پاکستان گھمبیر سیاسی بحران کی زد میں ہے ،ہائبرڈ نظام نہیں چل رہا، لیاقت بلوچ

اسلام آباد——–نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ کشمیر پر واضح اور جاندار قومی ریاستی پالیسی وقت کی ضرورت ، آزاد کشمیر کی قیادت بیس کیمپ کو مضبوط بنائے ، اسلام آباد ، راولپنڈی سے بیس کیمپ میں مداخلت بند ہونی چاہیے ۔ سرینگر میں پاکستان کی بے وفائی کا پیغام نہیں جانا چاہیے۔جماعت اسلامی اسلام آباد کے زیر اہتمام آل پارٹیز یکجہتی کشمیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان گھمبیر سیاسی بحران کی زد میں ہے ،ہائبرڈ نظام نہیں چل رہا، سیاست کو بند گلی سے نکالنے کے لیے اسٹیبلشمنٹ سے بھیک نہ مانگی جائے۔
کانفرنس سے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، قائمقام امیر جماعت اسلامی گلگت بلتستان ایڈووکیٹ مشتاق خان، کل جماعتی حریت کانفرنس کے کنوینئر غلام محمد صفی ، بھارت میں سابق پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط ، نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان میاں محمد اسلم ، امیر جماعت اسلامی اسلام آباد نصراللہ رندھاوا، معروف کشمیری رہنما الطاف بٹ ، سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی اسلام آباد زبیر صفدر ،آل پارٹیز کانفرنس کے رہنماشیخ عبدالمتین ، چوہدری یاسین جنرل سیکرٹری سی ڈی اے مزدور یونین، قاضی شاہد حمید ملی یکجہتی کونسل آزاد کشمیر، سینیئر صحافی نواز رضا، جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے رفیق ڈار، ڈاکٹر میمونہ حمزہ سابق سیکرٹری جنرل شعبہ خواتین جماعت اسلامی جموں و کشمیر، خاتوں رہنما عظمی گل، مقبوضہ کشمیر جماعت اسلامی کے رہنما ثنائ اللہ ڈار، سابق کنوینئر حریت کانفرنس محمود ساغر، تحریک نوجوانان پاکستان عبداللہ گل، سینئر قانون دان عزیر نشتر نے بھی خطاب کیا۔ کانفرنس میں صدر آزاد جموں و کشمیر بیرسٹر سلطان محمود کی وفات پر فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔
لیاقت بلوچ نے کہاکہ 5فروری کا جب بھی ذکر ہوگا تو قاضی حسین احمد کا ذکر بھی ہوگا ۔ جماعت اسلامی کی قیادت نے حکومت سے ملاقات کی تھی جس کے بعد 5فروری کو یوم یکجہتی کشمیر کے طور پر منانے کا فیصلہ ہوا۔ پہلا پروگرام 5فروری 1990میں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کی تحریکوں میں طویل وقت لگتا ہے آزادی کی تحریکیں مرتی نہیں ہیں وہ کامیاب ہوتی ہیں ۔ 1857ئ میں ہندوستان پر انگریز نے قبضہ کیا اور 90سال بعد آزادی ملی۔ فلسطین کی تحریک بھی 105سال سے چل رہی ہے یہ تحریک بھی زندہ ہے ۔ فلسطینی قربانیاں دے رہے ہیں ۔ کشمیر کی آزادی آئین کی چند آرٹیکل کی مرہون منت نہیں ہے، بھارت کشمیریوں کی آزادی سے نہیں روک سکتا ہے ۔ پاکستان میں بھی کوئی مسئلہ کشمیر کو نظر انداز نہیں کر سکتا ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کی جدوجہد نے دنیا کو حیران اور اپنی طرفہ متوجہ بھی کیا ۔ 1988میں آزادی کی تحریک عروج پر پہنچی تھی۔ تحریک آزادی کشمیر کسی کے منفی پروپیگنڈے سے ختم نہیں ہوسکتی ہے ۔ تحریک کی پشت پر اقوام متحدہ کی قراردادیں ہیں۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ عالم اسلام کو متحد ہونا ہوگا اور اپنے مسائل خود حل کرنا ہوگا ۔ امریکہ افغانستان پر حملہ آور ہوا مگر 20سال بعد امریکہ اور نیٹو کو افغانستان سے نکلنا پڑا ۔ طوفان اقصیٰ کی وجہ سے فلسطین کا مسئلہ دوبارہ دنیا میں اجاگر ہوا ۔ اسی طرح کشمیریوں کی قربانیاں بھی رائیگاں نہیں جائیں گئی ۔ بھارت کو بھی کشمیر کے حوالے سے اپنا مائنڈ سیٹ تبدیل کرنا ہوگا ۔ پاکستان کو بھی کشمیر پر ایک واضح موقف اپنانا ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ بیس کیمپ میں 5سالوں میں 5 وزیراعظم تبدیل ہوگئے ہیں اس بیس کیمپ کی کیا اہمیت ہے ۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ سیاسی بحران کا سیاسی حل نکالنا چاہیے۔ بورڈ آف پیس کے نام پر فلسطین سے بے وفائی پاکستان اور افواج پاکستان کے لیے نقصان کا باعث ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ فلسطین پر آنکھیں بند کرکے نہیں بلکہ اس خطے میں اپنے کرادر کو اہم بنانا ہوگا ۔ریاست کی طاقت سے اقتدار ہمیشہ نہیں چل سکتا ہے پاکستان امن کو مستحکم کیا جائے ۔5فروری کو عوام کو کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کے لیے باہر نکلنا چاہیے اور اس کو تاریخ ساز بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے حالات نے ایک بار پھر خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں، سانحہ اے پی ایس کے بعد اے پی سی بلائی گئی، بلوچستان کی صورتحال میں بھی اس طرح کی اے پی سی کی ضرورت ہے، نیشنل ایکشن پلان کی ضرورت ہے، وزیر اعظم اور آرمی چیف سے کہوں گا کہ ریاست کی طاقت کے ساتھ اقتدار نہیں چلتا۔
شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر کے عوام قربانیاں دے رہے ہیں مگر کمی ہمارے اندر ہے۔ آزاد کشمیر جو بیس کیمپ ہونا چاہیے تھا کو ہم نے سیاست کا اکھاڑا بنا دیا ہے، ہم آزاد کشمیر کے عوام کی رائے کا احترام نہیں کریں گے تو احساس محرومی بڑھتا جائے گا ۔ آزاد کشمیر میں دوریاں بڑھتی جارہی ہیں، آزاد کشمیر میں اب ماضی کی سی شدت سے ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ کا نعرہ نہیں لگتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بلوچستان میں بھی مسائل ہیں، ڈر ہے کہ پاکستان کے مسائل کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ دب نہ جائے۔ کشمیر کے مسئلے کو زندہ رکھیں گے تو امید ہے کہ ایک دن ضرور کشمیر پاکستان کے حق میں فیصلہ کرے گا۔ انہوں نے کہاکہ اگست 2019 کا اقدام 1947 کے بعد اب بڑا بھاری اقدام تھا، کشمیر کے مسئلے کو زندہ رکھنا وقت کی ضرورت ہے، کشمیری عوام کی جدوجہد دنیا کی سب سے طویل تحریک ہے، کشمیر کے عوام کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے، سستی ہماری طرف سے ہے۔
غلام محمد صفی نے کہاکہ قاضی حسین احمد نے کشمیر کے لیے وہ کام کیا جو پوری قوم نہیں کرسکی ۔ انہوں نے او آئی سی، وزیر اعظم پاکستان اور وزیر اعلیٰ پنجاب سب کو ایک پیج پر کھڑا کردیا، آج ان کی وجہ سے پورے پاکستان میں یوم یکجہتی منایا جاتا ہے ۔ یوم یکجہتی کشمیر قومی کے ساتھ عالمی دن بن گیا ہے ۔ اب کوئی کشمیر سے جان نہیں چھڑا سکتا ہے ہر سال کشمیر یاد آئے گا ۔ قاضی حسین احمد کا کشمیریوں پر بہت بڑا احسان ہے۔ آج کشمیر کو ایک اور قاضی حسین احمد کی ضرورت ہے جو اس مشن کو آگے لے کر چلے۔ جماعت اسلامی حریت کانفرنس کے ساتھ مل کر ایک پالیسی بنائے جو حکومت پاکستان کو اپنانی چاہیے۔