پاکستان نے بھارت کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا

محمد اعجاز الحق
رکن قومی اسمبلی
صدر پاکستان مسلم لیگ(ضیاء الحق شہید)
اہلِ پاکستان اور دنیا بھر میں رہنے والے پاکستانی آج 14 اگست کو وطن عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان کا 80 واں یوم آزادی قومی اور ملی یگانگت کے جذبے سے معمور ہو کر ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ جوش و جذبے اور ولولے کے ساتھ اس لئے منارہے ہیں کہ گزشتہ برس پاکستان نے بھارت کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا اور اس سال یوم آزادی سے قبل پاکستان‘ سعودی عرب اور ترکیہ‘ ایک مشترکہ دفاعی معاہدے کا حصہ بنے ہیں‘ اور معاہدہ مکہ کے نام سے تاریخی اعلامیہ جاری ہوا ہے‘ ملکی سلامتی و استحکام کے تقاضوں کے تحت ہمیں آج مکار دشمن بھارت کی ان سازشوں کو ماضی کے مقابلے میں اب پہلے سے ذیادہ پیش نظر رکھنا ہے جن کا آغاز اس نے قیام پاکستان کے ساتھ بلکہ پہلے ہی شروع کردیا تھا‘ اور اس نے ایک کاری وار 5 اگست 2019ء کو اپنے ناجائز زیر تسلط کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر کے اور اسے بھارتی سٹیٹ یونین کا حصہ بنا کر لگایا تھا‘ پاکستان کے خلاف اس کی سازشیں اور کشمیر سے متعلق اس کے کسی اقدام کو پاکستانی عوام اور کشمیری مسلمان کسی صورت نظر انداز نہیں کر سکتے‘ کشمیری عوام نے پانچ سال پہلے اس بھارتی جبری اقدام کے خلاف دنیا بھر میں عشرہ استحصالِ کشمیر منایا اور 15 اگست کو کشمیری عوام اور بھارتی یومِ آزادی کو یومِ سیاہ کے طور پر منائیں گے‘ اہل پاکستان اپنے کشمیری بھائیوں کی جدوجہد آزادی کے ساتھ کھڑے ہیں کہ مسئلہ کشمیر اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے‘آج وطن عزیز کا جشنِ آزادی قائداعظم کے ویژن کے مطابق مادرِ وطن کو امن، ترقی اور خوشحالی کا گہوارہ بنانے کے پختہ عزم کے ساتھ منایا جارہا ہے‘ ہمیں ملک کو اسلام کا قلعہ بنانے کے لیے بانی پاکستان قائد اعظم کے ویژن کو آگے بڑھانا ہوگا‘یہ حقیقت تاریخ کے سینے میں محفوظ ہوچکی ہے کہ متعصب ہندو اکثریت نے مسلم دشمنی کے باعث برصغیر کے مسلمانوں کا عرصہ حیات تنگ کر کے اور انھیں اپنے سے کمتر انسان کا درجہ دے کر دو قومی نظریے کی خود بنیاد رکھی تھی جو تحریک پاکستان کی بھی بنیاد بنی اور پاکستان وجود میں آیا جس میں قائداعظم کی بے بدل قیادت میں ایک ایسے جدید اسلامی فلاحی جمہوری معاشرے کی تشکیل اور اس آزاد و خود مختار پاکستان کا تصور متعین ہوا، جس میں مسلمانوں کو نہ صرف مکمل مذہبی آزادی حاصل ہو گی بلکہ اقتصادی غلامی کے شکنجے میں جکڑنے والی ہندو بنیا ذہنیت اور انگریز کے ٹوڈی جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے استحصال سے بھی نجات ملے گی‘ اس آزادی کو حاصل کرنے کے لیے جس قدر جدوجہد کی گئی تھی آج اس کی حافظت کے لیے اس سے بھی کئی گنا ذیادہ جدوجہد اور عزم کی ضرورت ہے‘ تاکہ اس خطے کے مغلوب مسلمانوں کی جمہوری جدوجہد کے نتیجہ میں قائم ہونے والی اس مملکت خداداد میں خلقِ خدا کے راج کا تصور عملی قالب میں ڈھل جائے‘ یہ اسی وقت ممکن ہوگا کہ پنجاب‘ سندھ‘ بلوچستان اور کے پی کے‘ کشمیر اور گلگت بلتستان سب یک جان ہو جائیں‘ قیام پاکستان کے بعد اس ملک کی ترقی کے حوالے سے اور عالمی سیاست میں اس کے کردار کے حوالے بانی پاکستان قائد اعظم کا ذہن بہت واضح تھا اس لیے تو انہوں نے اسرائیل کو استعمار کی ناجائز اولاد قرار دیا تھا قیامِ پاکستان کے مقاصد، اس کے نظریے اور نظام کے حوالے سے قائداعظم کے ذہن میں کوئی ابہام نہیں تھا چنانچہ وہ قیام پاکستان کی جدوجہد کے دوران ہر مرحلے پر مسلمانانِ برصغیر اور دنیا کو قیام پاکستان کے مقاصد سے آگاہ کرتے رہے۔ آج جو دانشور حلقے نظریہ پاکستان اور قیام پاکستان کے مقاصد کے حوالے سے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت حقائق کو مسخ کر کے پیش کررہے ہیں انھیں اسلامیہ کالج پشاور میں قائداعظم کی 13 جنوری 1948ء کی تقریر کے یہ الفاظ ذہن نشین کر لینے چاہئیں کہ ”ہم نے پاکستان کا مطالبہ ایک زمین کا ٹکڑا حاصل کرنے کے لیے نہیں کیا تھا بلکہ ہم ایک ایسی تجربہ گاہ حاصل کرنا چاہتے تھے جہاں ہم اسلام کے اصولوں کو آزما سکیں۔“بدقسمتی سے قائد کی رحلت کے بعد سیاست کے ”کھوٹے سکوں“ نے پاکستان کو اسلام کی تجربہ گاہ بنانے کے بجائے اپنے مفادات اور مراعات کی آماجگاہ بنا دیا‘پاکستان کو طویل عرصہ دہشت گردی کے ناسور کا سامنا بھی رہا جسے پاک فوج نے جڑ سے اکھاڑ پھینکنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ یہ دہشت گرد پاکستان میں دہشت گردی کے لیے سرگرم ہیں جنہیں بھارتی ”را“ کی مکمل سرپرستی حاصل ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹس کے مطابق دہشت گرد افغان سرزمین استعمال کرتے ہیں۔ ان کے پاکستان میں بھی سلیپنگ سیلز ہیں۔دہشت گردی پاکستان کے اندر سے ہوتی ہے یا پاکستان کے باہر سے دہشت گردوں کی پشت پناہی بھارت کی طرف سے کی جاتی ہے۔بھارت کی سازشوں کو ٹھوس حکمت عملی اور دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹ کر ناکام بنانے کی ضرورت ہے۔بھارت پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے والوں کی مکمل سرپرستی کر رہا ہے‘ پاکستان نے ہر عالمی فورم پر یہ نکتہ اٹھایا ہے اسی کے نتیجہ میں امریکہ کی طرف سے بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کو باقاعدہ دہشت گرد تنظیمیں قرار دیا ہے اور امریکہ بھی اب بھارت کے حوالے سے اپنی پالیسی وضع کرتا نظر آ رہا ہے۔بھارت کی بے اصولیوں اور عالمی سطح پر دہشت گردی کے خاتمے میں عدم تعاون کے باعث امریکہ مودی سرکار سے دوری اختیار کر رہا ہے۔بھارت کے حوالے سے یہ پاکستان کے موقف کی بڑی جیت ہے۔ پاکستان میں جس طرح دہشت گردی ہو رہی ہے۔ سیاسی عدم استحکام بھی اپنی جگہ پر موجود ہے۔ یہ صورتحال بھارت کو پاکستان کی سلامتی کے خلاف اپنی سازشیں پھیلانے کا نادر موقع فراہم کررہی ہے‘اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ بھارتی شرارتوں سے نمٹنے کے لیے ہمیں اس وقت قائداعظم کے وژن پر عمل کرنے کی سخت ضرورت ہے۔ کشمیر کے بغیر پاکستان کا وجود مکمل نہیں ہو سکتا، لہٰذا کشمیر میں استصواب کے لیے عالمی قیادتوں اور نمائندہ عالمی اداروں کو متحرک کرنے کی ضرورت ہے۔ آج ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ ہماری کشمیر پالیسی میں کسی قسم کا ابہام پیدا نہ ہونے دیا جائے۔ کشمیریوں کی جدوجہد درحقیقت تکمیل و استحکام پاکستان کی جدوجہد ہے جو ہمارے کسی فیصلے یا اقدام کے نتیجہ میں ضائع نہیں ہونی چاہیے۔آج کے یوم آزادی کی ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ اہمیت ہے گزشتہ سال بھارت نے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کر کے پاکستان پر حملہ کیا مگر پاکستان نے اس کا منہ توڑ جواب دیا تھا‘ بھارت کی فضائیہ کے جہاز کٹی پتنگ کی طرح بجلی کی تاروں اور درختوں میں اٹک اور لٹک رہے تھے یو سمجھیے کہ 10 مئی کے بعد ایک نیا پاکستان وجود میں آ چکا ہے۔ پاک فوج نے بھارت کو عبرتناک سبق سکھایا۔ پاک فوج کے جوان جب میدان جنگ میں نکلے تو ماؤں نے کہا پاکستان کا جھنڈا بلند کرنا، جان دے دینا لیکن دشمن کو زیر کرکے آنا۔ بھارت نے دوبارہ ایسی حرکت کی تو وہ سبق سکھائیں گے کہ کانوں کو ہاتھ لگائے گا‘ آج وطن عزیز کے یومِ آزادی کے موقع پر ملک میں سیاسی استحکام کی اشد ضرورت ہے اور ملک و قوم کو درپیش چیلنجز سے وسیع تر قومی اتحاد کی ضرورت ہے ملک میں آئین و قانون کی بالادستی، جمہوریت کی حکمرانی اور انصاف کی عمل داری ہمارا مطمح نظر ہے جو درحقیقت بانیانِ پاکستان اقبال و قائد کا وطن عزیز کے لیے روشن تصور تھا اور اب بھی ہے