عام آدمی کی قوتِ خرید بری طرح متاثر

(اسلام آباد)امیر جماعت اسلامی اسلام آباد نصراللہ رندھاوا نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو عوامی توقعات، قومی ضروریات اور معاشی خودمختاری کے تقاضوں کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت ایک بار پھر عوام دوست بجٹ دینے میں ناکام رہی ہے۔ بجٹ میں مہنگائی سے متاثرہ عوام کو کوئی حقیقی ریلیف نہیں،اسلام آباد کے بنیادی مسائل کو نظر انداز کیا گیا، آئی ٹی برآمدات کے لیے کم ہدف مقرر کیا گیا، تعلیم و صحت کے شعبوں کو مطلوبہ ترجیح نہیں دی گئی جبکہ غربت کے خاتمے، آئی ایم ایف کے قرضوں سے نجات اور سودی نظام کے خاتمے کے لیے بھی کوئی واضح روڈ میپ پیش نہیں کیا گیا۔

دفتر جماعت اسلامی اسلام آباد سے میڈیا کو جاری بیان میں نصراللہ رندھاوا نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران آٹا، چاول، دودھ، گھی اور دیگر بنیادی اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جس سے عام آدمی کی قوتِ خرید بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ اس کے باوجود بجٹ میں عوام کو مہنگائی کے اثرات سے بچانے کے لیے کوئی مؤثر حکمت عملی نظر نہیں آتی۔

نصراللہ رندھاوا کا کہنا تھا کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے سنگین آبی بحران کے حل، رین واٹر ہارویسٹنگ اور نئے آبی منصوبوں کے لیے کوئی بڑا منصوبہ شامل نہیں کیا گیا۔ پورے ملک سے مریض علاج کے لیے اسلام آباد آتے ہیں ،ملک بھر سے طلبہ اعلیٰ تعلیم کے لیے وفاقی دارالحکومت کا رخ کرتے ہیں مگر بجٹ میں کسی نئے تعلیمی اور صحت کے کے قیام کا ذکر تک موجود نہیں۔

امیر اسلام آباد نے کہا کہ حکومت نے آئی ٹی برآمدات کا ہدف 7.3 ارب ڈالر مقرر کیا ہے جبکہ پاکستان کی نوجوان آبادی اور صلاحیت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ ہدف کم از کم 10 ارب ڈالر ہونا چاہیے تھا۔ تعلیم کے لیے 117.75 ارب روپے اور صحت کے لیے 16.6 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جو ملک کی ضروریات کے مقابلے میں ناکافی ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب دو کروڑ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت واقعی غربت میں کمی اور پائیدار ترقی چاہتی ہے تو اسے تعلیم، صحت، ٹیکنالوجی اور ہنرمندی میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔

امیر جماعت اسلامی اسلام آباد نے کہا کہ بجٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ پاکستان آئی ایم ایف کے قرضوں کے چنگل سے کیسے نکلے گا اور معاشی خودمختاری کیسے حاصل کرے گا۔ ایک اسلامی جمہوریہ ہونے اور وفاقی شرعی عدالت کے واضح فیصلوں کے باوجود سودی نظام کے خاتمے اور اسلامی معیشت کے نفاذ کے حوالے سے بھی کوئی عملی لائحہ عمل پیش نہیں کیا گیا۔
انہوں نے وزیراعظم کے اس بیان پر بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ آٹھ ہزار روپے تو آج ایک خاندان کے چند دنوں کے بنیادی اخراجات کے لیے بھی ناکافی ہیں، ایسے بیانات عوامی مشکلات اور زمینی حقائق سے لاعلمی کی عکاسی کرتے ہیں۔