قانون کی حکمرانی یا طاقتور کا جبر: ایئرپورٹ ہاؤسنگ سوسائٹی کا المیہ

قانون کی حکمرانی یا طاقتور کا جبر: ایئرپورٹ ہاؤسنگ سوسائٹی کا المیہ
باعث افتخار انجینئر افتخار چودھری

​کسی بھی مہذب معاشرے میں ریاست کی پہچان اس کے قانون اور اس کے تحفظ سے ہوتی ہے۔ جب محافظ ہی لٹیرے بن جائیں اور وردی کی آڑ میں قانون کو اپنے پاؤں تلے روندنا شروع کر دیں، تو پھر عوام کی چیخ و پکار کہاں سنی جائے گی؟ ایئرپورٹ ہاؤسنگ سوسائٹی، راولپنڈی میں محکمہ وائلڈ لائف کے اہلکاروں کی جانب سے پھیلائی گئی دہشت اور خوف و ہراس اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ ہمارے ملک کے کچھ سرکاری اداروں کے اندر قانون نہیں، بلکہ “جنگل کا قانون” نافذ ہے۔ ایک ایسی سوسائٹی جہاں سینکڑوں خاندان، بچے اور خواتین پرسکون زندگی گزارنے کے خواہشمند تھے، آج وہاں کی گلیاں مسلح اہلکاروں کے خوف سے سنسان پڑی ہیں۔ یہ محض ایک معمولی سا تنازع نہیں، بلکہ ایک ایسی کھلی جارحیت ہے جس نے ریاستی اداروں کی ساکھ کو زمین بوس کر دیا ہے۔
​جب سرکاری اہلکار، کسی عدالتی حکم کے بغیر، بغیر کسی قانونی اتھارٹی کے، مقامی ضلعی انتظامیہ کو اعتماد میں لیے بغیر، خود کو قانون سے بالاتر سمجھ کر گھروں میں داخل ہوں، توڑ پھوڑ کریں اور اسلحہ لہرا کر عوام کو ہراساں کریں، تو اسے سرکاری کارروائی نہیں بلکہ ریاستی دہشت گردی کہا جاتا ہے۔ ایئرپورٹ ہاؤسنگ سوسائٹی کے مکینوں نے جو سہہ لیا ہے، وہ کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں۔ ایک طرف ان کا گھر ہے جو ان کی زندگی بھر کی کمائی ہے، اور دوسری طرف وہ طاقتور اور بے لگام عناصر جو کسی بھی وقت کسی بھی قانونی جواز کے بغیر ان کا آشیاں اجاڑنے پر تلے ہوئے ہیں۔ پولیس انتظامیہ کو دی گئی دو درخواستوں کے باوجود کارروائی کا نہ ہونا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ شاید اس کھیل کے پیچھے کوئی بڑی سازش یا مضبوط ہاتھ کارفرما ہیں جو اس سب کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔
​اس واقعے کا ایک تاریک پہلو وہ “پروپیگنڈا” بھی ہے جو محکمہ وائلڈ لائف کی جانب سے پھیلایا جا رہا ہے۔ جب 3 جون 2026 کو اسسٹنٹ چیف وائلڈ لائف، لوہی بھیر ذیشان یوسف نے پولیس کو درخواست دی، تو انہوں نے سرکاری زمین پر قبضے کا دعویٰ کیا تھا۔ لیکن جب پولیس کی ٹیم نے موقع کا دورہ کیا تو حقیقت اس کے برعکس نکلی۔ وہاں کوئی کچا قبضہ نہیں بلکہ برسوں سے آباد ایک معاشرہ ہے جس میں سڑکیں، گلیاں، بجلی کے کھمبے، اور ڈی پی سی (DPC) تک تعمیرات موجود ہیں۔ پولیس رپورٹ اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ یہ زمین کسی “قبضے” والی جگہ نہیں، بلکہ ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت تعمیر شدہ سوسائٹی ہے۔ پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ محکمہ وائلڈ لائف پچھلے تین چار سالوں سے کہاں سویا ہوا تھا؟ کیا یہ سڑکیں اور گلیاں راتوں رات بن گئیں؟ کیا بجلی کے کھمبے کسی نے جادو سے نصب کر دیے؟
​حقیقت یہ ہے کہ یہ سارا تماشا قانونی نہیں، بلکہ کسی مخصوص ایجنڈے کے تحت کیا جا رہا ہے۔ جب معاملہ سول جج کی عدالت میں زیرِ سماعت ہے، جس کی اگلی پیشی 14 جولائی 2026 کو مقرر ہے، تو ایسی صورت میں محکمہ وائلڈ لائف کو کیا حق حاصل ہے کہ وہ خود منصف بن کر اپنی کارروائی شروع کر دے؟ یہ نہ صرف توہینِ عدالت ہے بلکہ قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ عدالت کا احترام ہر ادارے پر فرض ہے، لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ محکمہ وائلڈ لائف نے عدالتوں کو نظر انداز کرنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔
​اب بات کرتے ہیں اس مطالبے کی جو ہر اس شہری کے دل کی آواز ہے جو انصاف کا متلاشی ہے۔ اس ملک میں احتساب کا عمل ہمیشہ کمزور پڑ جاتا ہے کیونکہ ہم اکثر “مصلحت” کا شکار ہو جاتے ہیں۔ لیکن اس معاملے میں مصلحت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ذمہ داران کا تعین ہونا چاہیے۔ صرف موجودہ اہلکار ہی نہیں، بلکہ ان تمام افسران، اہلکاروں اور منصوبہ سازوں کا احتساب ہونا چاہیے جنہوں نے اس سوسائٹی کے مکینوں کی زندگی اجیرن بنائی۔ اگر اس کارروائی میں ملوث کوئی شخص ریٹائر ہو چکا ہے، کوئی جیل میں ہے، یا کوئی اس دنیا سے رخصت ہو چکا ہے، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کے کیے گئے جرائم معاف ہو گئے۔
​انصاف کا تقاضا ہے کہ ان کے ناموں کو بدنامی کے ساتھ تاریخ میں لکھا جائے۔ اگر کوئی مجرم مر چکا ہے، تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس کے جرائم قبر میں دفن ہو گئے۔ قانون کا ہاتھ ان کی قبروں تک پہنچنا چاہیے۔ ان کی باقیات، ان کی جائیداد، اور ان کے خاندانوں سے بازپرس ہونی چاہیے تاکہ یہ ثابت ہو سکے کہ ریاست کے ساتھ غداری اور شہریوں پر ظلم کرنے کا انجام کیا ہوتا ہے۔ اگر انہوں نے ناجائز طور پر زمینوں پر دعوے کیے، رشوتیں لیں، یا اپنی طاقت کا غلط استعمال کیا، تو ان کی قبروں پر جا کر بھی ان کی برائی اور ان کے جرائم کا تذکرہ ہونا چاہیے تاکہ آنے والی نسلیں یہ جان سکیں کہ ظلم کا انجام کیا ہوتا ہے۔ کسی کو بھی یہ چھوٹ نہیں ملنی چاہیے کہ وہ مرنے کے بعد اپنے جرائم سے بچ جائے۔ قانون کو چاہیے کہ وہ ان کی قبروں کو بھی عدل کے کٹہرے میں لائے، تاکہ مرنے والوں کے لیے بھی عبرت کا نشان بن سکے۔ جو لوگ جیلوں میں ہیں، انہیں وہاں بھی سکون نہیں ملنا چاہیے، ان سے ان کے ہر عمل کا حساب لیا جائے۔
​ایئرپورٹ ہاؤسنگ سوسائٹی کے رہائشیوں نے کوئی جرم نہیں کیا، انہوں نے تو قانونی طریقے سے زمین خریدی اور وہاں بسنے کا فیصلہ کیا۔ ان کے پاس دستاویزات ہیں، ثبوت ہیں، اور عدالتوں کے احکامات کا سہارا ہے۔ محکمہ وائلڈ لائف کے پاس اگر کوئی ٹھوس ثبوت ہے تو وہ عدالت میں پیش کرے۔ جنگل کا قانون لاگو کرنے سے طاقت کا اظہار تو ہو سکتا ہے، لیکن انصاف نہیں مل سکتا۔
​آئی جی پنجاب، وزیر اعلیٰ پنجاب، اور چیف سیکرٹری پنجاب کو اس معاملے پر خاموشی توڑنی ہوگی۔ یہ معاملہ اب صرف ایئرپورٹ ہاؤسنگ سوسائٹی کا نہیں رہا، بلکہ یہ ایک مثال بن چکا ہے۔ اگر آج ان غنڈہ گرد عناصر کو نہیں روکا گیا، تو کل کوئی اور ادارہ، کسی اور سوسائٹی پر اسی طرح حملہ آور ہوگا۔ یہ ایک خطرناک روایت ہے جو ہمارے معاشرے کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہی ہے۔
​ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ایک غیر جانبدارانہ جوڈیشل انکوائری قائم کی جائے۔ اس انکوائری میں محکمہ وائلڈ لائف کے ان افسران کو شامل کیا جائے جو اس ساری صورتحال کے ذمہ دار ہیں۔ ان کے ماضی کے فیصلوں، ان کی زمینوں سے متعلق سرگرمیوں، اور ان کے اثاثوں کی جانچ پڑتال ہو۔ جو بھی اس غیر قانونی دھاوے میں ملوث پایا جائے، اسے سخت ترین سزا دی جائے۔ یہ سزا اتنی عبرتناک ہو کہ آئندہ کوئی بھی سرکاری وردی پہن کر کسی معصوم کے گھر میں گھسنے کی ہمت نہ کر سکے۔
​ایئرپورٹ ہاؤسنگ سوسائٹی کے مکینوں کو انصاف ملنا چاہیے اور ان کے نقصانات کا ازالہ کیا جانا چاہیے۔ اگر ریاست اپنے شہریوں کے گھروں کی حفاظت نہیں کر سکتی، تو ریاست کا تصور ہی ختم ہو جاتا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ حکام بالا، خاص طور پر آئی جی پنجاب، اس معاملے کی سنگینی کا احساس کریں گے اور ان لوگوں کے خلاف کارروائی کریں گے جو قانون کی وردی پہن کر قانون کے ہی قاتل بن چکے ہیں۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ ہر مجرم کو، چاہے وہ زندہ ہو یا قبر کی تاریکیوں میں، اس کے اعمال کا حساب دینا پڑے۔ یہ ملک قانون سے چلے گا، کسی کی انا یا کسی کے ذاتی انتقام سے نہیں۔ اور اگر ہم آج خاموش رہے، تو کل یہ آگ ہمارے اپنے گھروں تک پہنچے گی۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنے اداروں کو اصلاح کی طرف لے جائیں اور ان عناصر کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں جو ریاست کے چہرے پر بدنما داغ ہیں۔ انصاف کے حصول تک یہ جدوجہد جاری رہنی چاہیے، کیونکہ انصاف کی جیت ہی پاکستان کی بقا ہے۔