کرے دریا نہ پل مسمار میرے، ابھی کچھ لوگ ہیں اس پار میرے

​تحریر: انجینئر افتخار چودھری
​بنگلہ دیش کی سرزمین سے اٹھنے والا حالیہ انقلاب محض ایک سیاسی تبدیلی نہیں بلکہ ایک ایسی نظریاتی لہر ہے جس نے پورے خطے کے سیاسی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس انقلاب کے پس منظر میں عثمان ہادی جیسے جری نوجوانوں کا لہو شامل ہے، جنہوں نے اپنی جان کا نذرانہ دے کر یہ ثابت کر دیا کہ ضمیر کی آواز کو گولیوں سے دبایا نہیں جا سکتا۔ عثمان ہادی وہ ہیرو تھے جنہوں نے بھارتی سرپرستی میں قائم حسینہ واجد رجیم کے خلاف اس وقت علمِ بغاوت بلند کیا جب بنگلہ دیش میں حق بات کہنا موت کو دعوت دینے کے مترادف تھا۔ حسینہ واجد نے برسوں تک جس طرح بھارتی آشیرباد سے بنگالی عوام کا استحصال کیا، اس کی مثال تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ اس پورے منظرنامے میں جہاں طلبہ کا کردار کلیدی رہا، وہیں اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اس تحریک کی فکری آبیاری میں اسلامی جمعیت طلبہ اور جماعت اسلامی کے ان جاں نثاروں کا خون شامل ہے جنہوں نے دہائیوں تک بدترین مظالم سہے، لیکن اپنے نظریے سے انحراف نہیں کیا۔
​مجھے یاد ہے جب ڈھاکہ میں پاکستان اور بھارت کا کرکٹ میچ ہوا تھا، تو میرے مرحوم دوست مرزا گلنار بیگ نے جذباتی ہو کر ایک شعر لکھا تھا جو آج اس انقلاب پر پوری طرح صادق آتا ہے:
کرے دریا نہ پل مسمار میرے
ابھی کچھ لوگ ہیں اس پار میرے
​ڈھاکہ کے اسٹیڈیم میں جب بنگالی نوجوانوں نے پاکستان کے حق میں نعرے لگائے اور سبز ہلالی پرچم لہرائے، تو مودی اور حسینہ واجد کے سینوں پر سانپ لوٹ گئے تھے۔ وہ سمجھ رہے تھے کہ انہوں نے تاریخ مسخ کر دی ہے اور پل مسمار کر دیے ہیں، لیکن وہ یہ بھول گئے تھے کہ سرحد کے اس پار اب بھی وہ لوگ بستے ہیں جن کے دلوں میں کلمہ طیبہ کی تڑپ اور پاکستان کی محبت آج بھی زندہ ہے۔ عثمان ہادی کی شہادت اور بنگالی عوام کا یہ عظیم انقلاب اسی “پار والے” رشتے کی گواہی ہے۔
​بنگلہ دیش میں آنے والی یہ تبدیلی دراصل ان ہزاروں کارکنوں کی دعاؤں اور ان گنت قربانیوں کا ثمر ہے جنہیں حسینہ واجد نے بھارتی ایجنسی ‘را’ کے اشاروں پر تختہ دار تک پہنچایا۔ مطیع الرحمن نظامی سے لے کر عبدالقادر ملا تک، جماعت اسلامی کی قیادت نے جس پامردی سے شہادتوں کا طوق پہنا، اس نے بنگالی نوجوانوں کے دلوں میں ایک نئی تڑپ اور ولولہ پیدا کیا۔ عثمان ہادی اسی فکر کا تسلسل تھے جنہوں نے بنگلہ دیش میں “دو قومی نظریہ” ایک بار پھر زندہ کر دیا۔ انہوں نے بنگالی عوام کو یہ باور کرایا کہ ان کی اصل شناخت ان کا ایمان ہے، نہ کہ وہ جغرافیائی قوم پرستی جس کا پرچار بھارت اپنے مذموم مقاصد کے لیے کرتا رہا ہے۔ عثمان ہادی نے مودی اور حسینہ واجد کے اس گٹھ جوڑ کو سرِ عام بے نقاب کیا جس کے تحت بنگلہ دیش کو بھارت کی ایک غیر اعلانیہ کالونی بنا دیا گیا تھا۔ جب بنگالی عوام نے حسینہ واجد کے محل پر دھاوا بولا، تو وہ دراصل اس بھارتی تسلط کے خلاف ایک فیصلہ کن اعلانِ جنگ تھا جس نے نصف صدی سے ان کی آزادی کو یرغمال بنا رکھا تھا۔
​حسینہ واجد کی بھارت فراری اور مودی کے در پر پناہ لینا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اس پورے جبر کے نظام کا سرپرست کون تھا۔ مودی سرکار نے جس طرح حسینہ واجد کو ایک مہرے کے طور پر استعمال کیا تاکہ بنگلہ دیش کی معیشت اور سیاست پر غلبہ برقرار رکھا جا سکے، وہ اب پوری دنیا کے سامنے عیاں ہو چکا ہے۔ مودی کا انتہا پسندانہ ایجنڈا پورے خطے میں مسلم تشخص کو نشانہ بنانا ہے۔ عثمان ہادی کی شہادت اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جسے ‘را’ کے کارندوں نے بزدلانہ طریقے سے نشانہ بنا کر یہ سمجھا کہ وہ اس آواز کو دبا دیں گے۔ لیکن دشمن یہ بھول گیا کہ تحریکیں لہو دینے سے ختم نہیں ہوتیں بلکہ مزید توانا ہوتی ہیں۔ بھارت کا یہ نیٹ ورک اب بین الاقوامی سطح پر بے نقاب ہو چکا ہے۔ کینیڈا میں سکھ رہنما نجر کا قتل ہو یا بنگلہ دیش میں عثمان ہادی کی شہادت، بھارت اب ایک ایسی ریاست کے طور پر ابھر رہا ہے جس کے ڈیتھ اسکواڈز سرحدوں کے پار جا کر نظریاتی مخالفین کو ٹھکانے لگا رہے ہیں۔
​بنگلہ دیش کے اس انقلاب نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ جب طلبہ اور عوام ایک ہو جائیں تو پھر دنیا کی کوئی طاقت ان کا راستہ نہیں روک سکتی۔ اسلامی جمعیت طلبہ کے وہ ہزاروں نوجوان جنہوں نے اس تحریک کی بنیادوں میں اپنا خون دیا ہے، وہ اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ نظریہ کبھی نہیں مرتا۔ پاکستان اور بنگلہ دیش دو بھائی ہیں جنہیں ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت جدا کیا گیا تھا۔ دریاؤں نے رخ بدل لیے، سرحدوں کی لکیریں گہری ہو گئیں، لیکن نظریے کا پل مسمار نہ ہو سکا۔ آج ہر پاکستانی عثمان ہادی کی شہادت پر اتنا ہی غمزدہ ہے جتنا کہ ایک بنگالی بھائی۔ ہم دونوں کا دشمن مشترکہ ہے اور وہ ہے مودی کے توسیع پسندانہ عزائم والا بھارت۔ مودی جس طرح پورے خطے میں نفرت کی سیاست کر رہا ہے، عثمان ہادی کی قربانی اس کے سامنے ایک مضبوط دیوار بن کر کھڑی ہو گئی ہے۔
​بنگالی عوام نے تو حسینہ واجد کو بھگا کر تاریخ کا دھارا موڑ دیا، لیکن اب اصل مرحلہ اس انقلاب کے ثمرات کی حفاظت کرنا ہے۔ بھارت کبھی یہ برداشت نہیں کرے گا کہ ڈھاکہ میں ایک ایسی قیادت ابھرے جو دہلی کے سامنے جھکنے سے انکار کر دے۔ اس لیے خدشہ ہے کہ بھارت مزید تخریبی کارروائیاں کرے گا تاکہ اس عوامی فتح کو سبوتاژ کیا جا سکے، ہمیں ان کی مدد کرنی ہوگی۔ عثمان ہادی کا قتل اسی لیے کیا گیا تاکہ قیادت کو منتشر کیا جا سکے، لیکن وہ جمع غفیر جو آج بنگلہ دیش کی گلیوں میں “نعرہ تکبیر” بلند کر رہا ہے، وہ یہ بتا رہا ہے کہ ان شاء اللہ العزیز ایشیا اب “سبز” ہونے جا رہا ہے۔ یہ سبز رنگ اس اسلامی نشاۃ الثانیہ کی علامت ہے جس کا خواب اس خطے کے مسلمانوں نے دہائیوں پہلے دیکھا تھا۔ سیکولرزم اور غیر ملکی اثر و رسوخ کا وہ جادو جو برسوں سے اس خطے پر مسلط تھا، اب ٹوٹ رہا ہے۔
​جماعت اسلامی کی بنگلہ دیش میں دی گئی قربانیاں ضائع نہیں ہوئیں، بلکہ ان قربانیوں نے ثابت کر دیا کہ حق کے لیے کھڑا ہونا ہی کامیابی کا واحد راستہ ہے، چاہے سامنے کتنا ہی بڑا جابر کیوں نہ ہو۔ حسینہ واجد کے پاس اقتدار بھی تھا، طاقت بھی تھی اور بھارت کی مکمل حمایت بھی، لیکن جب عوام کا سمندر بپھرا تو کچھ بھی اس کے کام نہ آیا۔ یہی سبق مودی کے لیے بھی ہے کہ وہ کب تک ظلم اور بزدلانہ قتل و غارت کے ذریعے عوامی تحریکوں کو دبا پائے گا۔ نجر سے لے کر عثمان ہادی تک، دشمن کو ایک ایک قطرے کا حساب دینا ہوگا۔
​پاکستان اور بنگلہ دیش کی قربت اب ایک ناگزیر حقیقت بنتی جا رہی ہے۔ ہمیں اپنی تمام تر تلخیاں پسِ پشت ڈال کر ایک ایسے بلاک کی بنیاد رکھنی چاہیے جو بھارت کے اس جنون کو لگام دے سکے۔ عثمان ہادی جیسے شہداء کا خون پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ اب بیدار ہونے کا وقت ہے۔ ایشیا کی سیاست کا رخ بدل رہا ہے اور اس نئے دور میں مسلمانوں کا اتحاد ہی بقا کی ضمانت ہے۔ ہم یاسر رسول کی اس تحریر کی مکمل تائید کرتے ہوئے یہ عہد کرتے ہیں کہ ہم اپنے بنگالی بھائیوں کے دکھ میں شریک ہیں اور دشمن کو ہر محاذ پر علمی اور عملی شکست دینے کے لیے تیار ہیں۔ یہ نوجوانوں کا جوش، یہ نظریاتی تڑپ، اور یہ بے مثال قربانیاں اس بات کا واضح اعلان ہیں کہ ان شاء اللہ العزیز آنے والا دور اسلام کا ہے، عدل کا ہے اور ان سرفروشوں کا ہے جو اللہ کی زمین پر اس کا کلمہ بلند کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔ دشمن کے مہرے بھاگ رہے ہیں اور حق کا سورج طلوع ہو رہا ہے۔
​مرزا گلنار بیگ مرحوم کی بات آج سچ ثابت ہو رہی ہے؛ دریا نے پل مسمار کرنے کی بہت کوشش کی، نفرتوں کی لہریں بہت بلند ہوئیں، لیکن اس پار بیٹھے بھائیوں نے ثابت کر دیا کہ ان کا دل آج بھی اپنے پاکستانی بھائیوں کے ساتھ دھڑکتا ہے۔ عثمان ہادی کی شہادت نے ان پلوں کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔ اب یہ رشتہ جغرافیہ کا محتاج نہیں بلکہ اس خون کا مرہونِ منت ہے جو حق کی خاطر ڈھاکہ کی سڑکوں پر بہایا گیا۔ ان شاء اللہ، یہ “سبز انقلاب” پورے ایشیا کی تقدیر بدل کر رکھ دے گا۔