نائب امیر جماعتِ اسلامی، سیکرٹری جنرل مِلی یکجہتی کونسل لیاقت بلوچ سے وفاق المدارس عربیہ اور اتحاد مدارسِ دینیہ کے سیکرٹری جنرل قاری محمد حنیف جالندھری نے فون پر رابطہ کیا اور 22 دسمبر کو کراچی میں دینی قومی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی۔ تحریک تحفظِ آئینِ پاکستان اور پاکستان تحریکِ انصاف کے کوآرڈی نیٹر حسین اخوندزادہ نے بھی لیاقت بلوچ سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور کہا کہ مرکزی وفد ملاقات کرنا چاہتا ہے۔ لیاقت بلوچ نے لاہور میں سیاسی مشاورتی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیاست میں شدت، بےمقصدیت، عدم مفاہمت اور انانیت نے حالات کو بند گلی میں دھکیل دیا ہے۔ قومی سیاسی قیادت کو ہی اتحادی سیاست سے چھٹکارا پاکر قومی ترجیحات پر قومی اتفاق، رائے کے لئے قومی ڈائیلاگ کرنا ہوگا۔ قدم بہ قدم حالات سیاست دانوں، سیاسی جماعتوں اور جمہوریت کے دعویداروں کے ہاتھ سے پھسلتے جارہے ہیں۔ پُرامن سیاسی جمہوری مزاحمت ہی سیاست و جمہوریت کی طاقت ہے، قانون شکنی کے نتیجے میں ریاست پر قابض قوتیں اندھی طاقت کے استعمال سے ہر قانون کو پاش پاش کردیتی ہیں۔ 9 مئی، 26 نومبر کے بعد 27 ویں آئیی ترمیم کے بعد چیف آف ڈیفنس فورسز کی تقرری پر سوشل میڈیا پر فاؤل پلے نے ریاستی قوتوں کو پھر من مانی کا موقع فراہم کردیا۔
لیاقت بلوچ نے علماء کرام کے وفد اور بلوچستان کے لاہور میں زیرتعلیم طلبہ کے وفد کے سوالات کے جواب میں کہا کہ 16 دسمبر کا دِن پوری قوم کو پیغام دے رہا ہے کہ دوقومی نظریہ ہی وحدت، یکجہتی، ترقی کی اہم ترین بنیاد ہے۔ 1971ء کے بعد 16 دسمبر 2025ء کے دن پاک-بنگلہ دیش تعلقات کا قرب دونوں ملکوں کے عوام کے لئے نیا طاقت ور پیغام ہے۔ سیاسی، اقتصادی، آئینی، عدالتی اور سماجی سطح پر مضبوط پاکستان عالمِ اسلام کی بڑی طاقت بن سکتا ہے۔ اسرائیل، انڈیا عالمی دہشت گرد ہیں، دُنیا میں ہر دہشت گردی کے ماسٹر مائنڈ امریکہ کے آلہ کار ہیں۔ افغانستان میں امریکہ اسلحہ چھوڑکر کیوں گیا؟ دہشت گردی کی بنیاد تو خود امریکہ نے مہیا کی ہے۔ طالبان حکومت انڈیا، اسرائیل نہیں خطہ میں پاکستان اور ایران کے دوست بنیں۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ پاکستان کے عوام میں سقوطِ مشرقی پاکستان کی طرح 16 دسمبر سانحہ آرمی پبلک سکول کا صدمہ بھی قومی سانحہ کی حیثیت رکھتا ہے۔
لیاقت بلوچ نے پنجاب کے قائدین ڈاکٹر طارق سلیم، محمد جاوید قصوری، سید ذیشان اختر، ضیاء الدین انصاری سے رابطے کئے، 21 دسمبر کو تمام ڈویژنل ہیڈکوارٹرز پر بلدیاتی کالے قانون کے خلاف پُرامن احتجاجی دھرنے ہونگے۔ پنجاب کے عوام کے لئے بااختیار بلدیاتی نظام لانا جماعتِ اسلامی کی جدوجہد کا وژن ہے۔ پنجاب حکومت دیگر صوبوں کے لئے بھی مثال بنے اور پنجاب کا بلدیاتی نظام بااختیار بنائے۔ بلدیاتی انتخابات جماعتی بنیادوں پر، ضلعی میٹروپولیٹن اور سٹی کارپوریشنز بحال کی جائیں، بلدیاتی اداروں کو وسائل کی فراہمی اور آڈٹ کا شفاف نظام، میئر، چیئرمین کا انتخاب براہِ راست عوام کے ووٹ کے ساتھ ہو۔ جماعتِ اسلامی بااختیار بلدیاتی نظام، بااختیار عوام کی جدوجہد جاری رکھے گی۔#
