شفق کی راکھ میں جل بجھ گیا ستارۂ شام شبِ فراق کے گیسو فضا میں لہرائے

باعث افتخار۔ انجینئر افتخار چودھری

یہ محض دو مصرعے نہیں، یہ اس قوم کی تھکن ہے جو دہائیوں سے ایک ہی سوال دہراتی آ رہی ہے۔ فیض احمد فیض نے یہ شعر کسی ایک حکومت، کسی ایک آمر یا کسی ایک جیل کے لیے نہیں کہا تھا۔ یہ شعر اس نظام کے خلاف تھا جو ظلم کو معمول، ناانصافی کو ضابطہ اور خاموشی کو حب الوطنی بنا دیتا ہے۔
فیض 1984 میں اس دنیا سے رخصت ہو گئے، مگر ان کے لفظ آج بھی ہمارے سامنے ایک سوال بن کر کھڑے ہیں:
سحر اگر قریب تھی تو پھر یہ اندھیرا کیوں پھیلتا جا رہا ہے؟
فیض نے کہا تھا:
“صبا نے پھر درِ زنداں پہ آ کے دی دستک
سحر قریب ہے، دل سے کہو نہ گھبرائے”
یہ مصرعہ امید کا استعارہ تھا۔ مگر آج، چار دہائیاں بعد، یہی مصرعہ ہمیں تسلی نہیں دیتا بلکہ چبھنے لگتا ہے۔ کیونکہ جب ہر قید کے بعد یہی کہا جائے کہ سحر قریب ہے، اور ہر صبح پہلے سے زیادہ تاریک نکلے، تو سوال اٹھتا ہے کہ شاید مسئلہ رات کی طوالت نہیں، سحر کے وعدے کی نیت ہے۔
گزشتہ تین برسوں میں اس قوم کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ محض سیاسی اختلاف نہیں تھا، وہ اجتماعی شعور کو توڑنے کی ایک باقاعدہ مہم تھی۔ عمران خان نے اسمبلیاں اس یقین کے ساتھ توڑیں کہ آئینِ پاکستان واضح طور پر نوے دن کے اندر انتخابات کا حکم دیتا ہے۔ یہ کوئی جذباتی ضد نہیں تھی، یہ قانون پر بھروسے کا امتحان تھا۔
مگر شاید انہیں یہ اندازہ نہیں تھا کہ اس ملک میں آئین سے زیادہ طاقتور وہ ہاتھ ہیں جو آئین کی تشریح اپنی مرضی سے کرتے ہیں، اور قانون سے زیادہ بااثر وہ چہرے ہیں جو قانون کو ضرورت کے مطابق موڑ لیتے ہیں۔
آٹھ فروری 2024 کے انتخابات اس سارے عمل کی علامت بن کر سامنے آئے۔
انتخابی نشان چھین لیے گئے، شناختیں بدلی گئیں، اور ووٹ کے عمل کو اس حد تک مضحکہ خیز بنایا گیا کہ یوں لگا جیسے یہ جمہوریت نہیں، عوامی تضحیک کا تجربہ ہو۔
الو، مٹر، پیاز، گھنٹا، ٹماٹر، چارجر — گویا عوام شعور نہیں رکھتے، یادداشت نہیں رکھتے، اور صرف نشان دیکھ کر فیصلہ کرتے ہیں۔
یہاں طاقت نے ایک بنیادی غلطی کی۔
یہ سمجھ لیا گیا کہ لوگ بھول جاتے ہیں۔
یہ اندازہ لگایا گیا کہ نشان بدلنے سے رائے بدل جائے گی۔
ایسا نہیں ہوا۔
لوگوں نے نام یاد رکھا۔
لوگوں نے کہانی یاد رکھی۔
لوگوں نے وہ زخم یاد رکھے جو انہیں دیے گئے تھے۔
یہی وہ لمحہ تھا جہاں تمام منصوبے لرز گئے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ اس پورے سفر میں ہر کردار معصوم نہیں تھا۔ پاکستان تحریکِ انصاف کے اندر بھی کمزوریاں تھیں، مفاد پرست تھے، انصاف کے نام پر سودا کرنے والے بھی موجود تھے۔ بڑے بڑے فراڈیوں نے ٹکٹ حاصل کیے، کچھ نے جیت کو لوٹا، کچھ نے ہار کو فتح میں بدلا۔
مگر اس سب کے باوجود ایک بات واضح رہی:
لوگ کسی پارٹی کے ساتھ نہیں، ایک موقف کے ساتھ کھڑے تھے۔
لوگ کسی سیاست دان کے نہیں، ایک قیدی ضمیر کے ساتھ جڑے ہوئے تھے۔
اور وہ ضمیر آج بھی قید ہے۔
ایک ہزار دن سے زیادہ ہو چکے ہیں۔
ایک ہزار دن — یہ کوئی عدد نہیں، یہ ایک پوری قوم کی برداشت کا پیمانہ ہے۔
ایک ہزار دن میں تاریخ کے باب بدل جاتے ہیں، مگر یہاں ایک شخص جیل میں ہے اور ایک قوم باہر سوال بن کر کھڑی ہے۔
اور اگر کسی کو یہ گمان تھا کہ یہ سب کچھ صرف عام انتخابات تک محدود تھا، تو ضمنی انتخابات نے وہ خوش فہمی بھی توڑ دی۔
ہم نے بہت سے ضمنی الیکشن لڑے۔
اور جیتے۔
دباؤ کے باوجود، خوف کے باوجود، رکاوٹوں کے باوجود۔
23 نومبر 2025 — ہری پور، ہزارہ۔
ایک اور ضمنی انتخاب، ایک اور امتحان۔
یہ کوئی غیر معروف حلقہ نہیں تھا۔ یہ کوئی سیاسی خلا بھی نہیں تھا۔ یہاں شعور تھا، یادداشت تھی، اور پچھلے ظلم کی پوری تاریخ موجود تھی۔
یہاں بھی وہی فضا بنائی گئی، وہی انتظامی دباؤ، وہی غیر مرئی ہاتھ جو ہر جیتی ہوئی رائے کے گرد سوالیہ نشان کھینچ دیتے ہیں۔
ہری پور میں عوام نے اپنا فیصلہ دیا۔
مگر اس فیصلے کو بھی برداشت نہ کیا جا سکا۔
یوں لگا جیسے ہر انتخاب کے بعد عوام کو یہی پیغام دیا جا رہا ہو:
“ووٹ دو، مگر فیصلہ کرنے کی اجازت مت مانگو۔”
اسی مقام پر فیض کا شعر پھر سامنے آ کھڑا ہوتا ہے، مگر اب بطور سوال:
یہ کون سی سحر ہے جو ہر درِ زنداں پر دستک دیتی ہے، مگر دروازہ کبھی نہیں کھلتا؟
فیض نے کہا تھا:
“یہ ضد ہے یادِ حریفانِ بادہ پیما کی
کہ شب کو چاند نہ نکلے، نہ دن کو ابر آئے”
آج یہ ضد شاعری نہیں رہی، یہ ریاستی رویہ بن چکی ہے۔
ضد یہ ہے کہ روشنی نہ آئے۔
ضد یہ ہے کہ سوال نہ اٹھے۔
ضد یہ ہے کہ اختلاف کو غداری اور خاموشی کو وفاداری کہا جائے۔
مگر تاریخ کا ایک اصول ہے:
طاقت وقتی ہو سکتی ہے، مگر یادداشت نہیں۔
قومیں یا تو سبق سیکھتی ہیں، یا پھر بار بار وہی کالم لکھنے پر مجبور ہوتی ہیں، انہی اشعار کے ساتھ، انہی سوالوں کے ساتھ۔
آج سوال صرف عمران خان کا نہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا یہ ملک واقعی آئین کے تحت چل رہا ہے؟
کیا عوام کا ووٹ واقعی فیصلہ کرتا ہے؟
یا ہم سب ایک ایسے نظام کا حصہ ہیں جہاں نتائج پہلے لکھے جاتے ہیں اور انتخابات بعد میں کرائے جاتے ہیں؟
فیض اگر آج زندہ ہوتے تو شاید وہ ہم سے یہ نہ کہتے کہ گھبراؤ مت، بلکہ یہ پوچھتے:
“کیا تم نے سحر کو صرف ایک خوبصورت شعر بنا لیا ہے؟”
“کیا تم نے امید کو صرف جلسوں کا نعرہ سمجھ لیا ہے؟”
سچ یہ ہے کہ سحر خود نہیں آتی۔
سحر لانی پڑتی ہے۔
اور اس کی قیمت ہمیشہ قید، کردار کشی، اور قربانی کی صورت میں ادا کی جاتی ہے۔
شفق کی راکھ میں جلتے بجھتے ستارے اب محض شاعری نہیں رہے۔
یہ ہمارے حال کی تصویر ہیں۔
اور اگر ہم نے اس تصویر کو بدلنے کی ضد نہ کی، تو آنے والی نسلیں بھی یہی پوچھیں گی:
یہ کون سی سحر تھی، جس کا وعدہ تو بہت کیا گیا
مگر جو کبھی آئی ہی نہیں؟