پاکستان 2026: جمہوریت کا زوال، عسکری غلبہ اور علاقائی شورش کا منظرنامہ تحریر؛ محمد اجمل خان سینئر جرنلسٹ
پاکستان کی سیاسی تاریخ جمہوریت اور عسکری اثر و رسوخ کے مابین ایک ایسی طویل کھینچا تانی کی داستان ہے جس میں اقتدار کا ترازو کبھی ایک طرف جھکا تو کبھی دوسری طرف۔ تاہم، سال 2026 تک آتے آتے یہ بحث ایک ایسے سنگین اور فیصلہ کن موڑ پر پہنچ چکی ہے جہاں ملک کی سیاسی، معاشی اور انتظامی نبض پر مقتدر حلقوں کا کنٹرول اپنے عروج پر دکھائی دیتا ہے۔ مبصرین اور عوامی حلقوں کی جانب سے اس موجودہ صورتحال کو جمہوریت کے تابوت میں آخری کیل سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔
2026 کا منظرنامہ: جمہوریت کا زوال اور مقتدرہ کا کنٹرول
تاریخی طور پر پاکستان میں جمہوری اقدار کو بار بار دھچکے لگتے رہے ہیں، لیکن موجودہ دور کو نقاد ایک “ہائبرڈ پلس” نظام کا نام دیتے ہیں جہاں جمہوریت محض ایک ظاہری لبادے کے علاوہ کچھ نہیں رہی۔
عوامی منڈیٹ کی مبینہ پامالی: عوامی حلقوں میں یہ شدید تاثر پایا جاتا ہے کہ حقیقی عوامی نمائندوں کو دیوار سے لگا کر ایسے عناصر کو اقتدار سونپا گیا ہے جن کی اپنی کوئی سیاسی جڑیں نہیں ہیں۔ انہیں “کٹھ پتلی” اور مفاد پرست قرار دے کر یہ موقف اپنایا جا رہا ہے کہ بندوق بردار طاقت نے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے سیاسی بساط کو مکمل طور پر اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔
اداروں کا محاصرہ: عدلیہ، پارلیمنٹ اور بیوروکریسی جیسے سویلین ادارے مقتدر قوتوں کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں۔ قوانین اور آئینی ترامیم کو مبینہ طور پر عوامی فلاح کے بجائے نظام پر گرفت مضبوط کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جس نے حقیقی جمہوریت کے تصور کو عملاً دفن کر دیا ہے۔
آزاد کشمیر کی شورش: حقوق کی تحریک یا نیا محاذ؟
آزاد کشمیر میں گزشتہ طویل عرصے سے جاری سول نافرمانی اور عوامی احتجاج کی لہر نے اب ایک نئی اور سنگین صورت اختیار کر لی ہے۔ بجلی کے بلوں، سبسڈیز اور مہنگائی سے شروع ہونے والی یہ تحریک اب ایک بڑے سیاسی بحران میں تبدیل ہو چکی ہے۔
شدت پسندانہ اقدامات کا تسلسل: مقامی حالات پر نظر رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ وہاں کی صورتحال کو ہینڈل کرنے کے لیے جو سخت گیر طریقے اپنائے گئے، انہوں نے عوام میں غصے کی آگ کو مزید بھڑکایا ہے۔ بعض حلقے اسے کشمیر کی تاریخ کا ایک نیا موڑ قرار دے رہے ہیں جہاں عوامی غیظ و غضب ماضی کے تلخ سیاسی واقعات (جیسے 9 مئی) کی یاد تازہ کرتا ہے۔
مستقبل کا اعلان: کشمیری عوام میں یہ احساس شدت پکڑتا جا رہا ہے کہ سویلین اور عسکری قیادت ان کے جائز حقوق دینے میں لیت و لعل سے کام لے رہی ہے۔ 26 نومبر 2024 کے دھرنے اور احتجاجی تاریخ کو دہراتے ہوئے اب وہاں کی قیادت اور عوام کسی بڑے اور حتمی اعلان کی طرف بڑھتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، جو وفاق اور آزاد کشمیر کے تعلقات میں دور رس تبدیلیوں کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔
بلوچستان کا بحران: انتظامی تجربات بمقابلہ زمینی حقائق
بلوچستان کا مسئلہ پاکستان کا سب سے پچیدہ اور دیرینہ چیلنج بن چکا ہے، جو اب عسکری طاقت کے روایتی طریقوں سے حل ہوتا نظر نہیں آتا۔
انتظامی ڈویژنز اور بیوروکریسی کا فائدہ: حکومت کی جانب سے انتظامی کنٹرول بڑھانے کے لیے نئے اضلاع یا ڈویژنز بنانے کی پالیسی پر سخت تنقید کی جا رہی ہے۔ نقادوں کا ماننا ہے کہ ان اقدامات سے صرف بیوروکریسی کے حجم، مراعات اور بجٹ میں اضافہ ہوتا ہے، جبکہ عام بلوچ کے حالات زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔
وسائل سے محرومی اور عوامی مایوسی: بلوچستان کے عوام طویل عرصے سے یہ شکوہ کر رہے ہیں کہ گیس، معدنیات اور گوادر جیسے بڑے منصوبوں کے باوجود وہ خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ روزگار اور روٹی کی تلاش میں سرگرداں مقامی آبادی کا ایک بڑا حصہ اب وفاق کی نیت سے مایوس ہو کر پہاڑوں پر بیٹھے ناراض عناصر کے بیانیے کی طرف مائل ہو رہا ہے، جو اپنے وسائل پر مکمل آزادی اور حقِ ملکیت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
حاصلِ کلام
سال 2026 میں پاکستان ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں طاقت کے بل بوتے پر سیاسی اور انتظامی نظام کو چلانے کی کوششیں ملک کو اندرونی طور پر کھوکھلا کر رہی ہیں۔ آزاد کشمیر اور بلوچستان جیسے حساس علاقوں میں بڑھتی ہوئی عوامی دوری اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ جب تک عوام کو ان کے حقیقی سیاسی، آئینی اور معاشی حقوق نہیں دیے جائیں گے، اور جب تک عسکری طاقت سویلین امور سے پیچھے ہٹ کر حقیقی جمہوریت کو راستہ نہیں دے گی، تب تک ملک میں پائیدار استحکام کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔
