بنگلہ دیش کے انتخابات… آئینی و سیاسی پس منظر

بنگلہ دیش میں پارلیمانی انتخابات ہونے جارہے ہیں جن پر دنیا بھر میں اور خصوصاً پاکستان میں گہری دلچسپی لی جارہی ہے۔ دائیں بازو کے حلقے اس خواہش کا اظہار کررہے ہیں کہ جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش انتخابی کامیابی حاصل کرے۔ جماعت کے کئی کارکنوں اور عمر رسیدہ رہنماؤں نے پاکستان سے وابستگی کے باعث سزائے موت تک قبول کی، اور ان قربانیوں کو اُن کے حامی مستقبل کی کامیابی سے جوڑتے ہیں۔

بنگلہ دیش کا سیاسی و آئینی نظام ایک ایوانی پارلیمانی جمہوریت پر مشتمل ہے۔ قومی مقننہ کو بنگالی میں جاتیہ سنسد اور انگریزی میں House of the Nation کہا جاتا ہے، جسے عام طور پر پارلیمنٹ کہا جاتا ہے۔ پارلیمنٹ کی کل نشستیں 350 ہیں، جن میں سے 300 ارکان براہِ راست عام انتخابات کے ذریعے ایک رکنی حلقوں سے پانچ سال کے لیے منتخب ہوتے ہیں، جبکہ 50 نشستیں خواتین کے لیے مخصوص ہیں، جو منتخب ارکان کے ووٹوں کی بنیاد پر متناسب نمائندگی کے اصول کے تحت پُر کی جاتی ہیں۔

حکومتی نظام میں وزیراعظم حکومت کا سربراہ جبکہ صدر ریاست کا سربراہ ہوتا ہے، جسے پارلیمنٹ منتخب کرتی ہے۔ آئین کے آرٹیکل 72(3) کے مطابق پارلیمنٹ کی مدت پانچ سال ہے، جو عام طور پر پہلے اجلاس کی تاریخ سے شمار کی جاتی ہے۔ صدر کو مخصوص حالات میں پارلیمنٹ تحلیل کرنے کا اختیار حاصل ہے، جبکہ جنگ کی صورت میں ایک ایکٹ کے ذریعے اس مدت میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔

تاریخی طور پر بنگلہ دیش میں 1972ء میں آئین نافذ ہوا اور ملک کو پارلیمانی جمہوریہ قرار دیا گیا، تاہم 1975ء میں ایگزیکٹو اختیارات صدر کو منتقل کردیے گئے، جس سے وزیراعظم اور پارلیمنٹ کا کردار محدود ہوگیا۔ یہ صدارتی نظام 1991ء تک جاری رہا، جب آئین میں بارہویں ترمیم کے ذریعے دوبارہ پارلیمانی نظام بحال کیا گیا۔ اب تک ملک میں 11 پارلیمانی جبکہ 3 صدارتی انتخابات ہوچکے ہیں۔

1991ء کے بعد بنگلہ دیش میں عملاً دو جماعتی نظام قائم رہا، جس میں ایک طرف عوامی لیگ اور دوسری طرف بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کا غلبہ رہا۔ اس ماحول میں کسی تیسری جماعت کے لیے قومی سطح پر جگہ بنانا مشکل تھا۔ تاہم جاتیو پارٹی (ارشاد) نے مختلف بلدیاتی اور میئر کے انتخابات میں کامیابیاں حاصل کیں، اور 2014ء میں بی این پی کے عام انتخابات کے بائیکاٹ کے بعد بنیادی اپوزیشن جماعت کے طور پر سامنے آئی۔

آئین کے تحت صدر کو پارلیمنٹ کا باضابطہ رکن قرار نہیں دیا گیا، تاہم اسے متعدد پارلیمانی اور قانون ساز اختیارات حاصل ہیں۔ صدر پارلیمنٹ کا اجلاس طلب، ملتوی اور پارلیمنٹ کو وزیراعظم کے مشورے سے تحلیل کرسکتا ہے، اور پارلیمنٹ سے خطاب یا پیغام بھیجنے کا بھی مجاز ہے۔ عام انتخابات کے بعد پہلے اجلاس اور ہر سال پہلے اجلاس کے آغاز پر صدر کا خطاب آئینی تقاضا ہے، جس پر ایوان میں اظہارِ تشکر کی تحریک کے ذریعے بحث کی جاتی ہے۔

قومی اسمبلی سے منظور ہونے والا کوئی بھی بل صدر کی منظوری کے بعد ہی قانون بنتا ہے۔ منی بل صدر کی پیشگی سفارش کے بغیر پارلیمنٹ میں پیش نہیں کیا جا سکتا، اور اس کی منظوری کے لیے صدر کو پندرہ دن کے اندر فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ دیگر بلوں کی صورت میں صدر انہیں نظرثانی کے لیے واپس بھیج سکتا ہے، تاہم اگر پارلیمنٹ بل کو دوبارہ اکثریت سے منظور کرلے تو صدر سات دن کے اندر اس کی منظوری دینے کا پابند ہوتا ہے، بصورتِ دیگر اسے منظور شدہ تصور کیا جاتا ہے۔

پارلیمنٹ کے تحلیل ہونے یا اجلاس نہ ہونے کی صورت میں صدر ہنگامی ضرورت کے تحت آرڈیننس جاری کرسکتا ہے، جو وقتی طور پر پارلیمنٹ کے ایکٹ کے برابر حیثیت رکھتا ہے، تاہم اسے پہلے اجلاس میں پارلیمنٹ کے سامنے پیش کرنا لازم ہے، ورنہ اس کی قانونی حیثیت ختم ہوجاتی ہے۔

ان آئینی اختیارات کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگرچہ صدر کو آئینی طور پر پارلیمنٹ کا واضح جزو قرار نہیں دیا گیا، تاہم عملی طور پر وہ قانون سازی کے عمل میں ایک مؤثر اور جزوی کردار ادا کرتا ہے۔