ میں دو، اللہ تمہیں اور دے گا۔”
وہ تیرھویں بکری صرف ایک بکری نہیں تھی، وہ گجر کی سوچ تھی۔ وہ گجر کا یقین تھا۔ وہ گجر کا ایمان تھا کہ جو اللہ کی راہ میں خرچ کیا جائے وہ ضائع نہیں ہوتا بلکہ پورے رزق کی حفاظت بن جاتا ہے۔
گجر قوم کی تاریخ قربانی، سخاوت اور وفاداری سے بھری پڑی ہے۔ گجر نے ہمیشہ دوسروں کے لئے آسانیاں پیدا کیں۔ یہی وجہ ہے کہ گجر کے پاس اگر دولت کم بھی ہو تو دل کی امیری ضرور ہوتی ہے۔
آج ہمیں پھر سے گجر کے اسی فلسفے کی طرف لوٹنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کو صرف یہ نہیں سکھانا کہ زیادہ پیسہ کیسے کمایا جاتا ہے بلکہ یہ بھی سکھانا ہوگا کہ غریب کا حق کیسے ادا کیا جاتا ہے۔ ہمیں انہیں یہ بتانا ہوگا کہ اصل کامیابی صرف امیر بننے میں نہیں بلکہ دل بڑا رکھنے میں ہے۔
وہ سادہ گجر چرواہا شاید کسی یونیورسٹی میں نہیں پڑھا تھا، مگر وہ زندگی کا وہ راز جانتا تھا جسے آج کی دنیا بھول چکی ہے۔
اور شاید اسی لئے اس گجر کی تیرھویں بکری باقی بارہ بکریوں کی محافظ تھی۔
