بلوچستان کی اِلارمنگ صورتِ حال

نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے مظفرآباد میں کشمیر کی فقیدالمثال ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں سے پاکستانیوں کا رشتہ اسلام کی بنیاد پر ہے. 5 فروری کو پوری قوم نے دوٹوک، غیر متزلزل اعلان کردیا ہے کہ ” تم ھمارے ہو اور پاکستان تمہارا ہے”. تحریکِ آزادی کشمیر کے خلاف ماضی میں بھی ہر سازش ناکام ہوئی اور اب بھی کشمیری اپنے اتحاد آزادی حقِ خودارادیت کے حصول کے خلاف ہر سازش ناکام بنادیں گے. عالمِ اسلام کا اتحاد ہی کشمیر اور فلسطین کی آزادی کے لئے بنیاد بنے گا. کشمیریوں اور فلسطینیوں کی قربانیاں رنگ لائیں گی، صبح آزادی کا سورج طلوع ہوکر اُن کا مقدر بنے گا.
لیاقت بلوچ کی وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر فیصل ممتاز راٹھور، آل پارٹیز حریت کانفرنس کے کنوینئر غلام محمد صفی، محمود ساغر، قومی کرکٹ ہیرو شاھد آفریدی، جماعتِ اسلامی کے قائدین مشتاق احمد ایڈووکیٹ، قاضی محمد شاہد، شیخ عقیل الرحمن، راجہ آفتاب احمد اور دیگر رہنماؤں سے ملاقات ہوئی. اِس موقع پر قاضی شوکت محمود بھی موجود تھے. لیاقت بلوچ نے کہا کہ جموں و کشمیر پر بھارت کا ناجائز قبضہ کسی بھی صورت جائز نہیں کہلایا جاسکتا. آزادی، حقِ خودارادیت کشمیریوں کا بنیادی حق ہے. جماعت اسلامی کا دوٹوک مؤقف ہے کہ پاکستانی حکمرانوں یا بھارت کو یہ حق حاصل نہیں کہ کشمیریوں کو نظرانداز کرکے اپنا حل مسلّط کریں، کشمیری ہی جموں و کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے. وزیراعظم میاں شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سیّد عاصم مُنیر کا دورہ مظفرآباد بہت اچھا اقدام ہے، معرکہ حق میں بھارت کو عبرتناک شکست ہوئی، پاکستان کو پوری دُنیا میں بڑی عزت ملی، کشمیریوں کی پاکستان سے بڑی توقعات وابستہ ہیں. مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اب صرف کشمیر کونسل، اقوامِ متحدہ میں تقاریر اور جاندار بیانات کی ہی نہیں متفقہ قومی مضبوط مؤثر لائحہ عمل اور قومی پالیسی ناگزیر ہے. کشمیری ہی تنازعہ کشمیر کےاصل فریق ہیں. آر پار کی کشمیری قیادت، پوری دُنیا میں متحرک کشمیری قیادت کو اعتماد میں لےکر مشترکہ لائحہ عمل بنایا جائے. 5 فروری یومِ یکجہتئ کشمیر پوری قوم کا متفقہ قومی دن اور قاضی حسین احمد (رح) کے لئے صدقہ جاریہ ہے.
لیاقت بلوچ نے مِلی یکجہتی کونسل بلوچستان کے قائدین سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور بلوچستان کی صورتِ حال پر تبادلہ خیال ہوا. بلوچستان کی صورتِ حال کے حوالے سے سب اچھا نہیں ہے. بلوچستان کی اِلارمنگ صورتِ حال کے تناظر میں وزیراعظم بلاتاخیر عوامی اور سیاسی مسائل کے حل کے لئے کوئٹہ میں آل پارٹیز قومی کانفرنس بلائیں تمام اسٹیک ہولڈرز مل کر مشترکہ لائحہ عمل بنائیں، قومی سلامتی کے لئے سکیورٹی فورسز کی قربانیاں مشترکہ قومی مؤقف پر مبنی لائحہ عمل کے بغیر کامیاب نہیں ہوسکتیں. حکومت بلوچستان کے عوام کو اعتماد دیں اور بلوچستان کی ہی دینی، سیاسی قیادت بلوچستان کے ناراض نوجوانوں کو قومی دھارے میں لانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں. بلوچستان میں عالمی استعماری قوتوں کی مداخلت کھلی حقیقت ہے؛ ایسے میں اپنے گھر، اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا، باہمی اعتماد سازی کے اقدامات کرنا حکومت اور قومی قیادت کی قومی ذمہ داری ہے