کچہری
میاں منیر احمد
بیرسٹر سلطان محمود چوہدری بھی رخصت ہوگئے
آزاد جموں و کشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری انتقال کر گئے‘ وہ طویل علالت کے باعث اسلام آباد میں زیر علاج تھے‘ مرحوم کی عمر71 سال تھی‘ یہ آزاد جموں و کشمیر کے پہلے صدر ہیں جو منصب پر رہتے ہوئے دنیا فانی سے رخصت ہوئے ہیں‘ ان کی نمازِ جنازہ میرپور میں ادا کی گئی‘ اور آبائی گاؤں کھڑی شریفچیچیاں میں سپرد خاک کیے گئے‘بیرسٹر سلطان محمود کے والد چوہدری نورحسین اور دادا چوہدری نیک عالم بھی کشمیر کے سیاسی اور سماجی کارکن رہے ہیں‘ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے 1983 میں عملی سیاست کا آغاز کیا۔ وہ اپنے طویل سیاسی کیریئر کے دوران آزاد مسلم کانفرنس، لبریشن لیگ، پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف سے وابستہ رہے۔ وہ آبائی حلقے میرپور سے مجموعی طور پر نو مرتبہ ممبر قانون ساز اسمبلی منتخب ہوئے۔بیرسٹر سلطان محمود 1996 سے 2001 تک آزاد کشمیر کے وزیراعظم کے منصب پر بھی فائز رہے، 25 اگست 2021 کو وہ آزاد جموں و کشمیر کے صدر منتخب ہوئے۔فروری 2015 میں انہوں نے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی۔ 2016 کے انتخابات میں انہیں اپنے 25 سالہ سیاسی کیریئر میں پہلی مرتبہ انتخابی شکست کا سامنا کرنا پڑا، تاہم 2019 کے ضمنی انتخابات میں وہ دوبارہ قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہو گئے۔ مرحوم جگر کے کینسر میں مبتلا تھے‘ان کے انتقال پر وزیراعظم آزاد کشمیر نے تین روزہ سرکاری سوگ کا اعلان کیا اور ریاستی پرچم سرنگوں رکھا گیا‘ مرحوم صدر سلطان محمود نے قانون کی اعلیٰ تعلیم برطانیہ سے حاصل کی۔بیرسٹر سلطان محمود نے عملی سیاست کا آغاز 1983 میں کیا اور 1985 میں پہلی بار آزاد جموں و کشمیر اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے 9 مرتبہ اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے، جو آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک ریکارڈ ہے انہوں نے ریاستی حکومت کے عہدیدار ہوتے ہوئے اور ایک سیاسی راہنماء کی حیثیت سے مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر بھرپور انداز میں اجاگر کیا اقوام متحدہ، یورپی پارلیمنٹ، امریکہ اور برطانیہ سمیت عالمی فورمز پر کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے لیے بھرپور آواز بلند کی اور بھارتی مظالم کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا‘ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری ایک طویل عرصہ سے راولپنڈی میں مقیم رہے‘ اور ابتدائی تعلیم بھی راولپنڈی شہر میں ہی حاصل کی‘ محترم قاری خلیل احمد سے قرآن حکیم کی ناظرہ تعلیم حاصل کی‘ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر بھی قاری خلیل احمد کے شاگردوں میں شامل ہیں‘ انہوں نے انہی کی زیر تعلیم رہ کر قرآن مجید حفظ کیا‘ قاری خلیل احمد کے صاحب ذادے حافظ نسیم محمود خلیل ان دنوں الخلیل قرآن کمپلیکس کے ممتہم ہیں‘ ان کے ساتھ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کا بچپن بھی گزار ہے‘ بچپن میں ہم جولی ہم عصر دوست مرحوم کو گڈو کے نام سے پکارتے تھے‘ بہر حال سلطان محمود چوہدری ایک تاریخ اپنے دوستوں اور لواحقین کے لیے چھوڑ گئے ہیں ایک تاریخ وہ خود اپنے ساتھ ہی لے گئے ہیں‘ بلاشبہ زندگی کے بے شمار رنگ ہیں‘ اور بے شمار امتحان اور بے شمار چیلنجز بھی‘ زندہ انسانوں کو دن میں کئی کئی بار امتحانوں سے گزرنا پڑتا ہے‘ اب بیرسٹر سلطان محمود دنیا کے تمام امتحانوں سے بے نیاز ہوگئے ہیں‘زندگی سے شکوے شکایت کی بجائے صبر اور شکر کے جذبات سے ساتھ زندہ رہا جائے تو اللہ بھی ہر امتحان میں سلامتی کے ساتھ گزار دیتا ہے‘ انسان کے لیے صحت بھی امتحان ہے اور بیماری بھی امتحان ہے‘ بس ایک صبر اور شکر ہی انسانوں کو مشکل لمحات سے باہر نکالتے ہیں شکر اور صبر کا ساتھ ہو تو ایمان اور یقین متزلزل نہیں ہوتے دوسری جانب شیاطین ہر جانب سے حملہ آور ہوتے ہیں ابلیس اسے مایوسی کی اندھی اورگہری کھائیوں میں دھکیلنے کی کوشش کرتا ہے‘ اس لمحے انسان کے پاس دو ہی راستے بچتے ہیں کہ وہ اپنے خالق ومالک کے سامنے سرنڈرکردے یا ابلیس کے سامنے‘ جس نے اللہ کے سامنے سرنڈر کیا وہی سرخرو ہوجاتا ہے‘ اللہ تعالی مرحوم کی کامل بخشش فرمائے‘آمین‘ بیماری انسانوں کے گناہ جھاڑتی ہے‘ توبہ کا دروازاہ کھلا رکھتی ہے مرحوم نے بہت تکلیف کاٹی انہوں نے اس دورانصبر کیا اور اپنے رب سے ہی مدد مانگی وہی رب ہے جو معاف بھی کرتا ہے اور رحم بھی فرماتا ہے رب کے لیے کچھ بھی ناممکن نہیں‘وہ ایک سینئر سیاستدان ہونے کے ساتھ ساتھ زیرک اور باوقار سیاسی کارکن کے طور پر جانے جاتے تھے۔ عوامی خدمت کا جذبہ اُن کی سیاست کا بنیادی وصف تھا جس کی جھلک اُن کی پوری سیاسی زندگی میں نمایاں طور پر دکھائی دیتی ہے۔ طویل اور متحرک سیاسی سفر کے دوران اُنہوں نے کشمیر کی تحریک آزادی کے لئے قابلِ قدر خدمات انجام دیں اور مختلف ذمہ داریاں نہایت دیانتداری اور سنجیدگی سے نبھائیں۔ اب تحریک آزادی کشمیر کا بوجھ زندہ انسانوں کے کندھوں پر ہے‘مرحوم کے انتقال پر مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے تعزیتی پیغامات میں اُن کی سیاسی بصیرت، جمہوری خدمات اور عوامی خدمت کے جذبے کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اہلِ خانہ سے دِلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور لواحقین کو صبرِ جمیل دے۔ آمین۔
