تحریر: لیاقت بلوچ
نائب امیر جماعتِ اسلامی پاکستان
سیکرٹری جنرل ملی یکجہتی کونسل پاکستان
مسلسل چار سال تک مغربی قوتوں کے خلاف آزادی کی جنگ لڑنے کے بعد مغربی قوتیں جمہوریہ ترکیہ کے بانی مصطفٰی کمال پاشا اتاترک کیساتھ معاہدہ لوزان پر دستخط کرنے پر مجبور ہوئیں اور 29 اکتوبر 1923ء کو جمہوریہ ترکیہ کی گرینڈ اسمبلی نے ملک کو جمہوریہ بنانے کا اعلان کیا اور مصطفٰی کمال ملک کے پہلے صدر منتخب ہوئے۔ اِسی مناسبت سے تُرک قوم ہر سال اپنا قومی دن مناتی ہے۔قبل ازیں دنیا کے تین براعظموں پر پھیلی ترک سلطنتِ عثمانیہ تقریباً 600 سال تک حکمرانی کیساتھ واحد سُپر پاور تھی۔ سلطنتِ عثمانیہ اور تُرک قوم کیساتھ برصغیر پاک و ہند کے مسلمان کس قدر گہرے دینی، مِلی، ثقافتی رشتوں میں جڑے ہوئے تھے، اس کا اندازہ برصغیر پاک و ہند کے مشہور صوفی شاعر امیر خُسرو (1253-1325ء) کے اس شعر سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے :
؎ زبانِ یارِ من ترکی و من ترکی نمی دانم
چہ خوش بودے اگر بودے زبانش در دہانِ من
(میرے یار کی زبان ترکی ہے اور میں ترکی نہیں جانتا، کیا ہی اچھا ہو اگر اسکی زبان میرے منہ میں ہو)
ترکیہ اور پاکستان دنیا میں دو ایسے ممالک ہیں جن کے عوام اپنے ملک کے قیام یا پھر آزادی حاصل کرنے سے قبل ہی ایک دوسرے سے گہری محبت کرتے چلے آرہے ہیں ۔ ترکیہ اور پاکستان کے درمیان سفارتی تعلقات 30نومبر 1947ءکو قائم ہوئے جو بانی پاکستان اور اُس وقت کے گورنر جنرل قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی ترک عوام کیساتھ دلی وابستگی کا ثبوت ہے ۔ مفکرِ پاکستان علامہ اقبال اور بانئ ترکی مصطفی کمال پاشا اتاترک کا سالِ وفات 1938ء ہی ہے۔ جب جدید ترکی کے بانی غازی مصطفی کمال پاشا کا انتقال ہوا تو بانئ پاکستان محمد علی جناح ؒ نے اس عظیم رہبر کے انتقال پر آل انڈیا مسلم لیگ کو درج ذیل حکم نامہ جاری کیا۔
“I request Provincial, District and Primary Muslim Leagues all over India to observe Friday the 18th of November as Kemal Day and hold public meetings to express deepest feeling of sorrow and sympathy of Musalmans of India in the irreparable loss that the Turkish Nation has suffered in the passing away of one of the greatest sons of Islam and a world figure and the saviour and maker of Modern Turkey— Ghazi Kemal Ataturk.”
Date: 11-11-1938 (Quaid-e-Azam Papers, National Archives of Pakistan)
اس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ دونوں قوموں کے تعلقات کس قدر گہری سطح پر قائم ہیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد قائداعظم محمد علی جناحؒ پاکستان کے پہلے گورنر جنرل بنے تو ترکیہ اُن گنے چنے ممالک میں شامل تھا جس نے سب سے پہلے کراچی میں اپنا سفارتخانہ کھولا اور اس کے فوراً بعد اتاترک کے قریبی ساتھیوں میں سے مشہور رائٹر ، شاعر ، سیاستدان سفارتکار یحییٰ کمال بیاتلی نے 4مارچ 1948 کو قائد اعظم کو اسناد سفارت پیش کیں۔ اس موقع پر قائد اعظم نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ’’ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان کے عوام آپ کے ملک کو بڑی قدرو منزلت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، اب دونوں ممالک کو آزاد اور خودمختار ہونے کے ناطے ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات کو مزید فروغ دینا ہوگا۔‘‘ یحییٰ کمال بیاتلی 1949میں ریٹائر ہونے تک کراچی میں اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ اس طرح ان دونوں ممالک کے درمیان 76 سال قبل قائم ہونے والے سفارتی تعلقات وقت کے ساتھ مزید فروغ پا رہے ہیں اور دونوں ممالک تمام عالمی پلیٹ فارمز پر جس طرح ایک دوسرے کی مکمل حمایت اور پشت پناہی کرتے ہیں ایسی مثال دنیا کے دیگر ممالک میں ملنا ممکن نہیں ۔
ترکیہ اور پاکستان گہرے تاریخی، سماجی اور مذہبی رشتوں میں تو جڑے ہوئے ہیں ہی لیکن دونوں قوموں کے مابین سفارتی سطح پر بھی برادرانہ تعلقات قائم روزِ اول سے ہی قائم ہیں۔ ترکیہ اور پاکستان نے ہردور میں ثابت کیا ہے کہ دونوں ممالک کے مابین تعلقات میں کبھی کمی نہیں آئی۔ اگر ان تعلقات کا جائزہ لیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ جب ترک قوم کسی مشکل کا شکار ہوئی تو پاکستانیوں نے بلا جھجک ترکوں کی حمایت کی اور اسی طرح ترکوں نے پاکستان کی۔ ترکیہ اور یونان کے درمیان قبرص کے مسئلے پر پاکستان نے روزِ اوّل سے ہی ترکوں کو کسی بھی عالمی رکاوٹ کو خاطر میں لائے بغیر سپورٹ کیا۔ مسئلہ قبرص پر ترکیہ کے ساتھ تنازعاتی ملک چونکہ یونان تھا اس لئے پاکستان کی جانب سے ترکی کی بھر پور حمایت کرنے پر یونان نے ہزاروں پاکستانیوں کو بحری کمپنیوں سے فارغ کردیا۔ جب ترکیہ کو اس کی خبر ملی تو اُس وقت کے ترک وزیر اعظم بلند ایجوت نے فوری طور پر سرکاری حکم نامہ جاری کیا کہ ان پاکستانی تارکین کو ترک بحری کمپنیوں میں ملازمتیں دے دی جائیں۔ اسی طرح ترکی پاکستان کے ساتھ ہر عالمی محاذ پر ساتھ کھڑا نظر آتا ہے۔ دونوں پاک بھارت جنگوں 1965ء اور 1971ء اور کشمیر کے مسئلے پر ترکیہ نے کسی دباؤ کو خاطر میں لائے بغیر پاکستان کے مؤقف کی حمایت کی ہے۔
سرد جنگ کے زمانے میں دونوں ممالک آر سی ڈی اور سینٹو جیسے علاقائی اتحاد میں شامل رہے تو تب بھی دوست تھے اور جب یہ عالمی اتحاد ختم ہوئے تب بھی باہمی دوستی میں کمی نہ آئی۔ آج ترکیہ دنیا میں ابھرتا ہوا ایک اہم ملک ہے، اس تناظر میں بھی دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی نوعیت مزید مستحکم ہوتی چلی جا رہی ہے۔ انقرہ، جدید ترکیہ کا دارالحکومت ہے اور اس جدید شہر کے وسط میں سب سے بڑی اور اہم شاہراہ بانئ پاکستان محمد علی جناحؒ کے نام سے منسوب ہے، ’’جناح جاہ دیسی‘‘ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی شاہراہ پر بھارت کا سفارت خانہ ہے۔ ذرا تصور کریں، ترکی میں بھارتی سفارت خانے کی تمام دستاویزات پر جب ’’جناح جاہ دیسی‘‘ لکھنا ہوتا ہے تو بھارتیوں کی کیا کیفیت ہوتی ہوگی۔ پاکستان میں مینارِ پاکستان، فیصل مسجد، داتا گنج بخش مسجد سمیت متعدد عمارات ترک معماروں / انجینئرز کے ہی شاہکار ہیں اور اسلام آباد سے لے کر لاڑکانہ تک متعدد شاہراہیں مصطفٰی کمال پاشا اتاترک کے نام سے منسوب ہیں۔
اس بدلتی دنیا میں جو َیک محوریت سے مختلف علاقائی، تجارتی اور سٹریٹجک پارٹنرشپ میں بدل رہی ہے، ترکی اور پاکستان دو اہم ممالک ہیں۔ پاکستان جغرافیائی طور پر جنوبی ایشیا کا اہم ترین ملک اور مسلم دنیا کی واحد ایٹمی طاقت اور مسلم دنیا کی طاقت ور ترین وار مشینری رکھنے والا ملک ہے۔ اس خطے میں پاکستان کی جغرافیائی حیثیت ایک سنگم کی سی ہے جو جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے دہانے پر بدلتی دنیا میں نیا کردار حاصل کررہا ہے۔ عوامی جمہوریہ چین کے ساتھ تعلقات اور چین کا بڑھتا ہوا عالمی کردار اِن تعلقات کو اوربھی بڑھا رہا ہے۔ ایسے ہی ترکی مشرقِ وسطیٰ کاایشیا اور یورپ کے سنگم پر واقع ملک ہے۔ تعلیم، ٹیکنالوجی اور مضبوط معیشت کے ساتھ ساتھ پاکستان کے بعد دوسری اہم جنگی مشینری رکھنے والا نیٹو کا بڑا حصہ دار ہے۔ لہٰذا ان دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات اب اس بدلتی دنیا میں ایک نیا علاقائی اور عالمی توازن بنانے میں نظرانداز نہیں کئے جاسکتے، بالخصوص مشرقِ وسطیٰ کے تیزی سے بدلتے حالات کے تناظر میں۔
اگر ہم اس جنوبی ایشیاء پر سرسری نگاہ ڈالیں تو اس پورے خطے میں اہم ترین ممالک میں چین، روس، بھارت، پاکستان اور ترکیہ یک محوریت سے کثیر المحور دنیا میں فیصلہ کن کردار ادا کرتے جا رہے ہیں۔ اس میں ترکیہ اور پاکستان تقریباً تمام علاقائی اور عالمی معاملات میں ایک صف میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ دونوں ممالک کے یہ آئیڈیل تعلقات درحقیقت ایک فطری اتحادی کے طور پر دیکھے جاسکتے ہیں۔ اگر افغانستان کے مسئلے میں ترکیہ اپنے ازبک نسلی تعلقات کے حوالے سے اور نیٹو کا رکن ہونے کے ناطے ایک خاص سیاسی مقام رکھتا ہے تو اسی طرح افغانستان، پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم ترین ستون ہے۔ 9/11 کے بعد ترکیہ اور پاکستان ، افغانستان کے مسئلے پر ایک دوست اور اتحادی کے طور پر بیشتر معاملات میں ایک موقف پر رہے اور ہم نے دیکھا کہ دونوں دوست ممالک افغانستان میں عالمی طاقتوں کی حکمت عملی کے علاوہ اپنے طور پر بھی مصروفِ کار رہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں ممالک بڑی عالمی طاقتوں کے علاوہ بھی کئی علاقائی اور عالمی معاملات کو سلجھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ترکیہ اور پاکستان متعدد شعبوں میں شریکِ کار ہیں ، خصوصاً دفاعی حوالے سے، لیکن یہ گہرے تعلقات تعلیم، صحت، صنعت، تجارت اور زراعت جیسے اہم شعبوں میں بھی گہرے باہمی تعاون تک پھیلے ہوئے ہیں۔ پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے اور پاکستان کی زراعت کو جدید بنیادوں پر کھڑا کرنے کے لئے ترکیہ کی زرعی ترقی و صنعت سازی سُود مند ثابت ہوسکتی ہے ۔ اسی طرح تعلیم و تحقیق کے شعبوں میں بھی دونوں برادر ملکوں کے درمیان تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ اگر ہمارے پالیسی ساز ادارے درج بالا تمام شعبوں میں تیزرفتاری کیساتھ باہمی تعاون بڑھانے پر مبنی پالیسیاں ترتیب دیں تو پاکستان تعلیم، زراعت، صنعت سمیت دیگر تمام شعبوں میں تعمیر و ترقی کے نئے منازل تیزی کیساتھ طے کرسکتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاک-ترکیہ تعلقات شان دار تاریخ رکھتے ہیں لیکن اہم بات یہ ہے کہ ان تعلقات کو مزید مستحکم اور نتیجہ خیز بنانے کے لئے ہمہ وقت آبیاری کی ضرورت ہے۔ دونوں برادر ملکوں کے درمیان تعلیم، صحت، ٹیکنالوجی، علمی وادبی تحقیق، زراعت ، صنعت اور آئی ٹی سمیت متعدد شعبوں میں تعاون کے وسیع تر مواقع موجود ہیں جن سے فائدہ اُٹھانے کی ضرورت ہے۔
ہر سال ترکیہ اور پاکستان کے سفارتی تعلقات کے قیام کی سالگرہ بڑے اہتمام سے منائی جاتی ہے ۔ اس روز ترک سفارتخانہ کے تعاون سے پاکستان کے مختلف شہروں میں کانفرنسز، سیمینارز کا اہتمام کیا جاتا ہے جس میں دونوں ممالک کی نامور حکومتی شخصیات، سفارت کار، دانشور، صحافی حضرات اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد بھرپور شرکت کرکے دونوں ملکوں کے برادرانہ تعلقات کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہیں۔ کچھ ایسی ہی گرمجوشی استنبول ، انقرہ اور دیگر ترک شہروں میں بھی دیکھنے کو ملتی ہے ۔ پاک-ترک تعلقات کے حوالے سے ایک فرینڈشپ گروپ “پاکستان ترکیہ پارلیمانی فرینڈ شپ گروپ” کے نام سے قائم ہے جو اِن تقاریب کو پُررونق بنانے کے لیے بھرپور کردار ادا کرتا ہے۔ ترک صدر رجب طیب اردوگان چار دفعہ اسلام آباد میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرچکے ہیں۔ اپنے تاریخی خطاب میں انہوں نے کہا کہ ترکی اور پاکستان کا تعلق کئی خصوصیات کا حامل ہے، میں ترکی سے آپ سب کے لیے محبتیں سمیٹ کر آیا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پاکستان کی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا نہ کریں گے، ہم صرف الفاظ تک ہی نہیں بلکہ حقیقی معنوں میں برادر ملک ہیں، ہم پاکستان کے غم اور خوشی میں برابر کے شریک ہوتے ہیں۔
ترک صدر رجب طیب اردوان نے کشمیر کے با معنی حل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کے یکطرفہ اقدامات سے کشمیری بھائیوں کی تکالیف میں اضافہ ہوا، مسئلہ کشمیر کا حل جبری پالیسیوں سے نہیں بلکہ انصاف سے ممکن ہے۔ پاکستان اور بھارت مذاکرات اور اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق مسئلہ کشمیر سمیت تمام مسائل کا تصفیہ کریں۔ انہوں نے پاکستان کے ساتھ وسیع تر تزویراتی اور دیگر شعبوں میں تعاون کو مزید وُسعت دینے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔ انہوں نے پاکستان کو اپنا دوسرا گھر قرار دیا۔
ترکیہ اور پاکستان یک جان دو قالب ۔ ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں 23 مارچ 2024ء کو یوم پاکستان کی مناسبت سے پر وقار تقریب منعقد کی گئی۔ آبنائے استنبول پر ایشیا کو یورپ سے ملانے والے پلوں کو پاکستانی پرچم کے رنگوں میں منور کرکے ترک قیادت اور عوام نے پاکستان سے اپنی گہری دوستی اور والہانہ محبت کا اظہار کیا۔ انقرہ میں پاکستان کے سفیر ڈاکٹر یوسف جنید نے معزز مہمانوں کی موجودگی میں پرچم کشائی اور پاکستانی صدر ، وزیراعظم کے تہنیتی پیغامات سنانے کے بعد حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان برادرانہ تعلقات صدیوں پرانے ہیں۔ انہوں نے مبارکباد کے پیغامات بھیجنے اور آبنائے استنبول پر ایشیا کو یورپ سے ملانے والے پلوں کو پاکستانی پرچم کے رنگوں میں منور کرکے یوم پاکستان کی تقریبات میں شامل ہونے پر ترک قیادت اور عوام کا شکریہ ادا کیا۔
پاکستان میں تعینات ترکیہ کے سفیر عرفان نذیر اوغلونے کچھ عرصہ پہلے ملاقات کے لیے آئے سینئر پاکستانی صحافیوں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے برادرانہ تعلقات تاریخی اہمیت کے حامل ہیں۔ ترکیہ اور پاکستان میں نوجوانوں کی آبادی میں تناسب انہیں مشترک بناتا ہے، ہم یو تھ اور ٹورازم کے شعبوں میں باہمی تعاون کو مزید مضبوط اور مستحکم بنارہے ہیں،ہم پاکستان کے ہر مکتبہ فکر کے لوگوں اور ادارہ جاتی تعاون پرکام کر رہے ہیں۔ انہوں نے نیشنل پریس کلب کے پلیٹ فارم سے بین التجارتی کانفرنسزسمیت دیگر سرگرمیوں میں حصہ لینے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔ ، انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان برادرانہ اور تاریخی تعلقات ہیں، دونوں ملکوں میں نو جوان آباد ی کا تناسب باقی ملکوں کے مقابلے میں زیادہ ہے جو ایک مثبت پہلو ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دونوں برادر ممالک کے درمیان متعدد شعبوں میں باہمی شراکت پر مبنی اعلیٰ سطحی ادارہ جاتی رابطے قائم ہیں۔
دونوں ممالک کی قیادت اور عوام کی طرف سے باہمی خیرسگالی پر مبنی تہذیب و ثقافت کے گہرے رشتوں میں بندھے تعلقات اور یہ جذبات و پیغامات پاک-ترک لازوال دوستی کی زندہ مثالیں ہیں جو کسی بھی بین الاقوامی، علاقائی مفاد سے بالاتر اور ہر گزرتے دن کیساتھ مضبوط سے مضبوط تر ہوتے جارہے ہیں۔
۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔
