احمد عمران باجوہ کا بیان
پاکستان میں مہنگائی اور غربت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، اور یہ کوئی جاروبی بیان (sweeping statement)نہیں ہے بلکہ ایسی زمینی حقیقت ہے جو اعداد و شمار کا جائزہ لینے سے واضح ہو جاتی ہے لیکن شرط یہ ہے کہ وہ اعداد و شمار کسی حکومتی عہدیدار کی طرف سے جلسے یا انٹرویو وغیرہ میں پیش نہ کیے جا رہے ہوں۔ مہنگائی اور غربت میں اضافے کے باوجود حکومت اور اشرافیہ کی ترجیحات میں کوئی تبدیلی نہیں آ رہی جس کی وجہ سے مسائل مزید سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔ اس بات کی تصدیق اسی خبر سے ہو جاتی ہے کہ رواں مالی سال یعنی 2026-27ء کے پہلے ماہ (جولائی) میں ملکی درآمدات 19 فیصد بڑھنے کے باعث تجارتی خسارے میں 26 فیصد اضافہ ہوگیا۔ ادارۂ شماریات کے مطابق، غذائی اجناس، گاڑیوں اور مشینری سمیت مختلف اشیاء کی درآمد میں اضافہ ریکارڈ ہوا۔ جولائی میں 80 کروڑ 54 لاکھ ڈالر کی اشیائے خورونوش درآمد کی گئیں جن کی پاکستانی کرنسی میں مالیت 224 ارب روپے سے زائد بنتی ہے۔ درآمدات کے ضمن میں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ جولائی میں 112 میٹرک ٹن چینی بھی درآمد کی گئی۔
یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ پاکستان میں بیرونِ ملک سے آنے والی اشیائے خور و نوش کس طبقے کے استعمال میں آتی ہیں۔ عام آدمی تو اس قابل بھی نہیں ہے کہ وہ مقامی اشیاء خریدکر اپنی بنیادی ضروریات ہی پوری کر سکے کیونکہ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور بجلی کے نرخوں میں مسلسل اضافہ کر کے تقریباً تمام اشیاء کو قیمتوں کو بڑھانے کا ایسا جواز پیدا کر دیا ہے جس سے انکار کیا ہی نہیں جا سکتا ہے۔ ادارۂ شماریات، جو وفاقی حکومت کا ایک محکمہ ہے، اس کی طرف سے جاری کیے گئے تازہ اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران پٹرولیم مصنوعات کے ساتھ ساتھ ایل پی جی، آٹے، سبزیوں اور پھلوں کی قیمت میں بھی اضافہ ہوا۔ ان قیمتوں کے مقابلے میں عام آدمی کی آمدن وہیں کھڑی ہے، لہٰذا ہر گھر کا بجٹ بری طرح متاثر ہو رہا ہے اور لوگ بنیادی ضرورت کی اشیاء بھی نہیں خرید پا رہے۔
