پریس کانفرنس کا لب ولہجہ، باڈی لینگویج کے ساتھ پیغام رسانی اپوزیشن جماعتوں کے لئے ریڈ کارڈ

نائب امیر جماعت اسلامی، مجلسِ قائمہ سیاسی قومی اُمور کے صدر لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کا لب ولہجہ، باڈی لینگویج کے ساتھ پیغام رسانی اپوزیشن جماعتوں کے لئے ریڈ کارڈ اور یہ سیاسی میدان میں صریحاً جانبداری ہے۔ اب یہ وقت ہے کہ اپوزیشن، سیاسی جمہوری قیادت، جمہوریت پسند سول سوسائٹی کو سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا کہ اُن کے درمیان موجود اور بڑھتے فاصلے اسٹیبلشمنٹ کی طاقت بنتے جارہے ہیں۔ قومی ترجیحات کی روشنی میں آئین، جمہوریت، انتخابات، پارلیمانی نظام اور وفاق و صوبوں کے درمیان اعتماد کے رشتوں کی مضبوطی کے لئے سیاسی جمہوری قیادت اور سول سوسائٹی نمائندگان کا کم از کم قومی ایجنڈا پر اتّفاق ناگزیر ہوگیا ہے۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ ہر ادارہ آئین، قانون اور جمہوری اقدار کا پابند بنے تو ملک میں سیاسی، معاشی استحکام آئے گا۔ سیاست، جمہوریت، پارلیمانی جدوجہد میں شائستگی، جمہوری رویے، پُر امن جمہوری مزاحمت اسٹیبلشمینٹ کو کمزور کرتے ہیں۔ جیل میں بند قیدی اور سیاسی جماعتوں کی قیادت کے لئے جیل ضابطوں کے دائرے میں رہتے ہوئے ہمیشہ مُہذّب، باوقار اور ترجیحی طریقہ اختیار کیا جاتا ہے۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ ٹریفک قوانین کی پابندی حادثات سے بچاؤ کے لئے ضروری ہے لیکن حکومت کو یہ حق حاصل نہیں کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے بگڑے ہوئے، غیر مہذب، غیر قانونی مزاجوں کے ساتھ عام شہریوں، خواتین و نوجوانوں کی تذلیل کی جائے۔ سندھ اور پنجاب حکومتیں قانون کے نفاذ کے لئے انسانی تذلیل سے اجتناب کا راستہ اختیار کریں۔
لیاقت بلوچ نے جماعت اسلامی پنجاب شمالی، جنوبی، وسطی اور لاہور کے حلقہ جات کے ذمہ داران سے رابطہ کیااور 07 دسمبر کو پنجاب بھر میں بلدیاتی کالے قانون کے خلاف احتجاج اور پنجاب کے شہریوں کے لئے بااختیار بلدیاتی نظام کے حصول کے لئے طے شدہ احتجاجی پروگراموں کا جائزہ لیا۔ جماعتِ اسلامی اسلام آباد، پنجاب، سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخوا میں بااختیار بلدیاتی نظام کا نفاذ چاہتی ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں پالیسی سازی کی بجائے عوام کے شہری حقوق پر زبردستی تسلط قائم رکھنے کے لئے نوکرشاہی کو بالادست بنارہی ہیں۔ نوکرشاہی کی شہری حقوق پر بالادستی مقامی بلدیاتی نظام کی روح کے خلاف ہے۔ غیر جانبدارانہ، جماعتی بنیادوں اور مُتناسِب نمائندگی پر مبنی طریقہ انتخاب اور بااختیار بلدیاتی نظام عوام کو بااختیار بنانے اور جمہوریت کی نرسری کو مضبوط کرنے کا ذریعہ بنے گا۔ طاقت کی زبان، تشہیری سیلاب لانے سے استحکام نہیں آئے گا