بجٹ اور عوام

بجٹ اور عوام

از: حامد اطہر ملک
وفاقی بجٹ کو عموماً اعداد و شمار، خسارے، محصولات اور ترقیاتی منصوبوں کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے، لیکن عام پاکستانی کے لیے اصل سوال یہ ہوتا ہے کہ اس بجٹ سے اس کی روزمرہ زندگی میں کیا بہتری آئے گی؟ کیا مہنگائی میں کمی ہوگی؟ کیا بجلی، گیس اور پٹرول سستا ہوگا؟ اور کیا اس کی قوتِ خرید میں اضافہ ہوگا؟
بدقسمتی سے حالیہ بجٹ میں بھی انہی بنیادی سوالات کے واضح اور تسلی بخش جوابات دکھائی نہیں دیتے۔ بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتیں، جو مہنگائی پر براہِ راست اثرانداز ہوتی ہیں، عملاً بجٹ سے الگ طریقۂ کار کے تحت متعین کی جاتی ہیں۔ ان شعبوں میں لیوی، ٹیکسوں اور دیگر سرچارجز کی مد میں عوام سے بھاری محصولات وصول کیے جاتے ہیں، لیکن عوام یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ ان رقوم کا بڑا حصہ کہاں اور کس انداز میں خرچ کیا جاتا ہے۔
ایران۔امریکہ کشیدگی کے دوران عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ آیا اور پاکستان میں پٹرول کی قیمت تقریباً 400 روپے فی لیٹر تک جا پہنچی۔ بعد ازاں حکومت نے قیمتوں میں کچھ کمی ضرور کی، تاہم بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کی موجودہ قیمتوں کے مقابلے میں یہ کمی ناکافی محسوس ہوتی ہے۔ اگر حکومت عوام کو حقیقی ریلیف دینا چاہتی ہے تو پٹرولیم لیوی اور دیگر ٹیکسوں پر نظرِثانی کرتے ہوئے قیمتوں میں مزید کمی کی گنجائش پیدا کی جا سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف ٹرانسپورٹ کے اخراجات کم ہوں گے بلکہ اشیائے خورونوش سمیت روزمرہ استعمال کی متعدد اشیا کی قیمتوں میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔
اسی طرح حالیہ وفاقی بجٹ میں بجلی اور گیس کے بلوں میں بھی کوئی بڑا یا براہِ راست ریلیف نہیں دیا گیا۔ اگرچہ حکومت نے توانائی کے شعبے میں اصلاحات، گردشی قرضے میں کمی اور بجلی کے نظام کو بہتر بنانے کے اعلانات کیے ہیں، لیکن ان کے ثمرات فوری طور پر عوام تک پہنچتے دکھائی نہیں دیتے۔ گھریلو صارفین اور تاجر برادری آج بھی بلند توانائی لاگت کے باعث شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں۔
بلاشبہ بجٹ میں کچھ مثبت اقدامات بھی شامل ہیں، جن میں تنخواہ دار طبقے کو محدود ٹیکس ریلیف، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ، سماجی تحفظ کے پروگراموں کے لیے مزید فنڈز اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے وسائل کی فراہمی شامل ہے۔ تاہم یہ اقدامات اس وقت تک عام آدمی کی زندگی میں نمایاں تبدیلی نہیں لا سکتے جب تک بجلی، گیس، پٹرول اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں حقیقی کمی نہ آئے۔
اکثر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ پاکستان کی اکثریت ٹیکس ادا نہیں کرتی، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ہر شہری پٹرول، بجلی، گیس، موبائل فون، خریداری اور روزمرہ استعمال کی بے شمار اشیا پر بالواسطہ ٹیکس ادا کرتا ہے۔ اس لیے عوام یہ توقع رکھتے ہیں کہ ان کے ادا کردہ ٹیکس کا ثمر انہیں بہتر سہولیات، معاشی استحکام اور قیمتوں میں کمی کی صورت میں ملنا چاہیے۔
اگر حکومت مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے، ٹیکس نظام کو شفاف اور مؤثر بنانے، زرعی پیداوار میں اضافہ کرنے، غیر ضروری اور شاہانہ سرکاری اخراجات میں کمی لانے اور توانائی کے شعبے میں حقیقی اصلاحات نافذ کرنے میں کامیاب ہو جائے تو آئندہ مہینوں میں مہنگائی میں بتدریج کمی کے امکانات روشن ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ مہنگائی کا تعلق صرف بجٹ سے نہیں بلکہ عالمی تیل کی قیمتوں، روپے کی قدر، زرعی پیداوار، توانائی کے نرخ اور حکومتی معاشی پالیسیوں پر مؤثر عمل درآمد سے بھی ہے۔ لہٰذا بجٹ کو صرف ایک ابتدائی قدم سمجھنا چاہیے۔ عوام کو حقیقی ریلیف اسی وقت ملے گا جب حکومتی فیصلوں کا محور محض مالیاتی اہداف نہیں بلکہ عام شہری کی معاشی بہتری ہو، اور جب پالیسیوں کے اثرات کاغذوں سے نکل کر عوام کی زندگی میں بھی محسوس ہونے لگیں۔