معصوم بچوں کی چیخیں، اجتماعی بے حسی اور ہمارے ضمیر کا سوال
تحریر: ثناء اللّٰہ مجیدی
کبھی کسی نومولود کی پہلی چیخ، اس کے زندہ ہونے کی نوید بن کر ایک گھر کو خوشیوں سے بھر دیتی ہے؛ کبھی کسی بچے کی معصوم ہنسی، پورے خاندان کی رونق بن جاتی ہے؛ اور کبھی ایک ننھی سی بچی کی آواز، ماں باپ کے لیے دنیا کی ہر نعمت سے زیادہ قیمتی ہوتی ہے۔ مگر جب یہی معصوم آوازیں اچانک خاموش ہو جائیں، جب ننھے وجود تشدد، غفلت یا درندگی کی بھینٹ چڑھ جائیں، تو سوال صرف ایک خاندان کے غم کا نہیں رہتا؛ پورا معاشرہ کٹہرے میں کھڑا ہو جاتا ہے۔
آج پاکستان میں پے در پے ایسے واقعات سامنے آ رہے ہیں جو دل کو دہلا دیتے ہیں اور ضمیر کو جھنجھوڑتے ہیں۔ کہیں ہسپتال کی نرسری میں نومولود بچے آگ کی لپیٹ میں آ کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، کہیں ایک پانچ سالہ معصوم بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل کر دی جاتی ہے، کہیں نجی ہسپتال سے نومولود کے مبینہ طور پر غائب ہونے کی خبر سامنے آتی ہے، اور کہیں شہر کے کسی سنسان مقام سے ایک معصوم بچے کی بندھی ہوئی لاش ملتی ہے۔ یہ واقعات محض خبریں نہیں؛ یہ ہمارے اجتماعی شعور کے دروازے پر دستک ہیں۔
سوال یہ ہے کہ آخر ہم کس طرف جا رہے ہیں؟ ہمارا معاشرہ کس مقام پر کھڑا ہے؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہمارے بچے آخر کہاں محفوظ ہیں؟
۲۶ اگست ۲۰۲۶ء کو اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، یعنی پمز، کے مادر و طفل مرکز کی نرسری میں آتش زدگی کا دل خراش واقعہ پیش آیا۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق نرسری میں موجود نومولود بچوں میں سے ۱۴ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، جبکہ صرف ایک بچے کو بچایا جا سکا۔ ابتدائی اطلاعات میں آگ کے ممکنہ اسباب میں برقی خرابی یا آکسیجن کے نظام سے متعلق مسائل کا ذکر سامنے آیا، جبکہ بعد کی رپورٹنگ میں حفاظتی انتظامات، ہنگامی راستوں اور بروقت امدادی کارروائی سے متعلق سوالات بھی اٹھائے گئے۔
ذرا تصور کیجیے! وہ بچے جنہوں نے ابھی دنیا کو ٹھیک سے دیکھا بھی نہ تھا؛ جنہوں نے ابھی ماں کی انگلی پکڑ کر چلنا نہیں سیکھا تھا؛ جن کے والدین نے ان کے مستقبل کے خواب اپنی آنکھوں میں سجائے تھے؛ وہ ایک ایسی جگہ زندگی ہار گئے جہاں انہیں سب سے زیادہ محفوظ ہونا چاہیے تھا۔
ہسپتال وہ مقام ہے جہاں انسان بیماری اور موت سے جنگ لڑنے جاتا ہے۔ وہاں مریض اپنی زندگی ڈاکٹروں، عملے اور نظام کے سپرد کرتا ہے۔ ایسے میں اگر حفاظتی انتظامات کمزور ثابت ہوں تو سوال اٹھنا فطری ہے۔ البتہ چونکہ واقعہ تحقیقات کے مرحلے میں ہے، اس لیے کسی فرد یا ادارے کو حتمی طور پر ذمہ دار قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ مگر تحقیقات کا دائرہ صرف یہ معلوم کرنے تک محدود نہیں ہونا چاہیے کہ آگ کیسے لگی؛ یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ حفاظتی نظام کہاں تھا، ہنگامی راستے کس حالت میں تھے، عملہ کس قدر تربیت یافتہ تھا اور نومولود بچوں کو ہنگامی صورتِ حال میں محفوظ مقام تک منتقل کرنے کا عملی منصوبہ موجود تھا یا نہیں۔
کیونکہ ایک حادثہ صرف ایک لمحہ ہوتا ہے، مگر غفلت کے نتائج نسلوں تک رلاتے ہیں۔
پھر ہری پور کی پانچ سالہ آیت نور کا واقعہ سامنے آتا ہے، جس نے پورے ملک کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ ایک ننھی سی بچی لاپتہ ہوئی، خاندان بے بسی کے عالم میں اسے تلاش کرتا رہا، اور بالآخر اس کی لاش ایک ویران کنویں سے برآمد ہوئی۔ پولیس اور طبی حکام سے منسوب اطلاعات کے مطابق بچی کے ساتھ زیادتی کے شواہد سامنے آئے اور موت شدید صدمے اور خون بہنے کے باعث ہوئی۔ معاملہ قانونی کارروائی کے مراحل سے گزر رہا ہے، اس لیے حتمی فیصلہ عدالت ہی کرے گی۔
مگر ایک سوال عدالت سے پہلے ہمارے ضمیر کے سامنے کھڑا ہے: پانچ سال کی ایک بچی کہاں محفوظ ہے؟
آیت نور کا نام صرف ایک مقدمے کی فائل میں دفن نہیں ہونا چاہیے۔ یہ نام ہمارے لیے ایک سوال بننا چاہیے؛ ایسا سوال جس کا جواب صرف پولیس یا عدالت نہیں، پورا معاشرہ دے۔ آج آیت نور ہے، کل کسی اور گھر کی ننھی کلی ہو سکتی ہے۔ آج ایک ماں رو رہی ہے، کل کسی دوسری ماں کی گود اجڑ سکتی ہے۔ اگر بچوں کے تحفظ کو قومی ترجیح نہ بنایا گیا تو کل اخبارات کی سرخیاں بدلتی رہیں گی، مگر المیے ختم نہیں ہوں گے۔
کراچی کے علاقے ناظم آباد کے ایک نجی ہسپتال سے نومولود کے مبینہ طور پر لاپتہ ہونے کا معاملہ بھی اسی سلسلے کی ایک تشویش ناک کڑی ہے۔ متاثرہ خاندان کی شکایت اور ہسپتال انتظامیہ کے مختلف مؤقف نے کئی سوالات کو جنم دیا۔ چونکہ معاملہ زیرِ تفتیش ہے، اس لیے حتمی حقیقت تحقیقات اور قانونی کارروائی کے بعد ہی سامنے آئے گی؛ تاہم سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ ہمارے ہسپتالوں میں نومولود بچوں کی شناخت، نگرانی، ریکارڈ، سیکیورٹی اور والدین تک محفوظ حوالگی کا نظام کس قدر مضبوط ہے؟
ایک نومولود محض ایک بچہ نہیں ہوتا؛ وہ ایک خاندان کی امید، ایک ماں کی دعاؤں اور ایک باپ کے خوابوں کا مرکز ہوتا ہے۔ ایک ماں نو ماہ اپنے وجود میں ایک زندگی کو پالتی ہے، تکلیف برداشت کرتی ہے، بے شمار خواب دیکھتی ہے اور پھر جب وہ بچہ دنیا میں آتا ہے تو اسے اپنی آنکھوں کا نور سمجھتی ہے۔ ایسے بچے کی حفاظت میں معمولی سی غفلت بھی معمولی بات نہیں ہو سکتی۔
اور پھر کراچی کے کسی پل کے نیچے، کسی سنسان مقام پر ایک چھوٹے بچے کی ہاتھ، منہ اور پاؤں بندھی ہوئی لاش ملنے کی خبر سامنے آتی ہے تو دل سوال کرتا ہے: آخر وہ کون سا لمحہ تھا جب انسان کے اندر سے انسانیت نکل گئی؟
کسی بچے کے ہاتھ باندھ دینا صرف اس کے جسم کو باندھنا نہیں؛ یہ انسانیت کے ہاتھ باندھ دینے کے مترادف ہے۔ کسی معصوم کے منہ پر بندش صرف اس کی آواز کو خاموش نہیں کرتی؛ یہ ہمارے اجتماعی ضمیر کو خاموش کرنے کی کوشش بھی معلوم ہوتی ہے۔
یہ واقعات ایک دوسرے سے بظاہر مختلف ہیں، مگر ان سب کے پیچھے ایک مشترکہ سوال موجود ہے: کیا ہمارے معاشرے میں معصوم جانیں واقعی محفوظ ہیں؟
یہ مسئلہ صرف پولیس، ہسپتال، عدالت یا حکومت کا نہیں۔ والدین کی ذمہ داری اپنی جگہ، مگر ریاست کی ذمہ داری اس سے کہیں وسیع ہے۔ ریاست کا کام صرف جرم کے بعد ملزم کو گرفتار کرنا نہیں؛ جرم سے پہلے ایسا ماحول پیدا کرنا بھی ہے جہاں مجرم کو یقین ہو کہ قانون کی گرفت سے بچنا ممکن نہیں۔
اگر بچوں کے اغوا کی شکایات بڑھ رہی ہیں تو پولیسنگ کا نظام کیوں مؤثر نہیں بنایا جاتا؟ اگر ہسپتالوں میں نومولود بچوں کی حفاظت پر سوال اٹھ رہے ہیں تو باقاعدہ سیفٹی آڈٹ کیوں نہیں ہوتے؟ اگر اسکولوں اور تعلیمی اداروں میں بچوں کے تحفظ کے مسائل موجود ہیں تو مؤثر نگرانی اور حفاظتی تربیت کیوں لازم نہیں کی جاتی؟ اور اگر کسی معصوم کے ساتھ ظلم ہو جائے تو انصاف برسوں تک فائلوں میں کیوں بھٹکتا رہے؟
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ معاشرہ صرف حکومت سے نہیں بنتا۔ ہم سب اس معاشرے کا حصہ ہیں۔ کسی المناک واقعے کے بعد ہم سوشل میڈیا پر غصے کا اظہار کرتے ہیں، چند پوسٹیں لکھتے ہیں، ہیش ٹیگ چلاتے ہیں، چند دن افسوس کرتے ہیں اور پھر اگلی خبر آتے ہی پچھلا سانحہ ہماری یادداشت سے محو ہو جاتا ہے۔
مگر کیا صرف غصہ کافی ہے؟
نہیں!
ہمیں اپنے رویے بدلنے ہوں گے۔ بچوں کو محفوظ ماحول دینا ہوگا۔ والدین کو بچوں کی بات سننی ہوگی۔ انہیں یہ اعتماد دینا ہوگا کہ اگر کوئی انہیں ڈرائے، دھمکائے یا نامناسب انداز میں چھونے کی کوشش کرے تو وہ بلا خوف اپنے والدین یا کسی قابلِ اعتماد فرد کو بتا سکتے ہیں۔ اسکولوں میں بچوں کو بنیادی حفاظتی تعلیم دی جانی چاہیے اور ہسپتالوں میں نومولود بچوں کے لیے جدید نگرانی اور شناختی نظام لازمی ہونا چاہیے۔
اسلام نے انسانی جان اور عزت و آبرو کی حرمت کو غیر معمولی اہمیت دی ہے۔ ایک بے گناہ جان کا ناحق قتل پوری انسانیت کے خلاف جرم کی سنگینی رکھتا ہے۔ بچوں کے ساتھ ظلم تو اس لیے اور بھی لرزا دینے والا ہے کہ بچہ اپنے دفاع کی مکمل صلاحیت نہیں رکھتا۔ اس کے لیے والدین، معاشرہ اور ریاست ہی اس کی ڈھال ہوتے ہیں۔
اس لیے آج ہمیں صرف یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ قاتل کون ہے؟ ہمیں یہ بھی پوچھنا چاہیے کہ ایسا ماحول کیوں پیدا ہوا جہاں قاتل کو موقع ملا؟
صرف یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ آگ کیسے لگی؟ یہ بھی پوچھنا چاہیے کہ حفاظتی نظام کہاں تھا؟
صرف یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ نومولود کہاں گیا؟ یہ بھی پوچھنا چاہیے کہ نگرانی، شناخت اور ریکارڈ کا نظام کیا کر رہا تھا؟
اور صرف یہ نہیں کہنا چاہیے کہ ایک اور معصوم جان چلی گئی؛ بلکہ یہ عہد کرنا چاہیے کہ کسی دوسرے بچے کے ساتھ ایسا نہ ہو۔
حکومتوں کو بھی اپنی ترجیحات پر نظرِ ثانی کرنا ہوگی۔ سڑکیں، پل، عمارتیں، منصوبے اور معاشی ترقی اپنی جگہ اہم ہیں، مگر کسی ملک کی اصل ترقی اس وقت ہوتی ہے جب اس کے بچے محفوظ ہوں۔ جس معاشرے میں بچہ اسکول جاتے ہوئے خوفزدہ نہ ہو، ہسپتال میں محفوظ رہے، گلی میں کھیل سکے اور والدین ہر لمحہ اس کے اغوا یا زیادتی کے خوف میں مبتلا نہ ہوں، وہی معاشرہ حقیقی معنوں میں مہذب کہلانے کا حق رکھتا ہے۔
معصوم بچوں کی چیخیں صرف عدالتوں کے دروازوں پر دستک نہیں دے رہیں؛ وہ ہمارے ضمیر کے دروازے بھی کھٹکھٹا رہی ہیں۔
اگر ہم نے آج بھی آنکھیں بند کر لیں تو کل تاریخ ہم سے پوچھے گی کہ جب معصوموں پر ظلم ہو رہا تھا، جب نومولود حفاظتی غفلت کی نذر ہو رہے تھے، جب بچے غائب ہو رہے تھے اور جب ننھی کلیاں مسلی جا رہی تھیں، تب ہم کہاں تھے؟
ہمیں جواب دینا ہوگا۔
ریاست کو بھی، معاشرے کو بھی، اور ہمیں بھی۔
کیونکہ بچوں کی حفاظت صرف والدین کی ذمہ داری نہیں؛ یہ پوری قوم کی امانت ہے۔
اور جس معاشرے میں معصوم بچے محفوظ نہ ہوں، وہاں ترقی کے بلند و بالا دعوے بھی ادھورے رہ جاتے ہیں۔
یہ کیسا معاشرہ ہے، جہاں معصومیت سوال بن جائے اور انسانیت جواب کی منتظر؟
اب بھی وقت ہے کہ ہم اس سوال کو محض کالم کی سطر نہ بننے دیں، بلکہ اسے قومی عہد بنائیں۔ ہر بچے کے لیے محفوظ گھر، محفوظ اسکول، محفوظ ہسپتال، محفوظ گلی اور محفوظ مستقبل ہمارا حق بھی ہے اور ہماری ذمہ داری بھی۔
ورنہ آنے والی نسلیں ہم سے صرف یہ نہیں پوچھیں گی کہ ہم نے ملک کو کیا دیا؛ وہ یہ بھی پوچھیں گی کہ جب ان کا بچپن غیر محفوظ تھا، تب ہم نے ان کے لیے کیا کیا؟
