احتجاج اور مظاہروں سے نمٹنے کے لیے بڑے شہروں میں کرفیو لگانے کا فیصلہ

پیرس— قا ضی ظفر اقبال

فرانس میں جاری احتجاج اور مظاہروں سے نمٹنے کے لیے بڑے شہروں میں کرفیو لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
وزیر داخلہ نے گزشتہ ہفتےاحتجاجی مظاہروں کو کنٹرول کرنے میں ناکامی پر صدر میکرون کو استعفی پیش کیاتاہم صدر نے استعفی قبول نہیں کیا۔
اعلیٰ سطحی میٹنگ کے بعد وزیر اعظم لاکورنیو نے زرائع ابلاغ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ فرانس میں جاری احتجاج سے نمٹنے ،سرکاری اور نجی املاک ،اور کاروباری مراکز کے تحفظ کے لیے پیرس ،مارسائل،لل،لیان ،تلوس ،سمیت بڑے شہروں میں جزوی کرفیو لگانے کا فیصلہ کیا ہے وزیر اعظم نے کہا یہ بہت بڑا معجزہ ہے لاکھوں عوام کے احتجاج کے پرتشدد واقعات کے دوران کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تاہم تین ہزار سے زائد دکانیں لوٹی گئیں ہیں دوہزار سے زائد افراد گرفتار کئیے گئے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں پولیس کو تمام دستیاب وسائل مہیا کریں گے ۔
احتجاج اور پرتشدد مظاہروں کے نتیجہ میں جن کا نقصان ہوا ہے حکومت انکا تخمینہ لگا کر مالی امداد دے گی۔لاکھوں ملین یورو کا نقصان ہوا ہے۔
احتجاج اور مظاہروں کے پیچھے سیاسی جماعتیں بھی شامل ہیں جوکہ چھ ماہ بعد ہونے والے صدارتی انتخاب کی وجہ سے سیاست کررہی ہیں جوکہ فرانس جیسے جمہوری ملک کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔
ہفتہ کو بھی فرانس بھر میں مہنگائی ،پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرے ہوئے وزارت داخلہ کے مطابق۔ چار لاکھ کے قریب افراد نے حکومتی پالسیوں کے خلاف احتجاج کیا جبکہ تقریباً پندرہ سو افراد کو ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا اب تک تقریباً چار ہزار افراد گرفتار ہوچکے ہیں۔
ہفتہ کو ملک گیر احتجاج مجموعی طور پر پر امن رہا کسی قسم کا کوئی ناخوشگوار واقعہ نہیں ہوا۔احتجاج کرنے والی تنظیموں کا احتجاج میں تقریباً 8لاکھ سے زائد افراد کی شرکت کا دعوی کیا