31 امریکی فوجی صدر اور ہمارے آئین شکن
ڈاکٹر شہزاد اقبال شام
میں جب کبھی جنرل ضیا کے کسی کام کی ستائش کروں تو اس تحریر کو خوب پذیرائی ملتی ہے۔ قارئین اور سماجی رابطوں پر تبصروں سے معلوم ہوتا ہے کہ جنرل ضیا آج بھی کروڑوں دلوں پر راج کرتے ہیں۔ تاہم وہ کوئی فوق البشر نہیں، وہ مدبر تھے جس کی تدبیر غلط بھی ہو سکتی ہے۔ ان کی غلطیوں کی فہرست بہت طویل ہے۔ غیر جماعتی انتخابات، طلبا تنظیموں پر پابندی، دو ہفتہ وار چھٹیوں کی بدعت وہ چند کام ہیں جن کے نتائج ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔ ان کی شہادت پر میں نے جو رائے قائم کی تھی اس پر آج بھی قائم ہوں۔ انتخابات 1985 تک وہ اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کر چکے تھے۔ نظریہ پاکستان کے عین مطابق وہ آئین میں 24 ترامیم کر چکے تھے۔ اگر وہ مزید ایک سال میں اپنے مقصد سے ہم آہنگ افراد کو جگہ جگہ متعین کر دیتے— جیسے غلام اسحاق خان— پھر مستعفی ہو کر عوام سے رابطہ رکھتے، اگلے انتخابات میں حصہ لیتے تو وہ اتنے ہر دل عزیز تھے کہ انہیں تادم مرگ کوئی نہ ہلا سکتا۔
عساکر کے سیاست میں آنے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ ہر اچھے سیاست دان کے لیے فوجی نظم و ضبط سے گزرنا از حد ضروری ہے۔ امریکی سیاست تو فوجیوں سے بھری پڑی ہے جہاں کل 45 صدور میں سے 31 وہ ہیں جو مسلح افواج میں رہ کر سیاست میں آئے تھے۔ افغانستان پر نیٹو قبضے کے وقت برطانوی شہزادہ ہیری ہیلی کاپٹر پائلٹ بھی شامل تھے۔ وہ دو دفعہ مرتے مرتے بچے۔ فرانس کے 25 صدور میں سے 13 مسلح افواج کا پس منظر رکھتے ہیں۔ کچھ تو جنگوں میں بھی شریک رہے۔ تفصیل کا موقع نہیں، یوں سمجھ لیجئے کہ اگرچہ ترقی یافتہ معاشرے بجائے خود مضبوط نظم و ضبط میں کسے ہوئے ہیں۔ اس کے باوجود وہاں کے عوام وہی حاکم چنتے ہیں جو فوجی پس منظر رکھتا ہو، بشرطیکہ وہ عوام کے توسط سے آئے۔ یہ راستہ اختیار نہ کرنے والے اولیور کرامویل کا وہی حشر ہوا جو اپنے جسٹس سیٹھ وقار مرحوم نے ایک آئین شکن کے لیے تجویز کیا تھا۔ عشروں بعد عدالتی حکم پر کرامویل کی سڑی ہوئی لاش قبر سے نکالی گئی اور اس کا سر کاٹ کر ویسٹ منسٹر ہال کے آگے عشروں تک لٹکایے رکھا گیا۔ اور یہ سب کچھ بذریعہ جمہوریت اور عدالت ہوا۔
ہر منظم معاشرہ مزید نظم و ضبط اپنے عساکر سے لیتا ہے جو عوام میں رہ کر مسائل سمجھتے سیکھتے ہیں، ان کا اعتماد لیتے ہیں۔ پھر وہی فوجی سیاست دان سیاہ و سفید کے مالک بن جاتے ہیں۔ اب چاہے وہ ملک کو ون یونٹ بنا ڈالیں اور چاہیں تو اس ایک یونٹ کو چار بنا دیں۔ یہ اختیار مطلقاً عوامی نمائندوں کا ہے کہ وہ اپنے ملک کو کس شکل میں دیکھیں۔ چار سال قبل اس نو زائدہ “سیاست دان” کے نام سے کوئی شخص واقف نہیں تھا، لیکن ایک دن یکا یک اس نے، پتا نہیں کس کے کہنے پر، پورا ملکی نظام لپیٹ دینے کا اشارہ دے دیا۔ بلوچ شورش سے نمٹتے فوجی اور پولیس افسروں جوانوں کی میتوں کو کندھا دیتے ہوئے لواحقین کی کمریں ٹوٹ گئیں تو انہیں ان صاحب نے بتایا: “بلوچستان ؟ ارے وہ تو ایک ایس ایچ او کا مسئلہ ہے”. کرکٹ ٹیم بہت کمزور سہی، لیکن کچھ تو کر رہی تھی۔ آج وہ اکسیجن ٹینٹ میں پڑی ہے۔ چھپ کر اجنبی ملک میں داخل چھاتہ بردار کا کام محدود سا ہوتا ہے، وہ جنگ لڑتا ہے نہ اس میں جنگی صلاحیت ہوتی ہے۔ سیاست صرف امامان سیاست ہی کو سزا وار ہے جن کی پشت پناہی کوئی “اور” نہیں، ان کی اپنی کارکردگی کرتی ہے۔
دیوالیہ ہونے کے قریب پاکستان نے چار سال سے پروقار انداز میں سر اٹھا لیا تھا۔ مسلح افواج نے 1971 اور 1999 کی ہزیمت کا یوں بدلہ لیا کہ ملک اور کل عالم میں ان کی واہ واہ ہو رہی تھی۔ ترکیہ اور سعودیہ کے ساتھ دفاعی معاہدہ ہوا، مراکش سے الگ دفاعی معاہدہ ہوا۔ کویت نے ہماری مسلح افواج پر اعتماد کرتے ہوئے اپنا تربیتی نظام ان کے حوالے کر دیا تھا۔ بنگلہ دیش ہمارے اتنا قریب آگیا کہ اس نے بھی اس سہ فریقی معاہدے میں شمولیت کا عندیہ دے دیا تھا۔ ڈالر 290 سے کم ہو کر 278 میں مل رہا تھا، برآمدات، ترسیلات اور محصولات میں بتدریج اضافہ ہو رہا تھا، ٹی ٹی پی اور بلوچ فتنہ خاتمے کے قریب تھے، سندھی قوم پرست نہ ہونے کے برابر رہ گئے تھے۔ پھر اچانک اور غالباََ کسی ففتھ کالمسٹ کی “تحقیق” پر، مزید صوبوں کی پھلجھڑی چھوڑ دی گئی۔
نتیجہ یہ نکلا کہ فیلڈ مارشل صاحب کی شبانہ روز محنت لوگ لمحہ بھر میں بھول گئے۔ سوشل میڈیا دیکھوں تو دل ڈوبنے لگتا ہے۔ سندھی قوم پرستوں، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کو چھوڑیں، آج ایک سے ایک بڑھ کر نئے نئے انتشاری گروہ پیدا ہو چکے ہیں۔ کون سی معاشی خوشحالی اور کیسی دفاعی حکمت عملی، لگتا یہ ہے کہ ہر تیسرا شخص پاکستان کے درپے ہے اور ہر دوسرا کسی نہ کسی انتشاری گروہ کی طرف لپک رہا ہے۔ میں نے سیاسی سوچ والے کسی ایک شخص کو نئے صوبوں کا ہم نوا نہیں پایا۔ مقتدرہ کے تراشیدہ صنم، مفاد پرست میڈیا گروپ اور سیاسی طور پر ناکام افراد ہی اس فتنے کی وکالت کر رہے ہیں۔ ملک بچانے کا اب ایک ہی، جی ہاں زور دے کر کہوں گا کہ ایک ہی راستہ باقی ہے۔ نئے صوبے بھول جائیے۔ مضبوط، مستحکم اور با اختیار بلدیاتی ادارے ہی عوام کو مفید کاموں پر لگا کر انہیں فتنہ پروروں سے دور کر سکتے ہیں۔
فیلڈ مارشل حافظ عاصم منیر شبانہ روز محنت کر رہے ہیں۔ دعا ہے کہ جنرل ضیا کی طرح وہ بھی اپنے عرصہ ملازمت میں خوب نیک نامی کمائیں، دلوں میں جگہ بنائیں اور ریٹائر ہو کر نئے عزم کے ساتھ امریکیوں کی طرح سیاست میں آئیں۔ منطق کی بجائے وہ قرآنی آیات سے جلد سمجھ جاتے ہیں۔۔ فرمان الہی ہے: “نہ تو سورج سے ہو سکتا ہے کہ وہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات دن سے پہلے آ سکتی ہے”. غور کیجیے یہاں کائنات یا کسی کہکشاں نہیں، ہمارے نظام شمسی کا ذکر ہے جہاں طاقت کا سرچشمہ خود سورج ہے۔ اور وہ بھی کائناتی آئینی بندشوں میں اس مضبوطی سے جکڑا ہوا ہے کہ نہ وہ ننھے سے چاند کو پکڑ سکتا ہے اور نہ ذرا جلدی چل کر رات بپا کر سکتا ہے۔ اسی آئین (قرآن) باب 36 (یسین) کے اسی آرٹیکل 40 کا آخری ٹکڑا یوں ہے: “یہ (سورج چاند ستارے) سبھی اپنے اپنے مدار میں گھوم رہے ہیں”. جناب یہ باتیں آپ کے لیے نہیں ہیں۔ انہیں اپنے فیلڈ مارشل صاحب خوب سمجھتے ہیں, شاید عمل بھی کرتے ہوں گے؟
