لیڈر وعدے بدلتے ہیں، عوام پارٹیاں نہیں!

لیڈر وعدے بدلتے ہیں، عوام پارٹیاں نہیں!

تحریر: انجینیئر افتخار چودھری

اسلام آباد چیمبر میں ایک یوتھ کانفرنس تھی۔ نوجوانوں کے چہروں پر مستقبل کے خواب تھے، سوالات تھے اور سیاست کے بارے میں وہی بے یقینی بھی تھی جو آج پاکستان کے ہر باشعور نوجوان کے دل میں موجود ہے۔ اسی کانفرنس میں میرے دوست زرگل خان نے خطاب کیا۔ زرگل خان کوئی روایتی سیاسی کردار نہیں۔ ہزارہ کی سیاست میں ان کا ایک طویل پس منظر ہے۔ ایک وقت تھا جب پورے ہزارہ کے ٹکٹوں کے معاملات میں ان کا دفتر سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنا رہتا تھا۔ ترین برادران ہوں، راجہ صاحبان ہوں یا مختلف حلقوں سے آنے والے امیدوار، بہت سے لوگ ان کے دفتر کے باہر بیٹھے نظر آتے تھے۔

میں بھی انہی دنوں اپنے بھانجے کے ٹکٹ کے سلسلے میں وہاں پہنچا تھا۔ سیاسی کارکنوں کی محفلیں تھیں، گپ شپ تھی، بحثیں تھیں، کبھی تلخ کلامی بھی ہو جاتی تھی۔ سیاست آخر سیاست ہے، یہاں نظریات سے زیادہ کبھی کبھی ٹکٹ کی اہمیت بڑھ جاتی ہے اور اصولوں سے زیادہ امیدوار کی جیب دیکھی جانے لگتی ہے۔

لیکن زرگل خان نے اس کانفرنس میں جو دو تین باتیں کہیں، وہ میرے ذہن میں اٹک گئیں۔

انہوں نے ایک بڑا سادہ مگر بنیادی سوال اٹھایا کہ ہم سیاست دانوں پر یہ الزام کیوں لگاتے ہیں کہ یہ پارٹی بدلتے ہیں؟ کیا کبھی ہم نے یہ سوال بھی پوچھا ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنے وعدے کیوں بدلتی ہیں؟ کیا ہم نے کبھی اس شخص سے حساب مانگا جس نے اقتدار میں آنے سے پہلے عوام سے ایک وعدہ کیا اور اقتدار میں پہنچ کر دوسرا راستہ اختیار کر لیا؟

زرگل خان نے جنرل پرویز مشرف کے دور کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جب بلدیاتی نظام مضبوط کرنے کی بات ہوئی، مقامی نمائندوں کو اختیار دینے کا وعدہ کیا گیا اور یہ تصور پیش کیا گیا کہ ملک کو صرف اسلام آباد، پشاور یا لاہور کے دفاتر سے نہیں بلکہ گلی، محلے اور یونین کونسل کی سطح سے چلایا جائے گا، تو انہوں نے اس سوچ کی حمایت کی۔ لیکن جب انہیں محسوس ہوا کہ وعدہ اور عمل میں فرق ہے تو انہوں نے اپنا راستہ بدل لیا۔

زرگل خان کا سوال یہ تھا کہ اگر ایک سیاسی کارکن اپنے لیڈر کے وعدے سے اختلاف کرتے ہوئے راستہ بدل لے تو سارا الزام کارکن پر کیوں؟

یہ سوال صرف زرگل خان کا نہیں، پاکستان کے کروڑوں سیاسی کارکنوں کا سوال ہے۔

ہم نے اس ملک میں سیاسی وفاداری کو عجیب معنی دے دیے ہیں۔ اگر کوئی کارکن لیڈر کی ہر بات پر آمین کہے تو وہ وفادار ہے، لیکن اگر وہ پوچھ لے کہ جناب! آپ نے وعدہ کیا تھا، پورا کیوں نہیں کیا؟ تو وہ باغی، مفاد پرست اور پارٹی بدلنے والا قرار پاتا ہے۔

یہ اصول نہیں، سیاسی غلامی ہے۔

زرگل خان نے اپنی گفتگو میں اپنی کامیابی کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک مرحلے پر وہ اپنے علاقے سے بلا مقابلہ منتخب ہوئے۔ سیاست میں بلا مقابلہ کامیابی ایک دلچسپ واقعہ ہوتی ہے، مگر اس سے زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ کسی شخص کے سیاسی سفر میں کامیابی کے ساتھ ناکامی، اختلاف اور تجربات بھی شامل ہوتے ہیں۔ انہوں نے اپنے بھائی کا حوالہ بھی دیا جو کئی مرتبہ رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے۔

میں نے زرگل خان کی گفتگو سنتے ہوئے سوچا کہ پاکستان کے سیاست دانوں نے اگر واقعی کچھ سیکھا ہے تو وہ یہی ہے کہ عوام کو ہر انتخاب سے پہلے ایک نیا خواب دکھا دو، پھر پانچ سال اس خواب کو ڈھونڈتے رہو۔

پھر گفتگو عمران خان تک پہنچی۔

زرگل خان نے کہا کہ انہوں نے عمران خان کا ساتھ اس لیے دیا کہ عمران خان نے بھی یہی وعدہ کیا تھا کہ بلدیاتی نظام مضبوط ہوگا، اختیارات نچلی سطح تک جائیں گے اور عام آدمی کو اپنے مسائل کے لیے ایم این اے یا ایم پی اے کے دروازے پر نہیں جانا پڑے گا۔

یہی تو اصل مسئلہ ہے۔

پاکستان کا سب سے بڑا المیہ شاید یہ نہیں کہ ہمارے پاس پیسہ کم ہے۔ المیہ یہ ہے کہ جو پیسہ ہے، وہ اس مقام تک نہیں پہنچتا جہاں مسئلہ موجود ہے۔

گاؤں کی گلی ٹوٹی ہوئی ہے تو ایم این اے کے پاس جاؤ۔

اسکول کی چار دیواری ٹوٹی ہوئی ہے تو ایم پی اے کے پاس جاؤ۔

پانی کی لائن خراب ہے تو کسی سیاسی شخصیت کی سفارش ڈھونڈو۔

ڈسپنسری میں دوا نہیں تو کسی وزیر کو فون کرو۔

یہ کیسا جمہوری نظام ہے جہاں ایک منتخب نمائندہ عوام کا نمائندہ کم اور ترقیاتی دفتر کا کلرک زیادہ بن جاتا ہے؟

زرگل خان نے اپنی ذاتی مثال دی تو مجھے بھی اپنے سیاسی سفر کی کئی یادیں تازہ ہو گئیں۔ میں پاکستان تحریک انصاف کے ابتدائی کارکنوں میں شامل رہا ہوں۔ اس جماعت کے خواب میں نے بھی دیکھے تھے۔ تبدیلی کا نعرہ صرف عمران خان کا نعرہ نہیں تھا، یہ ہم جیسے ہزاروں کارکنوں کی زندگی کا خواب تھا۔

لیکن پھر وہ وقت بھی آیا جب میں اپنے گاؤں کے ایک سکول کی ٹوٹی ہوئی چادر تک نہ لگوا سکا۔

سوچیے!

ایک ایسا شخص جو سیاسی جماعت بنانے والوں میں شمار ہوتا ہو، جو برسوں پارٹی کے لیے کام کرتا رہا ہو، اگر وہ اپنے گاؤں کے سکول کی ایک معمولی سی چادر بھی نہ لگوا سکے تو اسے کس چیز کا اختیار ملا؟

جب میں پرویز خٹک سے بات کرتا تو جواب ملتا کہ بھائی، ادھر جاؤ، ترین برادران کے پاس جاؤ۔ ہمارا ان لوگوں سے اختلاف بھی رہا، ناراضی بھی ہوئی، پھر کسی مرحلے پر بات بنی اور تھوڑا بہت کام بھی شروع ہوا۔

لیکن اصل سوال وہیں کھڑا رہا:

کیا ایک سیاسی کارکن کو اپنے گاؤں کے سکول کی چادر کے لیے بھی کسی بڑے سیاسی آدمی کا دروازہ کھٹکھٹانا چاہیے؟

اگر جواب ہاں ہے تو پھر ہم نے بلدیاتی نظام بنایا ہی کیوں؟

زرگل خان نے اسی مقام پر اصل بات کی۔ انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کو جو اختیارات اور وسائل ملے، ان میں سے نیچے یونین کونسل تک حصہ کیوں نہیں پہنچتا؟ قانون ایسا کیوں نہیں کہ صوبے سے آنے والا فنڈ یونین کونسل تک اپنی مقررہ تقسیم کے ساتھ پہنچے؟

یہ سوال صوبہ ہزارہ کے مطالبے سے بھی جڑا ہوا ہے۔

ہم کہتے ہیں صوبہ ہزارہ بننا چاہیے۔ میں بھی سمجھتا ہوں کہ ہزارہ جیسے بڑے، تاریخی، جغرافیائی اور انتظامی خطے کو بہتر نمائندگی اور موثر انتظامی ڈھانچے کی ضرورت ہے۔ زرگل خان بھی صوبہ ہزارہ کے حامیوں میں نمایاں آواز رہے ہیں؛ 2021 میں مختلف سیاسی جماعتوں کے لوگوں کو ساتھ ملا کر تحریکِ صوبہ ہزارہ کے قیام میں ان کا کردار سامنے آیا تھا۔

لیکن میرے ایک دوست، جو سابق ضلع ناظم ایبٹ آباد رہ چکے ہیں، نے اسی حوالے سے ایک بنیادی سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ صوبہ کسی سردار، کسی جاگیردار یا کسی طاقتور سیاسی خاندان کے ہاتھ میں چلا گیا، اگر کوئی ترین وزیراعلیٰ بن گیا، تو پھر عام آدمی کا کیا بنے گا؟ اصل مسئلہ صرف صوبہ بنانا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ صوبے کے نیچے اختیارات کس سطح تک منتقل ہوتے ہیں۔ اگر ہزارہ صوبہ بن بھی جائے، مگر یونین کونسل کی سطح تک ایک نیا اور بااختیار نظام قائم نہ کیا جائے، تو عام لوگوں کی زندگی میں کیا تبدیلی آئے گی؟

اسی لیے ان کا خیال تھا کہ موجودہ نظام کو محض نئے نقشے سے بدلنے کے بجائے اسے درست سمت میں چلایا جائے اور اٹھارویں ترمیم پر پوری طرح عمل درآمد کیا جائے۔ صوبوں کو ملنے والے اختیارات اور وسائل صرف صوبائی دارالحکومتوں تک محدود نہ رہیں، بلکہ قانون کے مطابق ضلع، تحصیل اور یونین کونسل کی سطح تک منتقل ہوں۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے صوبہ ہزارہ کا مطالبہ بھی عوامی اختیار کے حقیقی مقصد سے جڑ سکتا ہے۔

میں نے اسی کانفرنس میں ان سے ایک سوال بھی کیا۔

اگر اسلام آباد میں دو ہسپتال بھی اپنے بنیادی انتظامی مسائل حل نہیں کر پا رہے، اگر عوام کو صحت کی سہولت کے لیے دربدر ہونا پڑتا ہے اور بچوں کی جانیں ضائع ہونے کے واقعات سامنے آتے ہیں، تو کیا نیا صوبہ بنانا ہر مسئلے کا فوری حل ہے؟

زرگل خان نے جواب دیا کہ یہ صرف ایک مثال ہے، ہم صوبہ ہزارہ ضرور چاہتے ہیں۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ صوبوں کو ملنے والے وسائل نیچے عوام تک کیوں نہیں پہنچتے؟

یہ جواب مجھے پسند آیا۔

کیونکہ صوبہ بنانا ایک انتظامی حل ہو سکتا ہے، مگر اختیارات کو نیچے منتقل کرنا حکمرانی کا اصول ہے۔

آپ اسلام آباد کو پشاور سے بدل دیں، پشاور کو ایبٹ آباد سے بدل دیں، ایبٹ آباد کو ہزارہ کے کسی اور شہر سے بدل دیں، لیکن اگر اختیار پھر بھی چند ایم این ایز، ایم پی ایز اور وزیروں کے ہاتھ میں رہا تو عام آدمی کی زندگی میں کیا تبدیلی آئے گی؟

صوبہ نیا ہوگا، دفتر نیا ہوگا، گاڑیوں کے نمبر بدل جائیں گے، نقشہ بدل جائے گا، مگر عوام کا مسئلہ وہیں رہے گا۔

اسی لیے میں سمجھتا ہوں کہ صوبہ ہزارہ کی تحریک کے ساتھ ایک دوسرا مطالبہ بھی لازمی ہونا چاہیے:

اختیار یونین کونسل تک۔

پیسہ یونین کونسل تک۔

ترقیاتی منصوبہ یونین کونسل کی منظوری سے۔

مقامی نمائندے کو قانونی اختیار۔

اور سب سے بڑھ کر عوام کو یہ حق کہ وہ اپنے منتخب بلدیاتی نمائندے سے سوال کر سکیں۔

اگر یہ نظام قائم ہو جائے تو ایم این اے اور ایم پی اے بھی اپنے اصل کام کی طرف واپس آ جائیں گے۔ ایم این اے قانون سازی کرے گا، قومی پالیسی بنائے گا، وفاقی مسائل اٹھائے گا۔ ایم پی اے صوبائی قانون سازی کرے گا۔ اور گلی، نالی، پانی، مقامی سکول، بنیادی صحت اور محلے کی ضرورتیں منتخب بلدیاتی نمائندے دیکھیں گے۔

یہی جمہوریت ہے۔

لیکن پاکستان میں ہم نے جمہوریت کو الٹا کر دیا ہے۔ ایم این اے گلی بنوا رہا ہے، ایم پی اے نالی بنوا رہا ہے، وزیر ٹرانسفارمر لگوا رہا ہے، اور یونین کونسل کا نمائندہ دفتر کے باہر کھڑا اپنے اختیار کا انتظار کر رہا ہے۔

پھر ہم کہتے ہیں کہ سیاسی کارکن پارٹیاں کیوں بدلتے ہیں!

جناب! کبھی یہ بھی تو دیکھیں کہ وعدے کس نے بدلے؟

زرگل خان کی ایک بات اور بھی اہم تھی۔ انہوں نے عمران خان کے دور کے حوالے سے کہا کہ ابتدا میں بلدیاتی نظام کو اختیارات دینے کی کوشش ہوئی، مگر پھر وہی پرانا نظام واپس آ گیا جہاں اصل وسائل اور طاقت بڑے سیاسی عہدوں کے پاس رہتی ہے۔

یہ بات صرف تحریک انصاف کے لیے نہیں، مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، جے یو آئی اور ہر سیاسی جماعت کے لیے ایک آئینہ ہے۔

جو بھی جماعت اقتدار میں آتی ہے، اقتدار کو نیچے دینے سے گھبراتی ہے۔

کیونکہ جس دن یونین کونسل مضبوط ہوگئی، ایم این اے کی سفارش کمزور ہو جائے گی۔

جس دن مقامی نمائندے کے پاس اختیار آگیا، ایم پی اے کے دروازے پر رش کم ہو جائے گا۔

جس دن عوام کو معلوم ہوگیا کہ ان کے محلے کے لیے آنے والا پیسہ کہاں خرچ ہونا ہے، سیاسی سفارش کا کاروبار ختم ہونا شروع ہو جائے گا۔

اور شاید یہی وجہ ہے کہ ہمارے سیاسی نظام کو مضبوط بلدیاتی نظام سے ہمیشہ خوف محسوس ہوتا ہے۔

آج پی ٹی آئی کے اندر بھی مالی معاملات اور پارٹی فنڈنگ کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں مشعال یوسفزئی اور سلمان اکرم راجہ سے منسوب ایک مبینہ آڈیو میں ٹکٹوں اور رقم سے متعلق الزامات سامنے آئے، جبکہ سلمان اکرم راجہ نے ان الزامات کے جواب میں اپنی زندگی کو کھلی کتاب قرار دیتے ہوئے الزامات کی وضاحت طلب کی۔

یہاں بھی اصول وہی ہے:

الزام لگانا آسان ہے، حساب دینا ضروری ہے۔

اور حساب صرف مخالفین سے نہیں، اپنے لوگوں سے بھی ہونا چاہیے۔

اگر پارٹی فنڈ ہے تو حساب سامنے آئے۔

اگر ٹکٹوں کا معاملہ ہے تو طریقۂ کار سامنے آئے۔

اگر کسی نے پیسہ لیا ہے تو ثبوت کے ساتھ کارروائی ہو۔

اور اگر الزام جھوٹا ہے تو الزام لگانے والے سے بھی جواب لیا جائے۔

یہی سیاسی احتساب ہے۔

ورنہ ہر چند ماہ بعد ایک نیا اسکینڈل آئے گا، ایک نیا الزام لگے گا، کارکن آپس میں لڑیں گے، سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کی عزت اچھالیں گے اور اصل مسئلہ پھر کہیں پیچھے رہ جائے گا۔

زرگل خان کو میں اس لیے پسند کرتا ہوں کہ وہ بات گھما پھرا کر نہیں کرتے۔ دبنگ آدمی ہیں، خوبصورت گفتگو کرتے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کارکن کو عزت دیتے ہیں۔ شاید اسی لیے میں نے ان کی بات غور سے سنی۔

ہماری سیاست کو ایسے ہی لوگوں کی ضرورت ہے جو اپنے ماضی سے بھاگیں نہیں اور اپنے موجودہ لیڈروں سے سوال کرنے کی جرات رکھیں۔

صوبہ ہزارہ ضرور بنے، مگر ایسا صوبہ بنے جس میں اختیار اسلام آباد سے ایبٹ آباد، پشاور سے ہزارہ اور ہزارہ سے یونین کونسل تک منتقل ہو۔

صرف نیا صوبہ نہیں، نیا انتظامی کلچر چاہیے۔

صرف نئی اسمبلی نہیں، بااختیار بلدیاتی ادارے چاہئیں۔

صرف نئے نعرے نہیں، پرانے وعدوں کا حساب چاہیے۔

اور سب سے بڑھ کر ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ سیاسی وفاداری کا مطلب کسی لیڈر کی ہر غلطی کا دفاع نہیں۔

وفاداری کا مطلب یہ ہے کہ جب لیڈر وعدہ کرے تو اس سے وعدہ پورا کرنے کا مطالبہ کیا جائے۔

جب وہ راستہ بھٹکے تو اسے راستہ دکھایا جائے۔

اور جب وہ عوام کے حق کا اختیار اپنے پاس رکھنے کی کوشش کرے تو کارکن اس کے سامنے کھڑا ہو کر کہے:

خان صاحب! آپ نے تبدیلی کا وعدہ کیا تھا، مرکزیت کا نہیں۔

ہم نے ووٹ آپ کو دیا تھا، اپنا اختیار آپ کو نہیں بیچا تھا۔

زرگل خان کی گفتگو کا اصل پیغام شاید یہی تھا۔

پارٹیاں بدلنے والوں کو برا کہنے سے پہلے وعدے بدلنے والوں سے سوال کرو۔

اور اگر واقعی پاکستان کو بدلنا ہے تو اقتدار کو اسلام آباد کے ایوانوں سے نکال کر گاؤں کی یونین کونسل تک لے جاؤ۔

کیونکہ پاکستان کی اصل پارلیمنٹ شاید وہ شاندار عمارت نہیں جہاں تقریریں ہوتی ہیں۔

پاکستان کی اصل پارلیمنٹ وہ چھوٹا سا گاؤں ہے جہاں ایک بچہ ٹوٹی ہوئی چھت والے سکول میں بیٹھتا ہے، ایک مریض بنیادی صحت مرکز کے باہر دوا کا انتظار کرتا ہے، ایک کسان پانی کے لیے ترستا ہے، اور ایک عام آدمی اپنے محلے کی گلی بنوانے کے لیے کسی ایم این اے کی سفارش ڈھونڈتا پھرتا ہے۔

جب تک اس عام آدمی کو اپنے مسئلے کا اختیار نہیں ملتا، تب تک ہم صرف حکومتیں بدلتے رہیں گے۔

نظام نہیں بدلے گا۔