تیل، بجلی، گیس، یوٹیلٹی بلز اور شاہراہوں پر ٹول ٹیکس میں ہوشربا اضافہ ناقابلِ برداشت

نائب امیر جماعت اسلامی، سیکرٹری جنرل ملی یکجہتی کونسل لیاقت بلوچ نے میڈیا نمائندگان اور اسلام،آباد، شمالی پنجاب جماعتِ اسلامی کے قائدین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بجلی، گیس، پٹرول، ڈیزل پر حکومت کے ناجائز لیوی، ٹیکسز کے ناقابلِ برداشت بوجھ کے خلاف امیر جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمن کی کال پر ملک بھر میں احتجاج، دھرنے اور سڑکیں بند ہوگئیں اور عوام نے اپنے مسائل کے حل کے لئے بھرپور احتجاج ریکارڈ کروایا. عوام کے لئے تیل، بجلی، گیس، یوٹیلٹی بلز اور شاہراہوں پر ٹول ٹیکس میں ہوشربا اضافہ ناقابلِ برداشت ہے. زراعت، صنعت، تجارت، گھریلو صنعت اور دیہاڑی دار مزدور کے لئے پیداواری لاگت میں اندھا دُھند اضافہ جان لیوا بن گیا ہے. معیشت کا پہیہ جام ہورہا، ہے، عوام کا خون نچوڑا جارہا ہے اور ملک کو دوست ممالک کے قرضوں کے سہارے عارضی وینٹی لیٹر پر زندہ اور عالمی مالیاتی اداروں کے پاس گِروی رکھا جارہا ہے. یہ امر بالکل عیاں ہے کہ معرکہ حق کی عظیم کامیابی کے بعد انڈیا اور پاکستان کی دشمن قوتیں پاکستان میں عدم استحکام اور دہشت گردی کےلئے ہر حربہ استعمال کررہے ہیں، لیکن یہ المیہ ہے کہ اس کے مقابلے میں حکومت، فوج اور مقتدر طبقہ اندرونی استحکام کےلئے کوئی پائیدار اقدام نہیں کررہے. اپنی ساکھ اور بے قدری کی وجہ سے حکومت حالات کے سامنے بےبس اور مفلوج ہے. حکومت اور اُس کے اتحادی مفاد پرستوں، جاہ پرستوں کا ٹولہ اور بلیک میلر مافیا ہے اور سکیورٹی فورسز طاقت اور زورآوری کی بنیاد پر ملک کو ملیامیٹ کرنے کے اُصول پر کاربند ہے،جوکہ سراسر ایک غلط بیانیہ اور ناجائز طرزِ حکمرانی ہے.
9 اگست کو چاروں صوبوں کے گورنر ہاؤسز کے باہر پُرامن مظاہرہ اور عوامی مسائل کے حل کےلئے زبردست احتجاج ہوگا. حکمران عوامی مسائل پر پُرامن احتجاج کی بات سُنے. حکومتی رہاستی تشدّد اور عدم حکمت خود حکمرانوں کےلئے مہنگا سودا ہوگا. حکومت ضِد چھوڑے، آئی ایم ایف کی غلامی ترک کرے، ملکی معیشت کی بحالی کو ترجیح دے اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر ناجائز لیوی، مارجنز اور ٹیکسز کا خاتمہ کرے.
لیاقت بلوچ نے سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے مشترکہ دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے توقع ظاہر کی کہ اگلے مرحلہ میں انشاءاللہ ایران اور قطر بھی اس معاہدے کا حصہ ہوں گے. پاکستان، ایران اور افغانستان کا جنوبی ایشیا میں ایک پیج اور معاہدے پر اکٹھا ہونا ناگزیر ہے. افغانستان کی طالبان قیادت اپنی سرزمین پر دہشت گردی کی سرپرستی ختم کرے، دہشت گردی اور دہشت گردوں کے مائنڈ سیٹ انسان دشمن اور پاکستان و افغانستان کے حقیقی دشمن ہیں. ہندوستان کسی صورت افغانستان کا دوست نہیں ہوسکتا، اسلام اور مسلمان دشمنی انڈیا کا اوّلین ہدف ہے. پاکستان اور افغانستان کی قیادت کشیدگی کے خاتمہ، پاک افغان عوام کو ریلیف دینے کےلئے سفارتی محاذ پر ثالثوں کے ذریعے حالات کو نارمل بنائیں. وزیراعظم اور فیلڈمارشل آزادکشمیر میں جاری عوامی احتجاج کو اب مذاکرات کے ذریعے پُرامن اختتام کی طرف لے جائیں، یہی تحریک آزادی کشمیر کی ضرورت بھی ہے اور اِسی حکمت سے ناپسندیدہ بیانیہ دم توڑ دے