قومی اتفاقِ رائے سے قومی ایکشن پلان بنایا جائے۔ لیاقت بلوچ

نائب امیر جماعتِ اسلامی، سیکرٹری جنرل مِلی یکجہتی کونسل لیاقت بلوچ نے مردان میں ورکرز کانفرنس اور لاہور میں اسلامی جمعیت طلبہ کے دفتر کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ و طالبات اپنے والدین، معاشرہ اور ملک و مِلّت کی جوہری طاقت ہیں۔ طلباء کی تعلیم، کھیل اور سماج سدھار محاذ پر فعالیت خود نوجوانوں کی عزت و توقیر کا ذریعہ ہے۔ عوام کو بااختیار بلدیاتی نظام اور طلبہ و طالبات کو یونیورسٹیز، کالجز میں طلبہ یونینز کے انتخاب کا جمہوری حق دیا جائے۔ طلبہ مسائل کے حل کے لئے اسلامی جمعیت طلبہ کی جدوجہد تاریخ ساز ہے، ‘بنوقابل’ پروگرام نوجوانوں کو ڈیجیٹل مہارت دِلانے کا عظیم پروگرام ہے۔
لیاقت بلوچ نے سوالات کے جواب میں کہا کہ انڈیا کھیل اور پانی کی دہشت گردی اور ہٹ دھرمی سے امن کے لئے تباہی لارہا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ بھارتی دہشت گردی کے مقابلہ میں بنگلہ دیش کرکٹ کا ساتھ دے۔ انڈیا صرف پاکستان اور بنگلہ دیش ہی نہیں تمام سارک ممالک کے لئے خطرناک دشمن ہے۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ کراچی کے عوام کو اَن کا حق دِلانے کے لئے جماعتِ اسلامی کا ‘عوام کو جینے دو’ ملین مارچ کراچی کے عوام کی ترجمان آواز ہے۔ پی پی پی کا سندھ میں بھی زوال شروع ہوگیا، وڈیروں اور اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے پی پی پی کی کرپشن، نااہلی، عوام دُشمنی ہر فرد پر عیاں ہوچکی ہے۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ حکومت کے معاشی ترقی کے تمام دعوے ہوائی ہیں، 80 ٹریلین روپے سے زائد کا قرضہ معاشی تباہی کا باعث ہے۔ معاشی ترقی کے لئے صنعت، تجارت، زراعت پر پیداواری لاگت کا بوجھ قابلِ برداشت بنانا ہوگا۔ صنعتوں کے لئے معمولی مراعات معاشی پہیہ نہیں چلاسکیں گی۔ معاشی ترقی اور خودانحصاری کی بنیاد پر نظام چلانے کے لئے اہلیت، دیانت سے انقلابی اقدامات ناگزیر ہیں۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ تیراہ (خیبرپختونخوا) میں عوام پر شدید سردی، برفباری میں مشکلات مسلّط کرنے میں وفاقی اور صوبائی حکومتیں برابر کی ذمہ دار ہیں۔ تیراہ میں فوجی آپریشن ختم کیا جائے اور امن کی بحالی کے لئے قومی سطح پر ازسرِنو قومی اتفاقِ رائے سے قومی ایکشن پلان بنایا جائے۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ امریکہ اسلامی جمہوریہ ایران پر اقتصادی پابندیوں کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا چلا آرہا ہے، اب بحری بیڑہ بھیج کر دھمکی آمیز لہجے میں ایران پر مذاکرات کے لئے دباؤ ڈالنا عالمی قوانین، اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور ایک آزاد، خودمختار ممالک کی آزادی اور وقار کے خلاف جُرم ہے۔ ایران پر بِلاجواز پابندیاں اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی بھی خلاف ورزی اور جنگی جرائم کے زمرے میں آنے والا بڑا جرم ہے۔ وینزویلا کے صدر کے اغواء کے بعد امریکہ اِس زعم اور خوش فہمی میں مبتلا ہوگیا کہ وہ کسی بھی ملک کے خلاف جارحیت اور دباؤ کے ذریعے اپنے مطالبات منواسکتا ہے۔ امریکہ کو معلوم ہے کہ ایران پر جنگ مسلّط کرنا اُس کے لئے آسان کھیل نہیں۔#