نائب امیر جماعت اسلامی، مجلسِ قائمہ سیاسی قومی امور کے صدر لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ جماعتِ اسلامی نے پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ کے مابین “مکہ دفاعی معاہدے” کا خیرمقدم کرتے ہوئے اِس میں وسعت لانے کی اہمیت پر متوجہ کیا ہے. تین اھم مسلم ممالک کا سفارتی معاہدہ بہت اھم، تاریخ ساز اور دفاعی اعتبار سے مِلّتِ اسلامیہ کا طویل مدت سے خواب اور مطالبہ رہا ہے. یہ امر بھی نوشتہ دیوار ہے کہ یہ معاہدہ اسلام، عالمِ اسلام اور مِلّتِ اسلامیہ کی دشمن قوتوں کے ناپاک عزائم کی موت ہے اس لئے اُنہیں ایک آنکھ بھی نہیں بھارہا. پاکستان کے نائب وزیراعظم/وزیر خارجہ اور ترکیہ و سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کا مکہ دفاعی معاہدہ پر وضاحتی بیان اچھا ہے لیکن پاکستان میں ضروری ہے کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں معاہدہ سے متعلق آگہی دی جائے، خواہ اِن کیمرہ اجلاس ہو، تاکہ تحفظات، اعتراضات کا ازالہ ہوجائے اور مضبوط قومی مؤقف قومی سلامتی کےلئے کارگر ہوجائے.
لیاقت بلوچ نے منیارٹی ڈے کے موقع پر مسلم، عیسائی، سکھ، ہندو اور دیگر تمام مذاہب کی قیادت کی مشترکہ تقریب سے خطاب کیا اور منصورہ میں سیاسی مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم، فیلڈمارشل کی عالمی محاذ پر تعمیری اور پاکستان کےلئے مفید سرگرمیاں قابلِ تحسین ہیں لیکن جب تک ملک کے اندر سیاسی، سماجی اور معاشی استحکام نہ ہوگا تمام کوششیں بےثمر رہیں گی. سیاسی بحرانوں کے خاتمہ کےلئے حکومت، اپوزیشن قیادت اور ریاستی اداروں کو اپنا اھم ترین قومی کردار ادا کرنا ناگزیر قومی مطالبہ بن گیا ہے. تمام اسٹیک ہولڈرز آئین کی پابندیاں قبول کرلیں، عدلیہ کو آئین و قانون کے دائروں میں مکمل آزادی دی جائے، شہری حقوق کے لئے بااختیار بلدیاتی نظام اور قومی وحدت و اعتماد کی بحالی کےلئے غیرجانبدارانہ انتخابی نظام کے ساتھ قومی وسائل کی منصفانہ تقسیم کے ساتھ صوبوں کے آئینی حقِ ملکیت کاتحفظ کیا جائے. تمام اسٹیک ہولڈرز بنیادی قومی ترجیحات پر یکسو اور یک آواز ہوں. بلوچستان، خیبرپختونخوا، آزادکشمیر کی صورتِ حال پر وزیراعظم بِلا تاخیر قومی کانفرنس بلائیں.
لیاقت بلوچ نے کہا کہ 7 اگست کو 500 سے زائد مقامات پر پُرامن احتجاج، شاہراہوں کی بندش کی تاریخ ساز مزاحمت و احتجاج کے بعد 16 اگست کو لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ میں حافظ نعیم الرحمن کی کال پر پُرامن عوامی احتجاجی دھرنے بھی نئی تاریخ مرتب کریں گے. ملک اور عوام جن گھمبیر مسائل اور بحرانوں سے دوچار ہیں اُن کی وجہ سے قومی وحدت اور یکجہتی کو سنگین خطرات لاحق ہوگئے ہیں. عوام قومی مسائل سے لاتعلق اور اپنے ذاتی مسائل کے سمندر میں غرق ہیں. ایسے ماحول میں عوامی ایشوز پر جماعتِ اسلامی کا ملک گیر احتجاج عوام الناس، خواتین، نوجوانوں میں اُمید کی نئی لہر اور جذبہ پیدا کررہا ہے
