نائب امیر جماعت اسلامی، سیکرٹری جنرل ملی یکجہتی کونسل لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ سٹھیا بھی گئے ہیں اور صیہونی شکنجے کی وجہ سے عجیب و غریب مؤقف اختیار کرکے امریکہ کے لئے جگ ہنسائی کا باعث بن رہے ہیں. ایران کے مقابلہ میں امریکہ اسرائیل کو شکست ہوچکی، دھمکیاں اور پٹاخے چلاکر دُنیا میں معاشی بلیک میلنگ کا راج قائم کئے ہوئے ہیں. ازسرِنو جنگ مسلّط کرنے سے امریکہ تنہا ہوگا. مسلم ممالک، یورپ اور چین و روس کو بالآخر امریکی صیہونی بلیک میلنگ اور ظلم کے مقابلہ میں خم ٹھوک کر کھڑا ہونا پڑے گا. مذاکرات کی کامیابی، باوقار معاہدہ اور مستقل جنگ بندی کے علاوہ 47 سال سے ایران پر مسلّط ناروا پابندیوں کا خاتمہ اب ناگزیر ہے.
لیاقت بلوچ نے جامع مسجد منصورہ میں عیدالاضحٰی نمازِ عید کی ادائیگی کے بعد خطاب، سلاٹر ہاؤسز میں الخدمت قربانی مراکز، جماعتِ اسلامی لاہور کے مرکزی قربانی کے کھالوں کے ڈپو کا وزٹ کیا اور مرکزی جمعیت اہل حدیث کے مرکزی نائب صدر ڈاکٹر عبدالغفور راشد کی جانب سے عصرانہ تقریب میں شرکت کی
پیر ہارون گیلانی، قاری یعقوب شیخ، سید حسن باری اور دیگر رہنما موجود تھے. امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکہ ایران جنگ بندی، ثالثی کے موقع پر “ابراہیمی معاہدہ” کی بات بے وقت کی راگنی ہے. “ابراہیمی معاہدہ”، بورڈ آف پیس اور غزہ کی سرزمین کو قبضہ میں لینے کی باتیں اذکارِ رفتہ ہیں، امریکہ کو اب عالمی امن کی طرف آنا ہوگا وگرنہ یو ایس اے بھی یو ایس ایس آر کی طرح تاریخ کا حصہ بن جائے گا. تمام قائدین نے “ابراہیمی معاہدہ” کو مسترد کیا اور سعودی عرب کے مؤقف کو جرآت مندانہ قرار دیتے ہوئے ثالثی کے محاذ پر پاکستان کے تعمیری مثبت کردار کی تحسین کی.
لیاقت بلوچ سے اسلامی جمعیت طلبہ لاہور، جامعہ پنجاب اور جنوبی پنجاب کے طلبہ وفود نے ملاقات کی اور ناظمِ اعلیٰ اسلامی جمعیت طلبہ صاحبزادہ وسیم احمد کی جانب سے قومی تعلیمی چارٹر پیش کیا. لیاقت بلوچ نے طلبہ وفد سے کہا کہ حکومت بیک وقت تعلیم، صحت، زراعت، صنعت کو تباہ کررہی ہے. وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی تعلیم، تحقیق، ٹیکنالوجی کی ترقی کے لئے کوئی ترجیح اور ٹھوس، واضح لائحہ عمل نہیں. تعلیمی اداروں، اسپتالوں کی نج کاری، مہنگی تعلیم اور علاج عوام کے لئے وبالِ جان بن گئے ہیں. تعلیمی اداروں میں منشیات، ہراسانی، تشدّد، غیرجمہوری اقدامات کے بڑھتے رجحانات نئے نسل کی بربادی کا دھندہ ہے. لیاقت بلوچ نے قومی تعلیمی چارٹر سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ کی جائے، جی ڈی پی کا 4 فیصد تعلیم پر خرچ کیا جائے، سرکاری کالجز، جامعات میں بھاری فیسوں کے بوجھ کے خاتمہ کے لئے حکومتیں سالانہ 200 ارب روپے دیں، طلبہ یونینز کو بحال کرکے طلبہ کے جمہوری اور سیاسی تربیت کا حق تسلیم کیا جائے. نوجوان نسل حکمرانوں سے ناراض اور بےزار ہے، مقتدر طبقے ووٹرز کی عمر بڑھاکر اپنے خلاف بغاوت کے لاوہ کو خود پھاڑے گی.#
