قائداعظم یونیورسٹی میں منعقدہ کانفرنس پر حملہ افسوس ناک اور قابل مذمت ہے ، زبیر صفدر

اسلام آباد——جماعت اسلامی اسلام آباد کے سیکرٹری جنرل زبیر صفدر نے قائداعظم یونیورسٹی میں منعقدہ اسلامی معاشیات و ترقیاتی کانفرنس پر لسانی و شرپسند عناصر کی جانب سے دھمکیوں اور حملے کی کوشش کو شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیمی و تحقیقی سرگرمیوں پر اس نوعیت کا حملہ ناقابلِ برداشت اور ناقابلِ معافی جرم ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز جامعہ قائد کے وفد سے ملاقات کے دوران کیا ۔ اس موقع اسلامی جمعیت طلبہ اسلام آباد کے ناظم مصعب روحان، معتمد حاشر عباسی اور جامعہ قائد کے اساتذہ انجمن کے عہدیداران بھی موجود تھے ۔

انہوں نے کہا کہ جامعات علم، تحقیق اور
مکالمے کے مراکز ہوتے ہیں، مگر بدقسمتی سے بعض تعلیمی ادارے لسانی، قوم پرست اور شرپسند عناصر کی آماجگاہ بنتے جا رہے ہیں، جو نہ صرف تعلیمی ماحول کو تباہ کر رہے ہیں بلکہ وحدتِ پاکستان کے لیے بھی سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔

زبیر صفدر نے کہا کہ کانفرنس کو زبردستی بند کرانے کی کوشش، خواتین اساتذہ کو دھمکانا اور خوف و ہراس کی فضا پیدا کرنا بنیادی انسانی، تعلیمی اور اخلاقی اقدار کی کھلی توہین ہے۔ ایسے عناصر کے باعث قومی یکجہتی کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے، جس پر ریاستی اداروں کی خاموشی مزید تشویش ناک ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ ریاست قائداعظم یونیورسٹی میں پیش آنے والے اس واقعے کا فوری نوٹس لے اور تعلیمی اداروں سے قوم پرست و لسانی شرپسند عناصر کے خاتمے کے لیے ٹھوس اور مؤثر کارروائی عمل میں لائی جائے۔

سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی اسلام آباد نے کہا کہ ریاستی ادارے جامعات میں اپنی رِٹ بحال کریں، خوف کی فضا کا خاتمہ کریں اور علم، مکالمے اور تحقیق پر پہرے بٹھانے والوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی یقینی بنائیں، تاکہ تعلیمی ادارے اپنا اصل کردار ادا کر سکیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی ہر سطح پر تعلیمی اداروں کے امن، اساتذہ کے احترام اور طلبہ کے محفوظ مستقبل کے لیے اپنی ذمہ داری ادا کرتی رہے گی۔