نائب امیر جماعت اسلامی، سیکرٹری جنرل ملی یکجہتی کونسل لیاقت بلوچ نے سینئر بزرگ رہنماؤں پیر عبدالرحیم نقشبندی اور پیر ذوالفقار احمد نقشبندی کے انتقال پر دلی تعزیت اور رنج و صدمہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں بزرگ عالمِ باعمل اور مجاہدِ ختمِ نبوت(ص) تھے. اہلِ اسلام کے اندراتحادِ اُمت کے لئے کوشاں اور اپنے وابستگان کو قرآن و سُنت کی روشنی میں زندگی گزارنے کی تبلیغ و تربیت کے حوالے سے اُن کی خدمات مثالی تھیں. عالمِ باعمل ہی ملک و مِلّت کا بڑا سرمایہ ہوتے ہیں. عالِمِ باعمل کی موت سے اسلامی معاشرے میں ایسا خلاء پیدا ہوجاتا ہے جو عرصہ تک پورا نہیں کیا جاسکتا.
لیاقت بلوچ نے آسٹریلیا میں یہودیوں کی تقریب پر دہشت گرد حملے کی مذمت کی اور مسلم آسٹریلوی شہری کی جرآت مندی انسانیت کا مثالی کردار بن گئی. دہشت گردی کسی فرد، گروہ یا ریاستی طاقت کے ناجائز استعمال کے ذریعے ہو یا پھر کسی بھی مذہب کا لبادہ اوڑھ کر کی جائے، ہر طرح سے قابلِ مذمت اور انسانی معاشرے کے لئے زہرِ قاتل ہے. اسرائیل کے دہشت گرد حکمران معصوم فلسطینیوں پر ظلم کے پہاڑ توڑکر خود یہودیوں کے لئے دُنیا بھر میں خطرناک صورتِ حال پیدا کرچکے ہیں. دہشت گردی نہتے انسانوں سے آزادی چھین کر اُن پر قتل و غارت گری مسلط کرنے کا انسانیت کُشی پر مبنی نظام ہے، جو عالمی امن کے لئے ایک روگ ہے. عالمِ اسلام کی قیادت اور اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی و سلامتی کونسل دُنیا مین امن کے قیام اور انسانوں پر ظلم، ناانصافی مسلط کرکے اُن سے آزادی و مساوات کا حق چھیننے ہر مبنی یہ ظالمانہ نظام ختم کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں اور دُنیا کو تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے انسانوں کے لئے امن کا گہوارہ بنائیں.
لیاقت بلوچ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 16 دسمبر سقوطِ ڈھاکہ ایسی فضا میں آرہا ہے کہ دو قومی نظریہ کے دشمن ہندوستان کے آلہ کار بنگلہ دیشی حکمران نشانِ عبرت بن چکے اور بنگلہ دیش کے عوام نے اپنی آزادی کے حقیقی مقاصد کے لئے نیا منظر اور ماحول پیدا کردیا ہے. 16 دسمبر سقوطِ مشرقی پاکستان کی المناک کہانی ہے لیکن بنگلہ دیش اور پاکستان کے مضبوط ہوتے تعلقات اور دونوں برادر ممالک کے خلاف ہندوستانی شیطانی عزائم بےنقاب ہوگئے ہیں اور دونوں ممالک اپنے مشترکہ دشمن کو اچھی طرح پہچان گئے ہیں. پاکستان اور بنگلہ دیش کی قیادت اور عوام تعلقات کی بااعتماد بلندی چاہتے ہیں. بنگلہ دیش میں غیرجانبدارانہ انتخابات خود بنگلہ دیش کے لئے استحکام و ترقی کا ذریعہ بنے گا.
لیاقت بلوچ نے جماعتِ اسلامی پنجاب کے قائدین محمد جاوید قصوری، ڈاکٹر طارق سلیم، سید ذیشان اختر، ضیاء الدین انصاری سے رابطہ اور گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے عوام طویل مدت سے بلدیاتی شہری حقوق سے محروم رکھے گئے ہیں. بےاختیار بلدیاتی نظام کالا قانون اور پنجاب کے 12 کروڑ عوام کے ساتھ سنگین دھوکہ ہے. اس کالے قانون کے خلاف 21 دسمبر کو ڈویژنل ہیڈکوارٹر پر پُرامن عوامی احتجاجی دھرنے ہوں گے. جماعتِ اسلامی اسلام آباد اور چاروں صوبوں میں بااختیار مقامی حکومتوں کا نظام چاہتی ہے اور عوام کے حقوق کے حصول کے لئے عوام کے تعاون سے جدوجہد جاری رہے گی. پنجاب کے قائدین نے آگاہ کیا کہ تمام ڈویژنل ہیڈکوارٹر پر دھرنوں کی بھرپور تیاریاں جاری ہیں، عوام اپنے شہری حقوق کی بازیابی کے لئے پُرجوش ہیں. حکمرانوں نے عوام کی آواز نہیں سنی تو عوام کا سمندر اُنہیں اقتدار کے ایوانوں سے نکال باہر کردے گ
