پاکستان کے مفادات کے تحفظ کے لیے کلیدی اقدامات

دلتے ہوئے عالمی نظام میں بین الاقوامی سطح پر واضح حکمتِ عملی اور ملکی سطح پر اتحاد لازم ہے: ماہرین

اسلام آباد،—- موجودہ عالمی نظام واضح طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ ایک طرف تو قانون پر مبنی نظام کا زوال، متعدد بین الاقوامی طاقتوں کی کم ہوتی اہمیت نظر آرہی ہے ، دوسری طرف یک طرفہ طاقت پر مبنی سیاست عام ہو رہی ہے اور بین الاقوامی اصول مسلسل پامال کیے جا رہے ہیں۔ یہ صورتِ حال پاکستان جیسے ممالک کے لیے سنگین تزویراتی، معاشی اور سماجی مشکلات پیدا کر رہی ہے۔ جس نظام کو طویل عرصے تک ’’قواعد پر مبنی عالمی نظام‘‘ کہا جاتا رہا، وہ بیشتر صورتوں میں طاقتور ریاستوں کے کمزور ممالک کے خلاف اپنے مفادات کے تحفظ کا ذریعہ بنتا رہا۔ موجودہ حالات میں یہی نظام عدم استحکام، غیر یقینی کیفیت اور بین الاقوامی قانون پر امتیازانہ عمل درآمد کا باعث بن رہا ہے۔ نتیجتاً بڑی طاقتوں کے درمیان مسابقت مزید شدت اختیار کر رہی ہے۔

یہ بات انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (آئی پی ایس)، اسلام آباد میں منعقدہ ایک نشست کے دوران کہی گئی، جس کا عنوان تھا ’’بدلتا ہوا عالمی نظام: پاکستان کے لیے مضمرات اور امکانات‘‘۔ اس نشست میں سابق سفارت کاروں، ماہرینِ تعلیم اور دفاعی و معاشی امور کے ماہرین نے شرکت کی، جن میں چیئرمین آئی پی ایس خالد رحمان، سابق سیکرٹری خارجہ سفیر اعزاز احمد چوہدری، قائداعظم یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر خرم اقبال، سابق سفیر نغمانہ ہاشمی، سابق سفیرمعین الحق، سابق سفیر مسعود خالد، سابق وفاقی وزیر برائے قومی سلامتی لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعیم خالد لودھی، ماریشس میں سابق ہائی کمشنر میجر جنرل (ر) رضا محمد، دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر (ر) سعید نذیر، قائداعظم یونیورسٹی میں شعبۂ دفاعی و اسٹریٹجک مطالعات کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر شبانہ فیاض، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں شعبۂ سیاست و بین الاقوامی تعلقات کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر آمنہ محمود، بحریہ یونیورسٹی کی سینئر اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر سائرہ نواز عباسی اور نیشنل ڈیولپمنٹ فورم کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر شہریار خان شامل تھے۔

اپنے کلیدی خطاب میں اعزاز چوہدری نے کہا کہ گزشتہ دہائیوں کے دوران طاقت کے متعدد مراکز ابھرے ہیں، جس کے باعث دنیا کثیرالجہتی نظام سے کثیر قطبی نظام کی طرف منتقل ہو رہی ہے۔ اس منتقلی کے دو بڑے محرکات یک طرفہ پن اور حد سے بڑھی ہوئی قوم پرستی ہیں۔ کثیرالجہتی فریم ورک سے ہٹ کر پیشگی طاقت کے استعمال کو معمول بنانا اور عوامی جذبات پر مبنی قیادت کا فروغ عالمی استحکام کو مجموعی طور پر کمزور کر چکا ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں عالمی سطح پر عدم تحفظ میں اضافہ ہوا ہے، جو دنیا بھر میں مسلح تنازعات میں اضافے اور ایک زیادہ انارکی پر مبنی ماحول میں ریاستوں کی جانب سے اسلحے کے ذخائر میں تیزی سے اضافے کی صورت میں ظاہر ہو رہا ہے۔

گفتگو کے دوران مقررین نے ابھرتے ہوئے عالمی منظرنامے کو تشکیل دینے والی متعدد دراڑوں کی نشاندہی کی۔ بڑی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی مسابقت، بالخصوص ایشیا پیسیفک میں، ایشیا کو اسٹریٹجک رقابت کا مرکزی میدان بنا چکی ہے۔ اسی طرح ٹرانس اٹلانٹک تعلقات میں عدم استحکام، روس اور نیٹو کے درمیان بدلتی ہوئی حرکیات اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے بحرانوں نے بھی بین الاقوامی نظام کو مزید غیر مستحکم کر دیا ہے۔ مزید برآں، عالمی قانونی فریم ورک کی جانب سے مساوات اور شفافیت کو یقینی بنانے میں ناکامی کو عالمی طرزِ حکمرانی کی ناکامی قرار دیا گیا۔ شرکاء نے کہا کہ روایتی تنازعات کے ساتھ ساتھ غیر روایتی دباؤ کے ذرائع بھی استعمال ہو رہے ہیں، جس کے باعث پاکستان کو اپنی اسٹریٹجک تیاری کا ازسرِنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

اس تناظر میں مقررین نے تجویز دی کہ پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی کے اختیارات میں تنوع جاری رکھنا چاہیے۔ اگرچہ جیوپولیٹکس بدستور اہم ہے، تاہم داخلی ہم آہنگی، طرزِ حکمرانی کی صلاحیت اور معاشی استحکام تیزی سے قومی طاقت کے بنیادی عناصر بنتے جا رہے ہیں۔ اسی طرح سیاسی ہم آہنگی، سماجی استحکام اور ریاست و شہری کے درمیان اعتماد مؤثر سفارت کاری اور طویل المدتی اسٹریٹجک خودمختاری کے لیے ناگزیر ہیں۔ شرکاء نے یہ بھی کہا کہ اعلیٰ سطحی عالمی مسابقت کے وسیع تر تناظر میں پاکستان کو بڑی طاقتوں کے ساتھ مستحکم اور شفاف تعلقات برقرار رکھنے چاہییں۔

مزید یہ کہ وسطی طاقتوں اور ابھرتے ہوئے خطوں، بالخصوص اوشیانا، شمال مشرقی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا کے ساتھ روابط میں اضافہ کیا جانا چاہیے تاکہ پاکستان کے سفارتی اور معاشی امکانات کو وسعت دی جا سکے۔ اکیسویں صدی میں طاقت کی بدلتی ہوئی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے مقررین نے کہا کہ عسکری طاقت کے ساتھ ساتھ پاکستان کو نوجوانوں کو بااختیار بنا کر اور مقامی صلاحیتوں کو فروغ دے کر ٹیکنالوجی اور جدت کے میدان میں بھی پیش رفت ضروری ہے۔

نشست کے اختتام پر شرکاء اس بات پر متفق تھے کہ پاکستان کو عالمی سطح پر شدید عدم استحکام کا سامنا ہے۔ یہ صورتِ حال اپنے اندر بیک وقت خطرات بھی لیے ہوئے ہے اور مواقع بھی۔ چنانچہ اس ماحول میں مؤثر انداز میں آگے بڑھنے کے لیے دانش مندی، اسٹریٹجک سوچ ، اور داخلی اصلاحات و خارجی روابط کے درمیان توازن ناگزیر ہوگا۔ اسی طرح بہتر طرزِ حکمرانی اور مذاکراتی صلاحیت کو مضبوط بنانا، معاشی اتفاقِ رائے پیدا کرنا اور قومی اتحاد کو فروغ دینا ایک تیزی سے منقسم ہوتی دنیا میں پاکستان کے مفادات کے تحفظ کے لیے کلیدی اقدامات قرار دیے گئے۔