اسلام آباد—— پبلک سروسز انٹرنیشنل (PSI) سے وابستہ مزدور یونینوں نے حکومتِ پاکستان سے بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی مجوزہ نجکاری روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجلی کے شعبے میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران نجکاری کی پالیسیوں سے نجی کمپنیوں کو مالی فوائد تو حاصل ہوئے تاہم صارفین کے لیے بجلی مزید مہنگی ہوئی اور بجلی کی حقیقی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو سکا۔یہ مطالبہ نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں منعقدہ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کیا گیا جس میں پبلک سروسز انٹرنیشنل ایشیا پیسیفک کی ریجنل سیکرٹری کیٹ لیپن، رپورٹ کے مرکزی مصنف ایڈورڈ ملر، آل پاکستان واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک ورکرز یونین کے صدر عبداللطیف نظامانی، سی ڈی اے مزدور یونین کے جنرل سیکرٹری چوہدری محمد یٰسین، چوہدری عبدالرحمن عاصی، لالا سلطان خان، رمضان خان اچکزئی، گوہر تاج، جاوید بلوچ، چوہدری سرفراز، ولی الرحمن اور دیگر مزدور رہنماؤں نے شرکت کی۔مزدور رہنماؤں نے اپنی بات کی تائید کے لیے،،کم کے لیے زیادہ ادائیگی، پاکستان کے نجکاری شدہ بجلی کے شعبے میں ادائیگیاں اور منافع،، کے عنوان سے تیار کی گئی ایک تحقیقی رپورٹ کا حوالہ دیا جو گزشتہ روز فریڈرک ایبرٹ شٹفٹنگ (FES) پاکستان کے زیر اہتمام قومی مزدور کانفرنس 2026 میں جاری کی گئی۔ رپورٹ پبلک سروسز انٹرنیشنل (PSI) اور فریڈرک ایبرٹ شٹفٹنگ (FES) کی مشترکہ کاوش سے تیار کی گئی جبکہ اسے سینٹر فار انٹرنیشنل کارپوریٹ ٹیکس اکاؤنٹیبلٹی اینڈ ریسرچ (CICTAR) نے مرتب کیا۔رپورٹ کے مطابق 2021 سے 2024 کے دوران پاور پرچیز ایگریمنٹس (PPAs) کے تحت آزاد بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں (IPPs) کو کی جانے والی ادائیگیاں دوگنا سے زیادہ بڑھ گئیں جبکہ گزشتہ دو برسوں میں ان ادائیگیوں کا 60 فیصد سے زائد حصہ کیپیسٹی پیمنٹس کی مد میں ادا کیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نجی شعبے میں بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت بڑھانے پر کھربوں روپے کی سرمایہ کاری کے باوجود بجلی کی حقیقی پیداوار میں محدود اضافہ ہوا جبکہ اس وقت بھی ملک کی تقریباً دو تہائی بجلی سرکاری شعبے کے بجلی گھروں سے پیدا کی جا رہی ہے۔مزدور رہنماؤں کا کہنا تھا کہ متعدد نجی کمپنیوں کو بجلی کی کم پیداوار کے باوجود اربوں روپے کی کیپیسٹی پیمنٹس ادا کی گئیں جس کے باعث بجلی کے نرخوں میں مسلسل اضافہ ہوا اور اس کا مالی بوجھ صارفین پر منتقل ہوا۔ انہوں نے کہا کہ رپورٹ کے نتائج اس امر کے متقاضی ہیں کہ حکومت موجودہ بجلی خریداری معاہدوں اور نجکاری کی سابقہ پالیسیوں کا آزادانہ اور شفاف جائزہ لے اس سے قبل کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی مزید نجکاری کی جائے۔انہوں نے کہا کہ سستی اور قابلِ استطاعت بجلی معاشی ترقی، صنعتی پیداوار اور عوامی فلاح کے لیے ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق بجلی کی مسلسل بڑھتی قیمتیں گھریلو صارفین اور کاروباری شعبے دونوں کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہیں جبکہ ڈسکوز کی نجکاری سے نہ صرف صارفین پر مزید مالی دباؤ پڑ سکتا ہے بلکہ ہزاروں ملازمین کے روزگار کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔مزدور رہنماؤں نے کہا کہ نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لیے اختیار کی گئی پالیسیوں نے نجی کمپنیوں کے منافع میں اضافہ کیا تاہم بجلی کی حقیقی پیداوار میں نمایاں بہتری نہیں آ سکی۔ ان کے مطابق کئی معاہدے 2040 کی دہائی تک برقرار رہیں گے، جبکہ بڑھتے ہوئے نرخوں کے باعث صارفین قومی گرڈ سے الگ ہو رہے ہیں جس کا مالی بوجھ کم آمدنی والے صارفین پر منتقل ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی پیدا کرنے کے شعبے میں نجکاری سے پیدا ہونے والے مسائل تقسیم کار کمپنیوں کی مزید نجکاری سے حل نہیں ہوں گے۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیٹ لیپن نے کہا کہ نجکاری کا موجودہ ماڈل اخلاقی اور معاشی دونوں حوالوں سے ناکام ثابت ہوا ہے۔ ان کے مطابق نجی کمپنیاں غیر فعال بجلی گھروں پر بھی اربوں روپے کماتی ہیں، جبکہ محنت کش خاندان مہنگی بجلی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈسکوز کی نجکاری سے قومی وسائل کا مزید حصہ نجی منافع میں منتقل ہوگا اور توانائی کے شعبے میں قابلِ تجدید ذرائع کی منتقلی بھی عوامی مفاد کے بجائے نجی مفادات کے زیر اثر آ سکتی ہے۔مزدور رہنماؤں نے کہا کہ وہ نجکاری کی مخالفت جمہوری اور قانونی ذرائع سے جاری رکھیں گے۔ انہوں نے نیشنل انڈسٹریل ریلیشنز کمیشن (NIRC) کے حالیہ فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سی ڈی اے مزدور یونین نے صفائی، پانی کی فراہمی، ماحولیات اور دیگر بنیادی عوامی خدمات کی آؤٹ سورسنگ اور نجکاری کے خلاف مقدمے میں کامیابی حاصل کی جو ان کے بقول اس بات کا ثبوت ہے کہ منظم اور اجتماعی جدوجہد کے ذریعے نجکاری کی پالیسیوں کو مؤثر انداز میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔پریس کانفرنس کے اختتام پر مزدور تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی مجوزہ نجکاری فوری طور پر روکی جائے، بجلی خریداری معاہدوں اور کیپیسٹی پیمنٹ نظام کا آزادانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے تمام مراحل میں شفافیت، عوامی نگرانی اور جوابدہی کو یقینی بنایا جائے، سستی اور قابلِ رسائی بجلی کو بنیادی عوامی خدمت کے طور پر برقرار رکھا جائے، مزدوروں کے حقوق اور روزگار کے تحفظ کی ضمانت دی جائے اور بجلی کے شعبے سے متعلق کسی بھی بڑے فیصلے سے قبل ٹریڈ یونینوں سمیت تمام متعلقہ فریقوں سے بامعنی مشاورت کی جائے۔
