سید عبدالطیف شاہ

سید عبدالطیف شاہ
عصا نہ ہوتو کلیمی ہے کار بے بنیاد
جناب بھٹو کی بیٹی‘ محترمہ بے نظیر بھٹو کو شہید ہوئے‘ انیس برس ہونے کو ہیں‘ یہ انیس برس بہت بھاری تھے‘ آج محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے شیدائی‘ عظیم سیاسی کارکن‘ ایک مخلص انسان انب محمد رصوی بھی یہ بوجھ لیے دنیا فانی کو چھوڑ کر بے شمار راز سینے میں لے کر زمین میں اتر چکے ہیں‘ اور ابدی نیند جا سوئے ہیں‘ اللہ کریم انسانوں سے پیار کرتا ہے‘ اس نے ضرور اپنے فرشتوں سے کہا ہوگا کہ آج میرے پاس انسانوں کو پیار کرنے والا انسان آیا ہے لہذا اس کا استقبال کرو‘ اللہ تعالی ابن رضوی کی قبر کو نور سے بھر دے‘ آمین ثم آمین‘ ابن رضوی ایک انسان تھے‘ ایک سیاسی کارکن بھی تھے‘ دوست بھی تھے‘ بھائی اور بیٹے بھی تھے‘ انہوں نے اپنے ہر ایک رشتے اور تعلق کی لاج نبھائی‘ اور اپنی بساط سے بڑھ دوسرے کے کام آنے کی کوشش کی‘ پاکستانی سیاست میں بے شمار نام ہیں‘ مگر بعض نام ایسے ہیں جو اپنی محنت، ویژن اور عزم کے ساتھ کام کرکے ایک تاریخ رقم کرتے ہیں، ابن رضوی بھی اْنہی میں سے ایک تھے‘ وہ پس ماندہ گھرانے سے تعلق رکھتے تھے‘ ان کے گھرانے میں ایک اور عظیم انسان عون رضوی نے مولا علی مرتضی رح کی شان کی حفاظت کرتے ہوئے جان دی‘ ابن رضوی بھی مرقع اخلاق تھے‘ انہوں نے ایک غریب سیاسی کارکن ہوتے بھی سیاست کو ایک نئی جہت دی بلکہ سیاست کو معتبر بھی بنایا اور اپنی صلاحیتوں کو منواتے ہوئے اپنے گھرانے کی سیاسی اور سماجی خدمات کے لیے اخلاقی روایات کو آگے بڑھایا‘ وہ پیپلزپارٹی میں رہے‘ پارٹی کے یوتھ ونگ میں رہے‘ اور سینٹرل سیکرٹریٹ میں بھی آفس سیکرٹری رہے‘ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت تک‘ یہ سینٹرل سیکرٹریٹ میں رہے‘ اور کم وسائل کے باوجود ذمہ داری نبھاتے رہے‘ ان میں بہت سی خوبیاں تھیں‘ محنت‘ دیانت‘ اخلاقیات، خاندانی اقدار، سماجی رہنمائی کا مرکب تھے‘ یہی خوبیا ں انہیں ایک ممتاز سیاسی کارکن بناتی ہیں انہوں نے سیاست کے ہر پلیٹ فارم اور سطح پر نہائت واضح اور جرائت مندانہ موقف اپنایا۔ وہ اْن چند سیاسی کارکنوں میں جنہوں نے سیاست اور سماجی اقدار کو یکجا کیا، اْن کی وفات پورے سیاسی منظرنامے کے لئے وہ خلاء ہے جو شاید کبھی پْر نہیں ہو پائے گا۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنی جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور اْن کے اہلِ خانہ کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی ہمت اور صبرِ جمیل عطاء کرے۔ آمین!!! وہ اپنا شاندار سیاسی کیرئیر چھوڑ کر دنیا سے رخصت ہوئے ہیں‘ انہیں سیاسی اور سماجی خدمات کے اعتراف کے طور پر ضرور ایوارڈ ملنا چاہئے وہ کمال کے سیاسی کارکن تھے انہوں نے سیاست اور سماجی خدمات دونوں کو ساتھ ساتھ رکھا، دونوں ہی میدانوں میں جھنڈے گاڑے۔ان کی بات میں‘ ان کی رائے میں وزن ہوتا تھا، مختلف سیاسی پوزیشن پر رہے وہ اظہارِ رائے اور شخصی آزادیوں کی توانا آواز تھے،اپنے موثر نقطہ نظر کے باعث پہچانے جاتے تھے‘ ان کی وفات نے نہ جانے کتنے دلوں کے تار چھیڑ دیے۔ کتنوں کے زخموں کا موم ادھیڑ ڈالا۔ جانے وہ تنگ دستی کی کتنی دہکتی دوپہریں دیکھ کر رخصت ہوئے ہیں‘ وہ سیلف میڈ تھے یہ ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جو منہ میں سونے یا چاندی کا چمچہ لے کر پیدا نہیں ہوتے۔ اُن کی پشت پر جاگیریں ہوتی ہیں نہ کارخانے، بڑے بڑے کاروبار ہوتے ہیں نہ سیم وزر اُگلنے والے عُہدے اور مناصب۔ وہ کسی پتھریلی زمین سے پھوٹ نکلنے والے پودے کی طرح ہوتے ہیں جس کی چھوٹی چھوٹی، نیم جاں سی جڑیں، مرطوب مٹی اور پانی سے بہت دیر تک محروم رہتی ہیں۔ پروان چڑھانے اور برگ وبار لانے والی مہربان ہوائیں اُن سے کترا کے گزر جاتی ہیں ”سیلف میڈ“ در اصل ”خودساز“ ہوتا ہے‘ یا اسے یہی لفظ دیا جاسکتا ہے لیکن سیلف میڈ وہ تیشہ ہے جو سنگلاخ پہاڑ بھی چیر کر رکھ دیتا ہے ایسے ہی لوگوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ”تمنّا کے بغیر کوئی پھول نہیں کھِلتا“ لیکن کسی کشتِ ویراں میں تمنّا کا بیج بونے والا بھی تو کوئی ہے نا جو یہ بیج بوتا ہے اور پھر اُسے اپنی دنیا آپ پیدا کرنے کیلئے کھُلا چھوڑ دیتا ہے۔ ان کے سیاسی سفر پر نگاہ ڈالتا ہوں تو ”خودسازی“ سے کہیں زیادہ ”خداسازی“ پر ایمان پختہ تر ہوجاتا ہے مرحوم نے سیاست میں اپنے رد گرد بہت سے کروڑ پتی‘ ارب اور کھرب پَتی بھی دیکھے ہوں گے‘مگر لمحہ بھر کے لئے بھی دل میں کم مائیگی کی خلش پیدا نہیں ہوئی‘ انہوں نے سیاست میں کچھ پیوند لگے کُرتے بھی دیکھے ہوں گے لہذا مرحوم بھی اپنی زندگی میں کبھی ایسے لوگوں سے الگ نہیں ہوئے‘ انسان پیدا ہوتا ہے‘ پچپن میں سے گزرتا ہے پھر آہستہ آہستہ جوانی گزار کر اُدھیڑ عمر میں داخل ہوجاتا ہے اور یہ سفر چلتا رہتا ہے اور چل رہا ہے ایسے لو گ جو سماجی خدمات کے لیے پیدا ہوتے ہیں ان پر جوانی کی رُت آیا ہی نہیں کرتی۔ زندگی کے بکھیڑوں اور جھمیلوں سے کتراتی ہوئی کہیں دور نکل جاتی ہے۔ ”سیلف میڈ“ لوگ اُسے آنکھ بھر کر دیکھ بھی نہیں پاتے بس زندگی نہ جانے کس تیزی سے انہیں پَت جھڑ کی رُت زرد سوکھے پتوں کی گٹھڑی باندھے رُخصت کر دیتی ہے انہیں پتا بھی نہیں چلتا کہ گُلوں میں کب رنگ بھرے کب بادِ نو بہار چلنے لگی‘سیلف میڈ“ لوگوں کی زندگیوں میں آنے والے یہ موسم ہمیشہ دیر کیوں کردیتے ہیں؟