1947ء میں جب اپنی مدد آپ کے تحت کشمیریوں نے بھارت اور ڈوگرہ حکمرانوں کے خلاف اعلان جنگ کیا تو اس وقت بھارت کی فوجیں کشمیر میں سخت مشکلات سے دوچار تھیں۔ لہٰذا بھارت میں اپنے متوقع انجام کو دیکھتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ مسئلہ کشمیر یکم جنوری 1948ء و اقوام متحدہ کے چارٹرڈ کی دفعہ 35 کے تحت سلامتی کونسل میں پیش کر دیا گیا۔ سلامتی کونسل نے اس مسئلے پر طویل بحث کے بعد 21 اپریل 1948ء کو اس کے حل کے لئے 5 ممبروں پر مشتمل اقوام متحدہ کا کمیشن برائے ہندو پاک قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ کمیشن جو 7مئی 1948ء کو معرض وجود میں آیا۔ اس سلسلہ میں اپنی ابتدائی قرار داد 13 اگست 1948ء کو منظور کی لیکن پھر کئی پہلوئوں سے ناقص ، غیر واضح اور نامکمل قرار دیتے ہوئے 5 جنوری 1949ء کو دوسری قرار داد منظور کی۔ جس میں مبہم اور غیر واضح امور کو واضح کیا گیا تھا۔
درحقیقت 13 اگست 1948ء کی قرار داد کو دیکھتے ہوئے قائد اعظم محمد علی جناح نے اقوام متحدہ میں اپنے وفد کو ہدایت فرمائی کہ وہ اس نا مکمل قرار داد کو خود کمیشن کے ذریعے واضح طور پر درست کر ائے تاکہ بعد میں بھارت ان کی من مانی تو جیع اور تعبیر نہ کر سکے۔ پاکستانی وفد نے قائد اعظم کی ہدایت کو پیش نظر رکھتے ہوئے 5 جنوری 1949ء کی قرار داد کے مبہم اور غیر واضح پہلوئوں کو واضح طور پر متعین کرانے کی کوشش کی۔ 5 جنوری 1949ء والی قرار داد میں واضح کیا گیا ہے کہ ریاست میں پر امن حالات قائم ہونے کے بعد ناظم رائے شما ری بھارتی حکومت کے ساتھ مشورہ کر کے بھارت اور پاکستان کی افواج کے حتمی انخلاء کا فیصلہ کرے گا۔ جس میں ریاست کو تحفظ اور استصواب رائے کے آزادانہ انعقاد کو پوری طرح ملحوظ رکھا جائے گا۔ 1949ء کی قرار داد کی دفعہ (1) میں استصواب رائے کے معاملے کو تقسیم برصغیر کے اصولوں کے مطابق واضح طور پر متعین کر دیا گیا اور کہا گیا کہ ریاست بھارت یا پاکستان کے ساتھ الحاق کا مسئلہ آزادانہ ، غیر جانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے طے کیا جائے گااور اقوام متحدہ کے کمیشن برائے پاک و ہند کی ان قرار دادوں پاکستان اور بھارت دونوں نے تسلیم کیا تھا اور عالمی برادری نے بھی۔ بھارت1956ء تک عالمی برادری پاکستان اور کشمیریوں کو ان پر عملدرآمد کرانے کی یقین۔ دہا نی کراتا رہا ہے۔ لیکن بعد میں حیلے بہانوں سے عملدرآمد سے انکاری ہے۔ مسئلہ کشمیر آج بھی اقوام متحدہ کے ایجنڈے میں موجود ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں کشمیری 7 لاکھ جدید اسلحہ سے لیس بھارتی فوج کا نہتے مقابلہ کر رہے ہیں۔ جہاں تک مذاکرات کا تعلق ھے یہ قصہ پارینہ ھو چکے ھیں اب کشمیر پر بات نظر نہیں آتی حالیہ پاک بھارت جنگ میں مسلح افواج پاکستان نے بھارت کو عبرت ناک سبق سکھایا تو۔ امریکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالات کو محسوس کرتے ھوے مسئلہ کشمیر کے حل کا عندیہ دیا تھا لیکن ایسا کوئی ماحول نظر نہیں آتا ضرورت اس بات کی ہے کہ خارجہ سطح کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر کے اندرونی معاملات پر توجہ کی ضرورت ھے آزاد کشمیر میں آئے دن چند شر پسند عناصر اپنی نئی نئی شرائط اور نکات کے ساتھ میدان میں آکر عوام کو تنگ کر کے ماحول خراب کرتے کی کوشش کر تے ہیں۔ اس گروپ کی من مانی مسلہ کشمیر اور کشمیریوں کے لئے شدید نقصان دہ ھے نہ جانے انکی کون فنڈنگ کرکے مس گائیڈ کر رھا ھے ان لوگوں کو مسلہ کشمیر کی سنگینی کا اندازہ نہیں کہ وہ بھارت اور نریندر مودی کو تقویت پہنچا رھے ھیں پچھلی حکومت کے غلط پالیسیوں کی وجہ سے یہ گروپ پروان چڑھا ھے حکومت پاکستان بھی بھرپور کردار ادا کر رھی ھے لیکن حالات سنبھلتے نہیں آزاد کشمیر کی عوام کو اس صورت حال سے نکلیں کی ضرورت ھے
