قومی اسمبلی این اے 168 کے امیدوار احمد عمران باجوہ کا بیان
وزیر داخلہ نے بھی زور دیا ھے
تمام وزارتوں کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرایا جائے اور اس کے نتائج عوام کے سامنے رکھے جائیں اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ اگر حالات بہتر ہو جائیں تو ایک ہزار گنا بہتر نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں وہ سمجھتے ہیں، ملک میں 80 سال سے جو نظام چل رہا ہے وہ ناکارہ ہے۔ اگر نظام درست چل رہا ہوتا تو پاکستان کہیں زیادہ ترقی کر چکا ہوتا۔ اس تلخ حقیقت سے تو انکار ممکن نہیں کہ عوام کی سلطانیِ جمہور سے وابستہ توقعات کبھی پوری نہیں ہو پائیں اس لیئے عوام کا سسٹم پر اعتماد بھی مضبوط نہیں ہوپایا۔ عوام جب اپنے روٹی روزگار، غربت، مہنگائی کے سنگین مسائل اور توانائی کے بے قابو ہوتے بحران کا جائزہ لیتے ہوئے حکمران اشرافیہ طبقات کی مراعات اور ان کے اللے تللوں پر نگاہ ڈالتے ہیں تو سسٹم کے ساتھ ان کی مایوسی اور بھی بڑھ جاتی ہے انہوں نے نئے صوبوں اور نئے انتظامی یونٹس کی ضرورت پر زور دیا سسٹم کی اصلاح کے لئے ا فکر مندی ظاہر ہوتی
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ملک میں غربت، مہنگائی، بے روزگاری، توانائی کے بحران، کمزور گورننس، ادارہ جاتی بدنظمی اور سرکش بیوروکریسی نے عام آدمی کی زندگیاں دشوار بنا رکھی ہیں۔ اگرچہ مختلف ادوار میں حکومتوں نے اصلاحات کے دعوے کیے، مگر عملی طور پر نظام کی بنیادی خامیوں کو دور کرنے کی سنجیدہ کوشش کم ہی نظر آئی۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کا ریاستی اداروں اور حکومتی نظام پر اعتماد مسلسل متاثر ہوا ہے۔ جب عام آدمی کو انصاف، روزگار، سستی توانائی، معیاری تعلیم اور بروقت صحت کی سہولتیں میسر نہ ہوں اور حکمرانوں کی مسلط کردہ مہنگائی نے آبرو مندی کے ساتھ زندگی گذارنے کی سکت بھی چھین لی ہو تو عوام میں بے چینی اور اضطراب پیدا ہونا فطری امر ہے۔ تمام وزارتوں کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے اور اس کے نتائج عوام کے سامنے رکھنے کی تجویز ایک مثبت تجویز ہے کیونکہ شفاف احتساب اور حکومتی کارکردگی کی غیر جانبدارانہ جانچ پڑتال کسی بھی جمہوری نظام کا بنیادی تقاضا ہوتا ہے۔ اگر وزارتوں، سرکاری اداروں اور ترقیاتی منصوبوں کی کارکردگی کا آزادانہ جائزہ لیا جائے اور اس کی رپورٹ عوام کے سامنے پیش کی جائے تو اس سے نہ صرف احتساب کا عمل مضبوط ہوگا بلکہ حکومتی اداروں پر عوام کا اعتماد بھی بحال ہونے میں مدد ملے گی۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ محض حکومتیں بدلنے سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ جب تک نظام میں شفافیت، میرٹ، قانون کی بالادستی، مالی نظم و ضبط، ادارہ جاتی خودمختاری اور مؤثر احتساب کو یقینی نہیں بنایا جائے گا، اس وقت تک سسٹم کے ثمرات سے عوام مستفید نہیں ہو سکتے جبکہ سلطانیِ جمہور کا تصور ہی عوام کی حکمرانی ہوتا ہے۔ بے شک عوام کو صرف دعوؤں اور بیانات سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے ہی مطمئن کیا جا سکتا ہے۔
بے شک ملک کو سیاسی استحکام کے ساتھ ساتھ انتظامی استحکام کی بھی ضرورت ہے اور اصل کامیابی اسی وقت ہوگی جب ریاستی نظام عوام کی زندگیوں میں حقیقی بہتری لانے کے قابل ہو گا۔ آج پاکستان کو ایسے فیصلوں کی ضرورت ہے جو وقتی سیاسی فائدے کے بجائے قومی مفاد، مضبوط اداروں اور بہتر حکمرانی کی بنیاد رکھیں۔ نظام کی اصلاح محض ایک نعرہ نہیں بلکہ وقت کا اہم ترین تقاضا ہے اور جب تک اس تقاضے کو عملی جامہ نہیں پہنایا جاتا، عوام کے اعتماد کی بحالی، پائیدار معاشی ترقی اور خوشحال پاکستان کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔
